تازہ ترین
جو اختیار میں نہیں، اس کا غم کیوں؟
تحریر: نثار حسین
زندگی کا شاید سب سے بڑا مغالطہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی خود چلاتے ہیں، حالانکہ اس کی ابتدا ہی ان چیزوں سے ہوتی ہے جن کا انتخاب ہم نہیں کرتے: والدین، گھر، ماحول، بہن بھائی اور بہت سے آنے والے حالات۔ شریکِ حیات کا انتخاب بھی کبھی خوشی کے بجائے آزمائش بن جاتا ہے۔ تب بنیادی سوال سامنے آتا ہے:
اگر اتنا کچھ ہمارے اختیار میں نہیں تو پھر ہمارے اختیار میں ہے کیا؟
حالات ہمارے اختیار میں نہیں، مگر ان کے جواب میں ہمارا رویہ ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔ کون ملے گا، کون بچھڑ جائے گا، کون سمجھے گا اور کون دل دکھائے گا، یہ ہم طے نہیں کرتے؛ لیکن کسی کے رویے کے جواب میں کیا، کیسے اور کب کہنا، یہ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں رہتا ہے۔
امیرالمومنین حضرت علیؑ علیہ السلام نے فرمایا:
’’بات اس وقت تک تمہارے اختیار میں ہے جب تک تم نے اسے زبان سے نہیں نکالا، لیکن جب کہہ دیا تو تم اس کے اختیار میں ہو جاتے ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جیسے اپنے سونے اور چاندی کی کرتے ہو، کیونکہ بسا اوقات ایک لفظ نعمت چھین لیتا اور مصیبت لے آتا ہے۔‘‘
نہج البلاغہ، حکمت 381
یہ انسانی اختیار کا پورا فلسفہ ہے: بولنے سے پہلے لفظ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے، مگر زبان سے نکلنے کے بعد اس کے نتائج ہمارے ہاتھ میں نہیں رہتے۔ غصے کا ایک جملہ برسوں کے تعلق، بچے کے اعتماد یا میاں بیوی کی قربت کو زخمی کر سکتا ہے۔ اس لیے زندگی ہمیں ہر چیز پر اختیار نہیں دیتی، مگر اپنی زبان، رویے اور فیصلوں پر ضرور دیتی ہے۔
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ والدین ایسے کیوں تھے، گھر ایسا کیوں تھا یا فلاں شخص نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیوں نہیں کیا۔ مگر جو ہو چکا، وہ ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں تھا؛ اب اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔
والدین کا انتخاب اولاد نہیں کرتی، مگر ان کے ساتھ اپنا رویہ چن سکتی ہے۔ اولاد کی فطرت ہمارے ہاتھ میں نہیں، مگر ان کی تربیت، لہجہ اور وقت ہمارے اختیار میں ہے۔ شریکِ حیات ہماری توقعات کے مطابق ہو، یہ ضروری نہیں؛ لیکن اختلاف کیسے سنبھالنا اور محبت کا اظہار کیسے کرنا ہے، یہ ہم طے کر سکتے ہیں۔
یہیں رشتوں کی ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے، محبت کا صرف دل میں ہونا کافی نہیں، کبھی اسے زبان تک بھی آنا پڑتا ہے۔
بہت سے لوگ محبت کرتے ہیں مگر اظہار نہیں کرتے۔ شوہر محنت اور قربانی کو محبت سمجھتا ہے، باپ اولاد کے مستقبل کے لیے سب کچھ کرتا ہے مگر محبت بھرے جملے نہیں کہتا، اور اولاد احترام کے باوجود والدین کے لیے وقت نہیں نکالتی۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ دوسرا ہمارے دل کو پڑھ لے، حالانکہ انسان دل پڑھنے کی صلاحیت لے کر پیدا نہیں ہوتا۔
محبت کبھی ایک جملہ، چند لمحے، ایک مسکراہٹ یا یہ یقین ہوتی ہے کہ ’’تم میرے لیے اہم ہو۔‘‘ ہمارے معاشرتی مزاج میں، خصوصاً مردوں کے لیے، جذبات کا اظہار کمزوری سمجھا جاتا ہے؛ حالانکہ محبت چھپانے سے آدمی بڑا نہیں ہوتا، صرف سامنے والا اس سے محروم رہ جاتا ہے۔
رشتہ تب خوب صورت بنتا ہے جب ہم صرف یہ نہ سوچیں کہ میں کیا دے رہا ہوں، بلکہ یہ بھی سمجھیں کہ سامنے والے کو درکار کیا ہے۔ بچے کو چیز نہیں، کبھی باپ کی توجہ چاہیے؛ بیوی کو ہر مسئلے کا حل نہیں، کبھی شوہر کا اعتماد؛ والدین کو بڑی خدمت نہیں، کبھی اولاد کا وقت۔
شاید گھر کی بہت سی الجھنیں اس سوال سے بدل سکتی ہیں:
جس شخص کے ساتھ میں رہتا ہوں، اسے مجھ سے حقیقتاً کیا چاہیے؟
کسی نے تلخ بات کی؛ تلخی واپس کرنی ہے یا بات روک دینی ہے؟ کوئی آپ کو نہیں سمجھ سکا؛ رشتہ ختم کرنا ہے یا اپنا اظہار بدلنا ہے؟ بچے نے غلطی کی؛ صرف ڈانٹنا ہے یا پہلے وجہ سمجھنی ہے؟ بیوی ناراض ہے؛ نظرانداز کرنا ہے یا بیٹھ کر پوچھنا ہے؟ یہ چھوٹے فیصلے ہی زندگی اور رشتوں کا رخ بدلتے ہیں۔
اسی لیے امیرالمومنین حضرت علیؑ نے مالک اشتر کے نام خط میں غصے، زبان اور فوری ردِعمل پر قابو رکھنے، جلد بازی سے بچنے اور غصہ ٹھنڈا ہونے تک سخت اقدام مؤخر کرنے کی ہدایت فرمائی، تاکہ اختیارِ نفس انسان کے ہاتھ میں رہے۔
نہج البلاغہ، خط 53
ہم دوسروں کو اپنے اختیار میں لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، حالانکہ اصل ضرورت خود کو اپنے اختیار میں رکھنے کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بیوی، بچے، والدین، دوست اور دنیا ہماری مرضی کے مطابق چلیں، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے زندگی ہمارے کردار، برداشت، عقل، محبت اور انتخاب کا امتحان لیتی ہے۔
ہمیں یہ اختیار نہیں کہ کون ہمارے سامنے آئے گا، مگر یہ ضرور ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کریں گے۔ یہ اختیار نہیں کہ ہمارا باپ کون ہوگا، مگر یہ ضرور ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیسے پیش آئیں گے۔ یہ اختیار نہیں کہ ہمارا بچہ کیسا ہوگا، مگر یہ ضرور ہے کہ ہم اس کی تربیت کیسے کریں گے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں بولنے سے پہلے رکنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
کبھی یہی ایک لمحہ گھر، رشتہ یا بچے کا اعتماد بچا لیتا ہے، اور کبھی انسان کو اپنی ہی بات کے پچھتاوے سے محفوظ رکھتا ہے۔
آخرکار زندگی کا حساب شاید اس بات سے نہیں ہوگا کہ ہمارے راستے میں کتنے مشکل لوگ آئے، بلکہ اس سے ہوگا کہ ان کے آنے کے بعد ہم خود کیا بن گئے۔
ہم حالات کے مالک نہیں، مگر اپنے ردِعمل کے مالک بن سکتے ہیں۔ ہم دوسروں کے فیصلے نہیں لکھ سکتے، مگر اپنے الفاظ ضرور چن سکتے ہیں۔ ہر واقعہ روک نہیں سکتے، مگر اس کے بعد اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو سمت دے سکتے ہیں۔
شاید یہ اختیار کی اصل تعریف ہے، حالات زندگی کا صفحہ لکھ سکتے ہیں، مگر آخری سطر پر دستخط اب بھی ہمارے اپنے ہوتے ہیں۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان1 ہفتہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

