Connect with us

اوورسیز پاکستانیز

دبئی میں اورسیز پاکستانی کیوں نشانے پر؟

syed shajjar abbas

تحریر: سید شجر عباس

مشرقِ وسطی میں جب ترقی، خوش حالی اور عالمی تجارت کے مراکز کی بات ہوتی ہے تو دبئی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جس نے چند دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کی اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے مواقع پیدا کیے، لیکن اس ترقی کے پس منظر میں لاکھوں تارکین وطن کی شب و روز محنت شامل ہے۔ ان میں پاکستان کے محنت کش، مزدور، ڈرائیور، تاجر اور پیشہ ور افراد ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تعمیرات سے لے کر ٹرانسپورٹ، کاروبار اور سروس سیکٹر تک پاکستانیوں نے دبئی کی ترقی میں جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر افسوس کہ آج انہی پاکستانیوں کے حوالے سے ایسے خدشات سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف سوالات کو جنم دیا بلکہ دبئی حکومت کے رویّے پر بھی سنجیدہ تنقید کو ابھارا ہے۔

حالیہ خطے کی کشیدگی، خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد جو حالات پیدا ہوئے، ان کے نتیجے میں یہ تاثر سامنے آیا کہ دبئی حکومت نے بعض پاکستانیوں، خصوصاً ایسے افراد جن کے نام علی، حسن، حسین اور عباس ہیں، ان کے بارے میں شکوک اور سختی کا رویّہ اختیار کیا۔

بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ناموں کو شیعہ شناخت یا ایران سے ممکنہ ہمدردی کے تناظر میں دیکھا گیا، اور اسی بنیاد پر بعض لوگوں کو پوچھ گچھ، نگرانی یا بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ثالثی اور عالمی امن

اگر یہ درست ہے تو یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک خطرناک اور امتیازی سوچ کی عکاسی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ علی، حسن، حسین اور عباس جیسے نام کسی ایک مسلک کی شناخت نہیں۔ یہ صرف شیعہ حضرات کے نام نہیں بلکہ اہلِ سنت اور شیعہ دونوں یکساں عقیدت سے یہ نام رکھتے ہیں۔

برصغیر میں لاکھوں سنی خاندان اپنے بچوں کے نام علی، حسن، حسین اور عباس رکھتے ہیں کیونکہ یہ اہلِ بیتؑ سے محبت کی علامت ہیں۔ ان ناموں کو صرف شیعہ شناخت سمجھنا یا ایران سے جوڑ دینا ایک علمی غلطی بھی ہے اور ایک سماجی ناانصافی بھی۔

اگر انہی ناموں کی بنیاد پر پاکستانیوں کے ساتھ الگ سلوک کیا جا رہا ہے تو یہ ظلم اور زیادتی کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ کسی فرد کے عمل نہیں بلکہ اس کے نام، عقیدے اور شناخت کو مشکوک بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔ اور جب کسی کمیونٹی کے ساتھ اس بنیاد پر سلوک ہو تو وہ صرف امتیاز نہیں بلکہ منافرت کو ہوا دینے کے مترادف بھی بنتا ہے۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر سکیورٹی خدشات ہیں تو پھر یہ رویّہ صرف پاکستانیوں کے ساتھ کیوں؟ دبئی میں ہندوستانی بڑی تعداد میں آباد ہیں، بنگلہ دیشی کمیونٹی بھی بہت وسیع ہے، ہندو، عیسائی، یہودی اور دیگر قومیتوں اور مذاہب کے لوگ بھی وہاں زندگی گزار رہے ہیں، مگر ایسی اطلاعات سامنے نہیں آتیں کہ ان کے ساتھ اسی نوعیت کی پروفائلنگ یا مشکوک رویّہ اختیار کیا گیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: ماں کے بغیر زندگی ادھوری ہے

اگر صرف پاکستانیوں، اور خصوصاً ایسے پاکستانیوں کو جن کے نام علی، حسن، حسین اور عباس ہیں، نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ ایک واضح امتیازی طرزِ عمل کا تاثر دیتا ہے۔ یہ رویّہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کہ پاکستان ہمیشہ دنیا کی ترقی، استحکام اور عالمی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتا آیا ہے۔

پاکستانی صرف دبئی میں نہیں، دنیا بھر میں اپنی محنت، دیانت اور قابلیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک دوست اور برادر اسلامی ملک میں انہی پاکستانیوں کے ساتھ شکوک اور بے اعتمادی کا رویّہ رکھا جائے تو یہ ایک غلط مثال قائم ہوگی۔ دبئی اگر سکیورٹی کے نام پر ناموں اور شناختوں کو بنیاد بنا کر لوگوں کو مشکوک قرار دیتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستانیوں کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ یہ دنیا کے لیے بھی ایک غلط نظیر ہوگی۔ کیونکہ اگر آج علی، حسن، حسین اور عباس جیسے نام سوال بن سکتے ہیں تو کل کوئی اور شناخت بھی شک کی بنیاد بن سکتی ہے۔

یہی سوچ معاشروں میں نفرت اور تقسیم کو جنم دیتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانیوں نے دبئی کو صرف مزدوری نہیں دی، اپنا خون پسینہ دیا ہے۔ اس شہر کی عمارتوں، سڑکوں، کاروبار اور نظام میں پاکستانیوں کی محنت شامل ہے۔ ایسے میں اگر انہی لوگوں کے ساتھ امتیازی رویّہ رکھا جائے تو یہ صرف ناانصافی نہیں بلکہ ناشکری بھی محسوس ہوتی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے بعد دبئی حکومت نے واقعی یہ سمجھا کہ علی، حسن، حسین اور عباس نام رکھنے والے افراد ایران سے ہمدردی رکھتے ہو سکتے ہیں، اور اس بنیاد پر انہیں نشانہ بنایا گیا، تو یہ ایک خطرناک مثال ہے۔

اس سے نہ صرف شیعہ سنی تقسیم کو ہوا مل سکتی ہے بلکہ مسلمانوں کے درمیان ایک نئی منافرت جنم لے سکتی ہے۔ ایسے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ یہاں دبئی حکومت کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا اس طرح کا منفی رویّہ اس کے عالمی امیج کے مطابق ہے؟

یہ بھی پڑھیں: میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا

کیا رواداری کے دعوے ایسے اقدامات سے مجروح نہیں ہوتے؟ اگر ایک طرف دنیا بھر کے لوگوں کو خوش آمدید کہا جائے اور دوسری طرف پاکستانیوں کو شک کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ تضاد خود سوال بن جاتا ہے حکومت پاکستان بلخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس معاملے پر فوری سفارتی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔

واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہیے کہ علی، حسن، حسین اور عباس جیسے نام محبتِ اہلِ بیت کی علامت ہیں، کوئی سکیورٹی خطرہ نہیں۔ اور ان ناموں کی بنیاد پر پاکستانیوں کے ساتھ کوئی امتیاز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

یہ معاملہ صرف پاکستانیوں کے روزگار یا ویزوں کا نہیں، یہ وقار، انصاف اور مساوات کا مسئلہ ہے۔ اگر پاکستانیوں کے ساتھ ایسا سلوک جاری رہا تو یہ صرف انفرادی نہیں بلکہ دوطرفہ تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دبئی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ترقی صرف معاشی طاقت سے نہیں، انصاف سے پہچانی جاتی ہے۔

اگر وہ واقعی عالمی شہر ہے تو اسے ہر قوم کے ساتھ برابری، احترام اور انصاف کا سلوک کرنا ہوگا۔ صرف پاکستانیوں کو نشانہ بنانا، جبکہ ہندوستانی، بنگالی، ہندو، عیسائی اور یہودی کمیونٹیز کے ساتھ ایسا رویّہ نہ ہو، ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دبئی حکومت کو دینا چاہیے۔کیونکہ اگر پاکستانیوں کے ساتھ صرف ناموں، شناخت اور قومیت کی بنیاد پر ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے تو یہ صرف زیادتی نہیں، ایک غلط مثال بھی ہوگی—اور ایسی مثالیں تاریخ میں اچھی یاد نہیں رکھی جاتیں

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

rana-sanaullah rana-sanaullah
پاکستان3 گھنٹے ago

بلاول بھٹو کو ورغلا کر غلط بیانی کروائی جا رہی ہے، ان سے کہوں گا آپ کو غلط معلومات دی گئیں، رانا ثنا اللّٰہ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ  کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو...

-nayyar-bukhari -nayyar-bukhari
تازہ ترین3 گھنٹے ago

مظفرآباد، ان انتخابی نتائج کو پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی، نیّر بخاری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل نیّر بخاری کا کہنا ہے کہ ان انتخابی نتائج کو پیپلز...

khawaja-asif khawaja-asif
تازہ ترین3 گھنٹے ago

آزادکشمیر انتخابات میں پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی سپورٹ کی ہے، خواجہ آصف

مظفرآباد (صداۓ سچ نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آزادکشمیر انتخابات میں پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی...

peshawar-blast peshawar-blast
پاکستان3 گھنٹے ago

سوات، کبل پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکا، متعدد پولیس اہلکار زخمی

پشاور (صداۓ سچ نیوز) خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں کبل پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکا ہوا ہے۔ آرپی اوملاکنڈ ڈویژن...

Elections Elections
تازہ ترین4 گھنٹے ago

آزاد کشمیر الیکشن، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول

آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے دوسرے مرحلے کے تحت پولنگ کے بعد گنتی جاری ہے۔ گجرات...

strait-of-hormuz strait-of-hormuz
تازہ ترین4 گھنٹے ago

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کی خبریں بے بنیاد ہیں، ایرانی میڈیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی مڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے جن...

iran defense-minister iran defense-minister
تازہ ترین4 گھنٹے ago

امریکی دھمکیوں پر نہ حیران ہوں گے اور نہ خاموش بیٹھیں گے، ایرانی قائم مقام وزیر دفاع

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران کے قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابن الرضا نے واضح کیا ہے...

hangu-attack hangu-attack
پاکستان10 گھنٹے ago

ہنگو میں ڈی ایس پی سمیت 10 پولیس اہلکاروں کی شہادت، حملے کا ملوث ماسٹر مائنڈ ہلاک

پشاور (صداۓ سچ نیوز) قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہنگو میں کارروائی کرتے ہوئے خزینہ بانڈہ چیک پوسٹ پر...

us-shooting us-shooting
تازہ ترین10 گھنٹے ago

امریکی ریاست ایڈاہو میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک ،7زخمی ہوگئے

ایڈاہو (صداۓ سچ نیوز) امریکی ریاست ایڈاہو میں برگر ریسٹورنٹ میں فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 7...

Pakistan Hockey Match Pakistan Hockey Match
پاکستان10 گھنٹے ago

پاکستان نے جنوبی کوریا کو دوسرے ہاکی میچ میں بھی شکست دیدی

پاکستان نے جنوبی کوریا کو ہاکی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں بھی شکست دے دی۔ پاکستان نے جنوبی کوریا...

Trending