تازہ ترین
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا مثالی گاؤں پروگرام
(سوہنا پنجاب)
تحریر: سجاد حسین بھٹی
پنجاب کی ترقی کا تصور اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب ترقی کا مطلب صرف بڑے شہروں میں سڑکوں، پلوں اور بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ ترقی کا ثمر ہر اس شہری تک پہنچے جو ریاست کا حصہ ہے، خواہ وہ لاہور کی کسی پوش کالونی میں رہتا ہو یا سرگودھا، خوشاب، میانوالی، بھکر، راجن پور یا بہاولپور کے کسی دور افتادہ گاؤں میں۔
کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوتا ہے کہ وہ عام آدمی کی زندگی کو کس حد تک آسان بناتی ہے۔ اگر ایک دیہاتی خاندان کو صاف پانی میسر آ جائے، اس کے بچوں کو کھیلنے کے لیے محفوظ پارک مل جائے، بارش کے بعد اس کے گھر کے سامنے پانی جمع نہ ہو، گلیاں پختہ ہوں، رات کے وقت روشنی موجود ہو اور صفائی کا مناسب نظام قائم ہو تو یہی وہ تبدیلی ہے جو حقیقی ترقی کہلاتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے "سوہنا پنجاب” وژن کے تحت اسی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے "مثالی گاؤں پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ یہ منصوبہ محض چند ترقیاتی سکیموں کا مجموعہ نہیں بلکہ پنجاب کے دیہی علاقوں کے لیے ایک جامع ترقیاتی ماڈل ہے، جس کا مقصد دیہات کو بھی شہری معیار کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے حکومت پنجاب نے واضح پیغام دیا ہے کہ ترقی کا حق صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ پنجاب کے ہر گاؤں، ہر بستی اور ہر شہری کو یکساں طور پر حاصل ہے۔
پنجاب کی معیشت کی بنیاد دیہی علاقوں پر قائم ہے۔ یہی دیہات زرعی پیداوار کا مرکز ہیں، یہی علاقے ملکی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں اور یہی پنجاب کی سماجی و ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ اس کے باوجود ماضی میں دیہی ترقی اکثر نظرانداز ہوتی رہی۔ کہیں صاف پانی کا مسئلہ تھا، کہیں نکاسی آب کا نظام ناکارہ تھا، کہیں کچی گلیاں عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی تھیں، کہیں رات کے وقت اندھیرا معمول تھا اور کہیں بچوں کے لیے کھیلنے کی ایک محفوظ جگہ بھی موجود نہیں تھی۔ یہی وہ محرومیاں تھیں جنہیں موجودہ حکومت نے اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔
مثالی گاؤں پروگرام کے پہلے مرحلے میں پنجاب بھر کے تقریباً 485 دیہات کو شامل کیا گیا ہے جن میں ملتان ڈویژن کے63، راولپنڈی کے 58، گوجرانوالہ کے 55، گجرات کے51، لاہور/شیخوپورہ کے 50، بہاولپور کے 48، سرگودھا کے41 ، ساہیوال کے 44، ڈی جی خان کے 39 اور فیصل آباد ڈویژن کے 36 جبکہ مجموعی طور پر 12 سو دیہاتوں کو مثالی گاؤں بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت مستقبل میں اس منصوبے کو مزید سینکڑوں دیہاتوں تک توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پہلے مرحلے پر 60 ارب روپے سے زائد کی خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جبکہ اگلے مراحل کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔
یہ اعدادوشمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت دیہی ترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہے۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی اس کا مربوط انداز ہے۔ ماضی میں ترقیاتی منصوبے مختلف محکموں کے درمیان تقسیم ہو کر اپنی افادیت کھو دیتے تھے۔ کہیں پانی کی سکیم مکمل ہو جاتی مگر سیوریج نہ ہوتی، کہیں گلیاں تعمیر ہوتیں مگر سٹریٹ لائٹس موجود نہ ہوتیں، کہیں ڈرین بن جاتی مگر گندے پانی کی صفائی کا نظام نہ ہوتا۔
مثالی گاؤں پروگرام میں ان تمام بنیادی سہولتوں کو ایک ہی ترقیاتی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ ایک گاؤں کو مکمل طور پر جدید اور منظم رہائشی آبادی میں تبدیل کیا جا سکے۔ ہرمنتخب گاؤں میں 24 گھنٹے صاف پانی کی فراہمی، جدید انڈر گراؤنڈ سیوریج، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، پختہ گلیاں، سڑکوں کی بحالی، سٹریٹ لائٹس، بچوں کے پارکس، شجرکاری، گھروں کی نمبرنگ، سائن بورڈز اور روایتی تالابوں کی بحالی جیسے منصوبے شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت صرف تعمیراتی کام نہیں کر رہی بلکہ دیہی زندگی کے مجموعی معیار کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی صوبائی وژن کا ایک اہم حصہ سرگودھا ڈویژن بھی ہے، جہاں پہلے مرحلے میں41 دیہاتوں کو مثالی گاؤں پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریباً 5 ارب 47 کروڑ روپے کی لاگت سے کام جاری ہے۔

سرگودھا، خوشاب، بھکر اور میانوالی جیسے زرعی اضلاع میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی نہ صرف لاکھوں دیہی شہریوں کی زندگی آسان بنائے گی بلکہ زرعی معیشت کو بھی مزید مضبوط کرے گی۔ کمشنر سرگودھا حافظ شوکت علی کی نگرانی میں مختلف محکمے اس منصوبے پر مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں تاکہ ترقیاتی سرگرمیاں مقررہ معیار اور رفتار کے ساتھ مکمل ہو سکیں۔
ضلع سرگودھا اس منصوبے کا سب سے نمایاں حصہ ہے، جہاں چھ تحصیلوں کے 22 دیہات کو مثالی گاؤں پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے تقریباً 2 ارب 90 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
سرگودھا، بھلوال، شاہپور، بھیرہ، ساہیوال اور سلانوالی کے مختلف دیہاتوں خان محمد والا، دھوری ، سالم , چک نمبر 30 جنوبی، چک نمبر 72 جنوبی الف، چک نمبر 119 شمالی، چک نمبر 125 جنوبی، سلکی، کوٹ موسی خان ، عاقل شاہ ، گھنگ والا ، بونگا منہاس، چک نمبر 103 جنوبی، چک نمبر 46 جنوبی، چک نمبر 47 شمالی، چک نمبر 45 جنوبی، کدھن کلاں، کدھن خورد ، کوڑے والا، پھلروان یو سی 24, رتو کالا اور چک نمبر 55 جنوبی میں جاری ترقیاتی کام دیہی آبادی کے لیے ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روشن پاکستان، سیالکوٹ سے فیفا ورلڈ کپ تک
ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ تعمیراتی معیار، رفتار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ عوام تک ان منصوبوں کے ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔تاہم کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی اصل کامیابی صرف اس کی تعمیر میں نہیں بلکہ اس کے مستقل اور مؤثر استعمال میں ہوتی ہے۔ پانی کی سکیم بنانا اہم ہے مگر اس کی مسلسل فراہمی زیادہ اہم ہے۔ پارک تعمیر کرنا ضروری ہے مگر اس کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ سٹریٹ لائٹس نصب کرنا ایک مرحلہ ہے لیکن انہیں ہمیشہ فعال رکھنا اصل امتحان ہے۔ اسی طرح نکاسی آب کا نظام صرف تعمیر ہونے سے نہیں بلکہ باقاعدہ صفائی اور دیکھ بھال سے مؤثر رہتا ہے۔ اگر متعلقہ ادارے ان سہولتوں کی مسلسل نگرانی کرتے رہے تو یہ منصوبے کئی دہائیوں تک عوام کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
ترقی کا حقیقی فلسفہ یہی ہے کہ حکومت کی پالیسیاں عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کریں۔ اگر ایک کسان کو صاف پانی ملے، ایک طالب علم محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرے، ایک خاتون کو بنیادی سہولتوں کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ایک بچے کو کھیلنے کے لیے محفوظ پارک میسر آ جائے تو یہی وہ تبدیلی ہے جسے عوام اپنی زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ یہی تبدیلی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔
آج پنجاب میں شروع ہونے والا مثالی گاؤں پروگرام محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ دیہی ترقی کی نئی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنی رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل ہوتا ہے تو آنے والے برسوں میں پنجاب کے دیہات صرف زرعی پیداوار کے مراکز نہیں رہیں گے بلکہ جدید، صاف ستھرے، منظم اور باوقار رہائشی علاقوں کی صورت اختیار کر جائیں گے۔
سرگودھا ڈویژن کے 41 اور ضلع سرگودھا کے 22 مثالی گاؤں اسی خواب کی عملی تصویر بن سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مثالی پنجاب کا خواب لاہور، راولپنڈی یا ملتان کی شاہراہوں سے نہیں بلکہ ایک عام گاؤں کی گلی سے شروع ہوتا ہے۔ جب ایک دیہاتی شہری یہ محسوس کرے گا کہ حکومت کی ترقیاتی پالیسیاں اس کے دروازے تک پہنچ چکی ہیں، تب ہی اس وژن کی حقیقی کامیابی سامنے آئے گی۔ یہی "مریم نواز کا مثالی پنجاب” ہے، جہاں ترقی صرف نقشوں اور اعلانات تک محدود نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی میں واضح تبدیلی کی صورت میں نظر آتی ہے۔
-
پاکستان4 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
برطانیہ اور یورپ4 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان7 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان10 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان5 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
ایکسکلوسِو9 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

