تازہ ترین
کتاب “اماں جندو” پر تبصرہ- جدوجہد، درد اور تاریخ کا زندہ نوحہ
تحریر: سید منظر نقوی ،سیکریٹری جنرل، کراچی ایڈیٹرز کلب
سندھ کی تاریخ میں کئی ایسے واقعات اور کردار موجود ہیں جو وقت کے گردوغبار میں دب کر رہ گئے ہیں مگر ان کی گونج آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔ زوار عبد الستار درس کی تصنیف “اماں جندو” ان ہی بھولی بسری داستانوں کو ایک بار پھر زندہ کرنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ تحسین کوشش ہے۔
زوار عبد الستار درس، جو اب تک 178سے زائد کتب کے مصنف ہیں اور جن کی تحریریں صوفی ازم، علاقائی تاریخ، سندھ کی تہذیب اور مہاراجہ داہر جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، اس کتاب میں ایک نہایت حساس اور دردناک باب کو اجاگر کرتے ہیں۔

“اماں جندو” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک تاریخی شہادت ہے۔ یہ کتاب ایک ایسی مظلوم عورت کی کہانی بیان کرتی ہے جس کی جدوجہد، قربانی اور ظلم کے خلاف استقامت ایک مثال بن گئی۔
مصنف نے نہایت باریک بینی سے واقعات کو یکجا کیا ہے، جن میں عدالتی کارروائیاں، سماجی ردعمل، اور سرکاری نظام کی خامیاں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں۔ کتاب کے صفحات میں موجود تفصیلات اور حوالہ جات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ محض ایک داستان نہیں بلکہ ایک مستند تاریخی ریکارڈ ہے، جسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا گیا ہے ۔
اس کتاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں نہ صرف ایک فرد کی داستان سناتی ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام کا آئینہ بھی دکھاتی ہے۔ اماں جندو کی جدوجہد دراصل ان تمام مظلوموں کی نمائندگی کرتی ہے جو انصاف کی تلاش میں برسوں دربدر رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:“اَماں جندو” خاموشی کی صدا- از زوار عبدالستار درس
کتاب میں اس بات کو بڑی جرات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح انصاف کے ادارے، سماجی ڈھانچے اور انتظامی نظام بعض اوقات ناکام ہو جاتے ہیں اور ایک عام انسان کو اپنی آواز بلند کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔
زوار عبد الستار درس کی یہ کاوش اس لیے بھی قابلِ قدر ہے کہ انہوں نے ایک ایسے موضوع کو چنا جس پر لکھنا آسان نہیں تھا۔
یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کی نہیں ہوتی بلکہ عام لوگوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے بھی تشکیل پاتی ہے۔ مصنف نے جس انداز میں اس واقعے کو بیان کیا ہے، وہ نہ صرف دل کو متاثر کرتا ہے بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ ہم بطور معاشرہ کہاں کھڑے ہیں۔
کتاب کی زبان سادہ مگر اثر انگیز ہے، جس کی وجہ سے ہر طبقے کا قاری اس سے جُڑ سکتا ہے۔ مصنف نے پیچیدہ حقائق کو بھی اس انداز میں پیش کیا ہے کہ وہ نہ صرف قابلِ فہم ہوں بلکہ قاری کے دل پر نقش بھی ہو جائیں۔ یہی خوبی اس کتاب کو عام تاریخی کتب سے ممتاز بناتی ہے۔
خصوصاً سندھ کے عوام کے لیے یہ کتاب ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف ان کی تاریخ کا حصہ ہے بلکہ ان کے اجتماعی شعور کو بھی تقویت دیتی ہے۔ اماں جندو کی داستان آنے والی نسلوں کو یہ سبق دے گی کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا کس قدر ضروری ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ “اماں جندو” ایک ایسی تصنیف ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ زوار عبد الستار درس نے اس کتاب کے ذریعے ایک خاموش داستان کو پُراثر آواز بخشی ہے اور ایک مظلوم کی جدوجہد کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے۔ ان کی یہ کاوش نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے ادبی اور تاریخی سرمایہ میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے، جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
-
پاکستان3 ہفتے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان3 ہفتے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 ہفتے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

