پاکستان
لوٹن، کشمیریوں اور پاکستانیوں کے وفد نے پاکستان کے ہائی کمشنر سے ملاقات
لوٹن (صداۓ سچ نیوز) لوٹن میں اوورسیز کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ کمیونٹی مشاورتی نشست منعقد ہوئی تھی جس کا انعقاد کونسلر راجہ اسلم نے کیا تھا ، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایک نمائندہ وفد پاکستان ہائی کمیشن لندن سے ملاقات کرے گا تاکہ اپنے تحفظات اور سفارشات باقاعدہ طور پر پیش کی جا سکیں۔
اس پیش رفت کو مولانا قاضی عبدالعزیز چشتی ایم بی ای کی معاونت سے عملی شکل دی گئی، جس کے بعد قائم مقام ہائی کمشنر سے ملاقات کا باقاعدہ انتظام کیا گیا۔
پاکستان ہائی کمیشن لندن میں اسی نمائندہ وفد نے قائم مقام ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت قاضی عبدالعزیز چشتی ایم بی ای نے کی اور کہا کشمیریوں اور پاکستانیوں کا رشتہ محبت اعتماد اور قربانیوں پر مبنی ہے عوامی حقوق کی آواز اٹھانے والوں کو سنجیدگی سے سنا جانا چائیے۔
جبکہ کونسلر راجہ اسلم خان نے وفد کی جانب سے مشترکہ قرارداد اور تحریری تحفظات پیش کیے ، اس موقع پر وفد کے تمام اراکین نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اس موقع پر لوٹن میں مقیم کشمیری و پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی ہائی کمشنر کو ایک الگ خط بھی ارسال کیا گیا، جس میں آزاد کشمیر میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مخالفت کی گئی۔
خط میں مطالبہ کیا گیا کہ انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے، شہریوں کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ مواصلاتی بندش اور سخت اقدامات سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے ،خط میں کمیونٹیز کے درمیان اختلافات اور غلط فہمیوں کو بڑھانے والی رپورٹس ، پاکستان میڈیا کے بعض حصوں کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا گیا۔
رہنماؤں نے زور دیا کہ تمام مسائل کا حل طاقت کے بجائے بات چیت اور پرامن طریقہ کار کے ذریعے نکالا جائے خط میں متاثرہ افراد کے لیے فوری انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
وفد کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بامعنی مذاکرات شفاف معلومات کی فراہمی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ہے ، ملاقات کے دوران وفد نے مطالبہ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کو عوامی حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے اور ان کے حل کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں ۔
وفد نے انٹرنیٹ کی فوری بحالی، گرفتار افراد کی رہائی، مواصلاتی نظام کی بہتری اور پرامن مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا، وفد کے ارکان نے کہا کہ کشمیری عوام کا پاکستان کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور جذباتی رشتہ ہے، جسے منفی بیانیے یا شکوک و شبہات کی نظر نہیں ہونا چاہیے ، قائم مقام ہائی کمشنر نے وفد کے تحفظات کو توجہ سے سنا
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

