پاکستان
پاکستان کی ثالثی اور عالمی امن
تحریر: سید شجر عباس
پاکستان کی ثالثی اور بہترین سفارتکاری آج کے عالمی منظرنامے میں ایک ایسے موضوع کے طور پر ابھری ہے جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا شدید کشیدگی، جنگی خطرات اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی، پاکستان نے جس تدبر، حکمت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وہ یقیناً قابلِ ذکر اور قابلِ تجزیہ ہے۔
امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، جو تقریباً چالیس دنوں تک ایک شدید جنگی ماحول میں تبدیل ہو چکی تھی، نے عالمی نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔اس جنگی فضا کے اثرات محض ان ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عالمی معیشت کو شدید متاثر کیا۔
تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، سرمایہ کاری میں کمی اور توانائی کے بحران نے دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں قیمتی جانیں اس کشیدگی کی نذر ہوئیں، جبکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستیں، شدید مالی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔
ایسے میں ہر ملک اپنی بقا کی جنگ لڑتا دکھائی دے رہا تھا اور کوئی بھی اس قابل نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس بحران کو کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ یہی وہ موقع تھا جب پاکستان نے ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ پاکستان خود اندرونی چیلنجز، دہشت گردی کے خطرات، معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کا سامنا کر رہا تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اختیار کی جس کا مقصد صرف اور صرف کشیدگی کو کم کرنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ابتدائی طور پر عالمی سطح پر اس اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماں کے بغیر زندگی ادھوری ہے
مبصرین کا خیال تھا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے امریکہ اور ایران جیسے بڑے اور متحارب فریقین کے درمیان ثالثی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن پاکستان نے نہ صرف اس چیلنج کو قبول کیا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنی سنجیدگی کا ثبوت بھی دیا۔
اسلام آباد میں “اسلام آباد ٹاکس” کے نام سے ہونے والے مذاکرات اس سلسلے کی پہلی بڑی پیش رفت تھے۔ امریکہ اور ایران کے وفود کو ایک میز پر بٹھانا بذات خود ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ یہ مذاکرات اکیس گھنٹے تک جاری رہے، جس کے دوران کئی اہم نکات پر بات چیت ہوئی۔
اگرچہ ابتدائی طور پر یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، لیکن انہوں نے ایک ایسی بنیاد فراہم کی جس پر آئندہ پیش رفت ممکن ہو سکی۔ جب یہ مذاکرات بغیر کسی واضح نتیجے کے ختم ہوئے تو عالمی سطح پر مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ ناقدین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اب جنگ مزید شدت اختیار کرے گی اور شاید دنیا ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لیکن پاکستان نے اس موقع پر ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر دیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کے اہم ممالک کے دورے کیے۔ سعودی عرب، قطر اور ترکی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں نہ صرف صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا بلکہ ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان دوروں کا مقصد یہ تھا کہ ایک وسیع تر علاقائی حمایت حاصل کی جائے اور امن کے قیام کے لیے ایک اجتماعی آواز بلند کی جائے۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک نہایت جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے ایران کا دورہ کیا۔ ایسے حالات میں جب ایران میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور کئی ممالک وہاں جانے سے گریزاں تھے، یہ دورہ پاکستان کے عزم اور سنجیدگی کا واضح ثبوت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا
تہران میں ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں نہایت حساس اور اہم معاملات زیر بحث آئے۔ایران کے تحفظات، امریکہ کے مطالبات اور خطے کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔
ان مذاکرات میں چند اہم نکات سامنے آئے، جن میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر پیش رفت شامل تھی۔ یہ تمام نکات نہایت پیچیدہ اور حساس نوعیت کے تھے، لیکن پاکستان کی سفارتکاری نے ان پر بات چیت کا راستہ ہموار کیا۔
بالآخر، تیسر ی عالمی جنگ کے منڈلاتے ہوئے بادل ٹل گئے ۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں سکون کی ایک لہر دوڑا دی۔ عالمی مبصرین، جو ابتدا میں پاکستان کے کردار پر شکوک کا اظہار کر رہے تھے، اب اس کی سفارتی کامیابی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔امریکی قیادت، بشمول صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے ایک مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو عالمی سطح پر پذیرائی ملنا پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔یہ تمام صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو ایک نئے رخ پر ڈال رہا ہے۔ ماضی میں جہاں پاکستان کو زیادہ تر سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، وہیں اب وہ خود کو ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
یہ تبدیلی نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنا سکتی ہے بلکہ اس کے معاشی اور سفارتی مفادات کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا نہ ہوگا کہ پاکستان کی ثالثی اور بہترین سفارتکاری نے دنیا کو ایک اہم پیغام دیا ہے—کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر نیت صاف ہو اور حکمت عملی مؤثر ہو تو امن کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس عزم اور بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ یقیناً آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ یہ وہ کردار ہے جسے نہ صرف یاد رکھا جائے گا بلکہ ایک مثبت اور روشن مستقبل کی بنیاد کے طور پر بھی یاد کیا جاتا رہے گا
-
پاکستان1 مہینہ agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان4 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان7 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان1 مہینہ agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

