تازہ ترین
“اَماں جندو” خاموشی کی صدا- از زوار عبدالستار درس
تحریر :مبشر میر،صدر کراچی ایڈیٹرز کلب
ادب جب اپنے عہد کی گواہی بنتا ہے تو وہ محض کہانی نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی دستاویز میں ڈھل جاتا ہے۔ مائی جندو اسی نوع کی ایک تحریر ہے، ایک ایسی داستان جو طاقت کے ایوانوں کے مقابل ایک بے سروسامان مگر باوقار ماں کی استقامت کو تاریخ کے حاشیوں سے اٹھا کر متن میں لے آتی ہے۔ یہ کہانی کسی فردِ واحد کی نہیں، ایک اجتماعی دکھ، ایک اجتماعی مزاحمت اور ایک خاموش بغاوت کی علامت ہے۔
زوارعبدالستار درس نے مائی جندو کو محض ایک کردار کے طور پر نہیں برتا، بلکہ اسے ایک تہذیبی استعارہ بنا دیا ہے—وہ استعارہ جس میں ماں کی ممتا، محرومی کا کرب اور حاصلاتِ انصاف کی جستجو ایک ہی سانس میں سمٹ آتے ہیں۔ ان کی نثر میں کوئی مصنوعی تزئین نہیں، مگر ایک داخلی وقار اور دردمندی ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ جملے سادہ ہیں، مگر ان کی تہہ میں ایک ایسا ارتعاش ہے جو دیر تک ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔

مائی جندو کی عظمت اس کی کمزوری میں مضمر ہے۔ وہ نہ صاحبِ اختیار ہے، نہ صاحبِ اقتدار- مگر اس کے پاس ایک سچ ہے اور اسی سچ کے سہارے وہ طاقت کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو گئی تھی ۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک عام عورت، تاریخ کے غیر مرئی اوراق میں ایک غیر معمولی وجود میں ڈھل گئی ۔ اس کی جدوجہد شور سے عاری ہے، مگر اس کی بازگشت کہیں زیادہ گہری اور پائیدار ہے۔
عدالتیں- جہاں قانون کی زبان میں فیصلے رقم کرتی ہیں، وہیں انسانی دکھ کی بے شمار کہانیاں بھی جنم لیتی ہیں۔ ان ہی راہداریوں میں مائی جندو جیسی مائیں اپنے قدموں کی چاپ چھوڑتی ہیں، اپنے آنسوؤں سے انصاف کے دروازوں کو دھوتی ہیں، اور امید کے چراغ کو بجھنے نہیں دیتیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ کردار ہمارے اجتماعی حافظے میں مستقل جگہ نہیں بنا پاتے۔ نہ کوئی تمغہ، نہ کوئی سرکاری اعتراف- صرف خاموشی۔
یہ خاموشی کیوں؟
یہ سوال اس کتاب کے متن سے زیادہ اس کے پسِ متن میں گونجتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لیتے ہیں جہاں طاقت کی کہانیاں تاریخ بن جاتی ہیں اور مزاحمت کی کہانیاں حاشیہ۔ ہم ان کرداروں کو سراہتے ہیں جو ہمارے بیانیے کے مطابق ہوں، مگر جو کردار ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں انہیں ہم نظرانداز کر دیتے ہیں۔ مائی جندو کو اعزاز نہ ملنا محض ایک فرد کی محرومی نہیں بلکہ یہ ہمارے اجتماعی شعور کی کمزوری کا اظہار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کتاب “اماں جندو” پر تبصرہ- جدوجہد، درد اور تاریخ کا زندہ نوحہ
زوارعبدالستار درس کی تحریر اس خاموش ناانصافی کو نہایت مہذب مگر انتہائی مؤثر انداز میں بے نقاب کرتی ہے۔ وہ کہیں خطابت نہیں کرتے، کہیں نعرہ نہیں لگاتے مگر ان کی ہر سطر ایک سوال بن کر ابھرتی ہے۔ کیا ریاست اور سماج کی نظر میں بہادری کا پیمانہ صرف طاقت ہے؟ کیا ایک ماں کی استقامت، اس کی قربانی، اس کی مسلسل جدوجہد کسی اعزاز کی مستحق نہیں؟
“مائی جندو” دراصل ایک اخلاقی آئینہ ہے جو ہمیں ہمارا ہی چہرہ دکھاتا ہے، ہماری ترجیحات، ہماری بے حسی اور ہماری یادداشت کی کمزوری۔ یہ کتاب ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے ہیروز کے تصور پر نظرِ ثانی کریں۔ کیا ہیرو وہی ہے جس کے پاس اختیار ہو، یا وہ بھی جو بے اختیار ہو کر بھی حق پر ڈٹا رہے؟
اس کہانی کا سب سے بڑا وصف اس کی صداقت ہے- یہ بناوٹ سے پاک، جذبات سے لبریز اور حقیقت سے قریب تر ہے۔ یہی اس کی ادبی قوت بھی ہے اور اخلاقی جواز بھی۔ مائی جندو ایک کردار نہیں رہی، ایک استعارہ بن چکی ہے- ہر اس ماں کا، ہر اس انسان کا، جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔
آخرکار، یہ کتاب ایک خاموش نوحہ بھی ہے اور ایک باوقار احتجاج بھی۔
نوحہ اس بات کا کہ، ہم اپنے اصل ہیروز کو پہچان نہیں پاتے۔
اور احتجاج اس بات پر کہ، پھر بھی وہ ہیروز، بغیر کسی صلے کے، تاریخ کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
“مائی جندو” ہمیں صرف ایک کہانی نہیں سناتیں- یہ ہمیں اس کٹہرے میں لاکر کھڑا کرتی ہیں جس میں پورا معاشرہ جواب ده ہے
-
پاکستان3 ہفتے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان3 ہفتے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 ہفتے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

