Connect with us

تازہ ترین

واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!

Syed Arshad Ali Naqvi

ایک تحقیقی جائزہ سلسلہ نمبر 5

تحریر: سید ارشد علی نقوی

ایام حج میں حج کو چھوڑ کر کربلا کی طرف سفر اختیار کرنے کے اسباب و علل اور حکمت عملی کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے
8 ذوالحجہ 60 ہجری کو مکہ سے عراق روانگی سے پہلے آپ نے حج کا ارادہ کیا تھا لیکن آپ نے اپنے خواب میں دیکھا کہ آپ حج نہیں کر پائیں گے۔ اس کے باوجود آپ نے حج کا احرام باندھا، لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ مکہ میں دشمن کے سپاہی حاجیوں کے بھیس میں آپ کو قتل کرنے کے درپے ہیں تو آپ نے احرام حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کسی طور بھی یزید کی بیعت نہیں کرنا چاہتے اور اگر وہ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو کریں، لیکن آپ کبھی بھی ذلت اور رسوائی کو قبول نہیں کریں گے۔

پس مکہ سے ہجرت کا عمیق اور تحقیقی نظر سے تجزیہ کریں تو مکہ چھوڑنے کی درج ذیل وجوہات سامنے آتی ہیں۔

پہلی وجہ خانہ کعبہ کی حرمت کا تحفظ تھا کیوں کہ اگر حرم مکہ میں خونریزی ہوتی تو خانہ کعبہ کی بے حرمتی ہوتی، جسے فرزند رسول اعظم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کسی صورت بھی گوارہ نہیں کر سکتے تھے۔

دوسری وجہ یزید کی طرف سے بھیجے گئے قاتلوں کا خوف کیوں کہ یزید نے حکم دے رکھا تھا کہ حج کے موقع پر حجاج کی بھیڑ میں امام حسین علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے تاکہ قاتل کی تشخیص نہ ہو پائے ۔

تیسری وجہ اتمام حجت تھی کہ اگر امام لوگوں تک حق و حقیقت پہنچائے بنا ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر مکہ میں ہی شہید کر دیے جاتے تو لوگوں پر حجت تمام نہ ہوتی۔

چوتھی وجہ کوفہ والوں کی دعوت تھی۔ اہل کوفہ کے مسلسل خطوط ملنے پر ان کی دعوت قبول کرنا بھی اخلاقی و شرعی تقاضہ تھا

صدق خلیل بھی ہے عشق ، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق

امام حسین علیہ السلام کا 60 ہجری میں مکہ مکرمہ میں قیام درحقیقت آپ کی اس آفاقی تحریک کی تیاری کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ اس قلیل مدتی قیام میں آپ نے جو کام انجام دیے، انہیں درج ذیل نکات کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے:

سیاسی طور پر آپ نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے باطل حکومت کے خلاف مزاحمت کی راہ ہموار کی اور مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی۔

دینی طور پر آپ نے اپنے خطابات اور وصیت کے ذریعے دین کی صحیح تعلیمات کو اجاگر کر کے احیائے دین کا فریضہ انجام دیا

۔
معاشرتی طور پر آپ نے اخلاقی اقدار، خاندانی نظام اور معاشرتی مساوات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

تاریخی طور پر آپ نے ثابت کیا کہ حق اور باطل کی جنگ میں حق ہمیشہ سرخرو ہوتا ہے، چاہے اس کے چاہنے والوں کی تعداد کم ہی کیوں نہ ہو۔

8 ذوالحجہ 60 ہجری کو امام حسین علیہ السلام نے اپنے خاندان اور اصحاب کے ہمراہ مکہ مکرمہ سے کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر انتہائی پرخطر اور نازک حالات میں طے پایا جہاں قدم قدم پر جان لیوا خدشات و خطرات منڈلا رہے تھے ۔ اس سفر میں آپ علیہ السلام کی متعدد شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں اور آپ علیہ السلام نے کئی خطوط لکھے اور کئی وصول فرمائے۔ ملاقات کرنے والے افراد اور ملنے والے خطوط میں ہر ایک کا سیاسی، معاشرتی اور دینی اعتبار سے سوچ کا زاویہ مختلف تھا۔
مکہ سے روانگی کے بعد پہلا اہم واقعہ مقام ”صفاح“ پر مشہور عرب شاعر فرزدق (ہمام بن غالب) سے ملاقات تھی۔

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!سلسلہ چہارم

فرزدق نے امام علیہ السلام کو بتایا کہ لوگوں کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں بنی امیہ کے خلاف نہیں اٹھیں گی۔ اس نے مزید کہا کہ ”اہل کوفہ آپ کو خطوط لکھ کر بلا رہے ہیں، لیکن آپ وہاں نہ جائیں۔“

امام حسین علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ اللہ جو چاہے گا، وہی ہوگا۔ فرزدق نے عرض کیا کہ ”کیا آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر جا رہے ہیں اور اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں؟“ جس کے جواب میں امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کی جو بھی مرضی ہو، وہ ہو کر رہے گی۔ اس ملاقات کے بعد فرزدق نے خود کو امام علیہ السلام کے قافلے میں شامل نہیں کیا تنہا ہی واپس چلا گیا۔

مقام ”ذات عرق“ پر امام حسین علیہ السلام کی ملاقات اپنے بہنوئی عبداللہ بن جعفر (حضرت علیؑ کے بھتیجے) سے ہوئی، جو اپنے دو بیٹوں عون اور محمد کے ہمراہ آپ کے پاس پہنچے تھے۔

عبداللہ بن جعفر نے حاکم مکہ عمرو بن سعید سے امام عالی مقام کے لیے ایک امان نامہ لکھوایا تھا اور اسے امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ اس امان نامے میں تحریر تھا کہ امام بیت اللہ کی پناہ میں ہیں اور انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ اللہ کی پناہ اس امان نامے سے بہتر ہے۔

اسی اثنا میں عبداللہ بن جعفر نے امام سے اپنے دونوں بیٹوں کو بھی ساتھ لے جانے کی اجازت مانگی، لیکن امام علیہ السلام نے نہ صرف انہیں اپنے پاس روک لیا بلکہ فرمایا: ”اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو ان بچوں کی ماں کے پاس کون رہ جائے گا؟“

امام حسین علیہ السلام نے اس سفر میں متعدد خطوط لکھے، جن میں اہم یہ ہیں:

اس سفر میں امام عالی مقام نے مکہ سے ہی بصرہ کے پانچ بڑے سرداروں کو خط لکھا تھا، تاکہ وہ بھی آپ کی دعوت پر لبیک کہیں۔ ان سرداروں میں مالک بن مسمع بکری، احنف بن قیس، منذر بن جارود، مسعود بن عمرو اور قیس بن ہیثم شامل تھے۔
تمام سرداروں نے یہی جواب دیا کہ ان کے دل تو امام علیہ السلام کے ساتھ ہیں مگر ان کے حاکم نے انہیں سزا دے رکھی ہے، اس لیے وہ کچھ نہیں کر سکتے۔

اس خط و کتابت نے امام عالی مقام کے لیے یہ واضح کر دیا کہ بصرہ سے کسی قسم کی عملی مدد متوقع نہیں ہے۔
جب امام حسین علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ کوفہ کی طرف بڑھنا ضروری ہے تو آپ نے قیس بن مسہر صیداوی کو ایک خط دے کر کوفہ روانہ کیا۔ اس خط میں آپ نے اہل کوفہ کو ان کے خطوط کی یاد دہانی کرائی اور انہیں اپنی مدد کی طرف بلایا۔

ادھر دوسری طرف جب مسلم بن عقیل نے کوفہ میں اٹھارہ ہزار سے زائد افراد سے بیعت لے لی، تو انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھ کر فوراً کوفہ آنے کی درخواست کی۔ اس خط کو پڑھ کر امام علیہ السلام نے کوفہ جانے کا فیصلہ کیا۔

مقام ”زبالہ“ پر آپ کو معلوم ہوا کہ کوفہ میں آپ کے بھائی اور ایلچی مسلم بن عقیل کو شہید کر دیا گیا ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام نے آیت استرجع کی تلاوت فرمائی : ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ اور اپنے ارادے پر مزید پختہ ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!سلسلہ سوم

قصر بنی مقاتل کے مقام پر امام حسین علیہ السلام کی ملاقات عبیداللہ بن حر جعفی سے ہوئی، جو ایک بااثر اور دولت مند شخص تھا۔ اس نے امام عالی مقام کو سلام کیا اور پوچھا: ”آپ یہاں کیسے آ گئے؟“ مگر جب امام علیہ السلام نے اسے ساتھ چلنے کی دعوت دی تو اس نے انکار کر دیا اور بہانے بنانے لگا۔ عبیداللہ بن حر جعفی کے انکار نے امام علیہ السلام کے لیے یہ بات مزید واضح کر دی کہ دولت مند اور بااثر لوگ اپنی جان کے ڈر سے ساتھ نہیں دیں گے۔

دورانِ سفر راستے میں مشہور شاعر کمیت اسدی نے بھی امام علیہ السلام سے ملاقات کی۔ کمیت اسدی نے امام حسین علیہ السلام کی شان میں اشعار پڑھے اور ان سے عقیدت کا اظہار بھی کیا تاہم ساتھ نہ دیا ۔

جب امام حسین علیہ السلام منزل قادسیہ پہنچے تو عبداللہ بن مطیع (جو کوفہ کا گورنر تھا) نے آپ کو روکنے کی کوشش کی۔ اس نے امام کو بتایا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا ہیں اور وہاں آپ کو نقصان پہنچے گا۔ امام نے اسے جواب دیا کہ اللہ نے جو مقدر کر رکھا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔

اگر ان معاملات کا سیاسی، معاشرتی اور دینی اعتبار سے تحقیقی تجزیہ کیا جائے تو چند چیزیں مزید روشن ہوتی ہیں
سیاسی پہلو سے حکومت کو چیلنج کیا گیا۔ ہر ملاقات میں امام حسین علیہ السلام نے یزید کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
امان نامے کا رد کرنا بھی اک طرفہ سیاسی پہلو رکھتا ہے ، حاکم مکہ کے امان نامے کو مسترد کر کے امام علیہ السلام نے ثابت کیا کہ وہ کسی سیاسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

مسلم بن عقیل کے خط کے بعد فرزند رسول علیہ السلام پر حالات کی تلخی مزید واضح ہو گئی مگر اس کے باوجود کوفہ جانے کا فیصلہ امام حسین علیہ السلام کا ایک سیاسی اقدام بھی تھا، جس کا مقصد لوگوں کو ان کے وعدوں پر پرکھنا تھا۔

معاشرتی اعتبار سے کربلائی تحریک حقوق و فرائض و تمدن و اخلاق کا اعلیٰ ترین امتزاج ہے ، یہ معاشرتی اقدار کی پاسداری ہی تھی کہ عبداللہ بن جعفر کی درخواست پر اپنے بھانجوں کو ساتھ لے جانے کا فیصلہ امام حسین علیہ السلام کی خاندانی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی عکاسی کرتا ہے۔

قافلہ حسینی میں کہیں بھی طبقاتی تفریق کا شائبہ نہیں ملتا جب کہ امام حسین علیہ السلام نے ہر مقام پر لوگوں کو طبقاتی تفریق سے بچنے اور سب کو اسلامی تعلیمات کے مطابق برابر کا درجہ دینے کی تلقین کی۔

فرزدق، کمیت اسدی اور عبداللہ بن مطیع سے ملاقاتیں امام کی عوامی بیداری کے لئے کی جانے والی کوششوں کا حصہ تھیں۔
دینی پہلو سے دیکھا جائے تو تمام تر حسینی تحریک احیائے دین کے لئے تھی امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطوط میں لوگوں کو دین کی صحیح تعلیمات کی طرف بلایا۔

عبادت خدا کی ترغیب و تبلیغ کے پہلو سے دیکھیں تو حج کے ایام میں امام عالی مقام نے کئی مقامات پر لوگوں کو عبادت کی ترغیب دی اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اپنے دین کو سنبھالو۔ بے شک تمہارے پیغمبر کا طریقہ یہی ہے۔“
بنو امیہ نے دین محمدی میں بدعتوں کو رواج دیا اور فرزند رسول علیہ السلام نے ان برائیوں کا رد فرمایا جیسا کہ امامِ مظلوم نے بہت سے مقامات پر لوگوں کو بنی امیہ کی بدعات سے آگاہ فرمایا اور انہیں ان سے بچنے کی تلقین فرمائی۔

نظریاتی پہلو سے تجزیہ کیا جائے تو امام حسین علیہ السلام کی اس تحریک میں نظریاتی استقلال بدرجہ اتم دکھائی دیتا ہے مثلاً تمام ملاقاتوں اور خطوط میں امام عالی مقام کا ایک ہی نظریاتی مؤقف نظر آتا ہے "ظلم کے خلاف قیام اور اسلام کی حقیقی روح کو زندہ کرنا۔”

اک اور پہلو امامت و خلافت کے تصور کی شفافیت ہے تاریخ نے ثابت کیا کہ امام عالی مقام نے الہی منصب امامت کے تحت اپنے فرائض انجام دیے، نہ کہ صرف ایک سیاسی رہنما کی حیثیت سے۔

راہ خدا میں شہادت کی عظمت کے تصور کو سامنے رکھ کر مطالعہ کیا جائے تو ہر مشکل مرحلے پر امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو شہادت کی فضیلت سے روشناس کرایا جیسا کہ فرمایا: ”موت تو ہر شخص آنکھوں سے دیکھے گا، لیکن شہادت کا مقام بہت بلند ہے۔“

امام حسین علیہ السلام کی مقدس تحریک کا امتیازی پہلو رسالت محمدی سے اتصال ہے امام علیہ السلام نے اپنے خطوط اور گفتگو میں اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کا نواسہ اور ان کا جانشین اور وارث قرار دے کر اپنے نظریاتی مؤقف کی بنیاد رکھی۔

آخر میں ہم دیکھتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کا مکہ سے کربلا تک کا سفر مختلف ملاقاتوں اور خطوط سے عبارت ہے، جن کے ذریعے آپ نے لوگوں کو حق کی طرف بلایا اور انہیں یزید کے ظلم کے خلاف بیدار کرنے کی کوشش کی۔ ہر ملاقات اور ہر خط کا اپنا ایک سیاسی، معاشرتی، دینی اور نظریاتی پہلو تھا۔ اس سفر نے امام حسین علیہ السلام کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کون لوگ ان کے ساتھ ہیں اور کون بے وفا ہیں، اور آخر کار آپ علیہ السلام نے کربلا کا رخ کیا، جہاں آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت شہادت کا جام نوش کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Shehbaz Sharif Shehbaz Sharif
پاکستان1 دن ago

دہشتگردوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے: وزیراعظم

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسزکو خراج تحسین پیش کرتے...

Strait of Hormuz Strait of Hormuz
تازہ ترین1 دن ago

ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا امریکی جاسوس آبدوز پکڑنے کا دعویٰ

تہران (صدائے سچ نیوز) ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے امریکی جاسوس آبدوز پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر ایجنسی...

Announcement regarding the assumption of responsibilities by members of the Civic and Character Building Society at Islamabad Model College for Girls, F-6/2. Announcement regarding the assumption of responsibilities by members of the Civic and Character Building Society at Islamabad Model College for Girls, F-6/2.
پاکستان1 دن ago

اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو میں سِوک اینڈ کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی کے ارکان کا ذمہ داریاں سنبھالنے کا اعلان

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو میں ایوننگ شفٹ کی کلاس نمائندگان...

Syed Shajjar Abbas Advocate Syed Shajjar Abbas Advocate
پاکستان1 دن ago

یونین کونسل کے ہیڈکوارٹر کے معاملہ پر اہلیان علاقہ کی رائے کو ہر صورت مقدم جانا جائیگا، سید شبر عباس ایڈووکیٹ

گوجر خان (صدائے سچ نیوز) ہرنال اڈہ پر سید شبر عباس ایڈووکیٹ کی صدارت اور اہلیان ہرنال کی میزبانی میں...

ambulance ambulance
پاکستان2 دن ago

ڈیرہ اسماعیل خان، دھماکےکے زخمیوں کو لیجانے والی ایمبولینس پر فتنہ الخوارج کی فائرنگ، 2 ریسکیو اہلکار شہید

ڈیرہ اسماعیل خان (صداۓ سچ نیوز) ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ  خودکش دھماکےکے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر...

High Blood Pressure Patients High Blood Pressure Patients
تازہ ترین2 دن ago

ہائی بلڈ پریشر کے بیشتر مریض ہارٹ اٹیک، قبل ازوقت موت کے خطرے سے لاعلم رہتے ہیں، تحقیق

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کے آدھے سے زائد مریض...

Atta Tarar Atta Tarar
پاکستان2 دن ago

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ‘کھودا پہاڑ نکلا چوہا’ ثابت ہوا، عطا تارڑ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہےکہ پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے...

mohsin-naqvi mohsin-naqvi
پاکستان2 دن ago

محسن نقوی کی کے پی اسمبلی ارکان کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر سے اجازت کے مراسلے پر تنقید

اسلام اباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ارکان اسمبلی کی گرفتاری...

inflation inflation
تازہ ترین2 دن ago

ایران میں 15 ماہ بعد مہنگائی میں معمولی کمی ریکارڈ

تہران (صداۓ سچ نیوز) جنگ کے دوران معاشی دباؤ میں گھرے ایران میں 15 ماہ بعد مہنگائی میں معمولی کمی...

masoud-pezeshkian masoud-pezeshkian
تازہ ترین2 دن ago

ایران کی سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے حل کیلئے مدد کی پیشکش

نیو یارک (صداۓ سچ نیوز) قطری نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکہا کہ سعودی عرب اور...

Trending