تازہ ترین
فنِ سخن عظمیٰ گیلانی کے نام
تحریر: نثار حسین
میلبورن کی یہ شام اپنے اندر ایک پورا عہد سمیٹ لیتی نظر آئی ڈاک لینڈز میں سمندر سے اٹھتی سرد ہوا، سامنے پھیلا پانی، بدلتی روشنیوں کا عکس اور فن سے محبت کرنے والوں سے بھری پرفارمنس اسپیس لائبریری، ایسے میں جب گفتگو کا مرکز ایسی فنکارہ ہو جس نے کئی دہائیوں تک پاکستان کی ٹیلی ویژن اسکرین پر کرداروں کو زندگی عطا کی ہو تو شام تقریب سے آگے بڑھ کر یاد، فن اور تہذیبی حافظے کی محفل بن جاتی ہے۔
’’فنِ سخن‘‘ کی یہ خوبصورت شام پاکستان کی لیجنڈ اداکارہ عظمیٰ گیلانی کے نام کی گئی۔ فنِ سخن خوب صورت الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں؛ یہ لفظ، لہجے، خاموشی اور احساس کو اس طرح یکجا کرنے کا ہنر ہے کہ بات کان سے گزر کر دل اور ذہن میں ٹھہر جائے۔ اس شام عظمیٰ گیلانی کا ذکر کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ بعض فنکار اپنی ذات سے زیادہ اپنے کرداروں میں زندہ رہتے ہیں اور عظمیٰ بھی ان فنکاروں میں سے ہیں۔
ان کی اداکاری کا کمال یہ نہیں کہ وہ مکالمہ خوب ادا کرتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے چہرے کا ایک تاثر، آواز کا معمولی سا اتار چڑھاؤ اور کبھی طویل خاموشی بھی کردار کی پوری داخلی دنیا بیان کر دیتی ہے۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر حسن کو صرف آرائش اور سنگھار سے وابستہ رہنے نہیں دیا؛ وقار، خود اعتمادی اور شخصیت کی کشش کو بھی حسن کا حصہ بنا دیا۔ ان کی آواز میں نسوانی شائستگی کے ساتھ ایسی سنجیدگی رہی جس نے ان کے کرداروں کو خوب صورت چہروں سے الگ کرکے یادگار کردار بنایا۔

محفل میں کسی سہیلی کا یہ برجستہ جملہ بھی یاد آیا کہ جب عظمیٰ ہونٹ ہلائے بغیر مسکراتی ہیں تو ’’مونا لیزا کو مات دے دیتی ہیں‘‘۔ جملے میں شگفتگی تھی، مگر اس کے پیچھے یہ فنکارانہ حقیقت بھی چھپی تھی کہ بعض چہرے اظہار کے لیے الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔
روہی کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی اس فنکارہ نے ستر کی دہائی میں اداکاری کا سفر شروع کیا، اس دور میں جب اداکاری سکھانے کے لیے باقاعدہ اکیڈمیاں نہیں تھیں اور ٹیلی ویژن بھی اپنے ابتدائی مگر تخلیقی زمانے سے گزر رہا تھا۔ 1974 کے ’’نردبان عرفان‘‘ سے لے کر ’’پناہ‘‘، ’’روزی‘‘، ’’مور موڑ مہار‘‘ اور ’’مائی اور کمائی‘‘ تک ان کے کرداروں نے مختلف طبقوں، علاقوں اور سماجی رویوں کی عورت کو اسکرین پر جگہ دی۔
اشفاق احمد کے تخلیقی پس منظر میں ’’نردبان عرفان‘‘ کی کمہار کی بیوی ہو یا ’’پناہ‘‘ میں افغان مہاجر کا کردار، ’’روزی‘‘ میں سڑک پر روڑی کوٹنے والی محنت کش عورت ہو یا کسی اور ڈرامے میں خوش حال گھرانے کی خاتون؛ عظمیٰ گیلانی نے کردار کی ظاہری شناخت سے زیادہ اس کے باطن کو اہمیت دی۔ ’’مائی اور کمائی‘‘ کی وہ سادہ غریب عورت، جو بیٹے کی قبر پکی کروانے کے لیے دنیا کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد بالآخر اللہ میاں کو خط لکھتی ہے، آج بھی اس لیے یاد ہے کہ اس میں غربت کے ساتھ ماں کی بے بسی، عقیدے اور امید سب ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
اس شام عظمیٰ نے اپنی کتابوں کا بھی تعارف کرایا۔ ان کی گفتگو میں ماضی صرف یادوں کا البم نہیں تھا زندگی کو سمجھنے کا ایک زاویہ تھا۔ ’’عین عورت‘‘ میں محفوظ ان کی یادیں اس عورت کو سامنے لاتی ہیں جو شہرت سے پہلے حساس بچی تھی، جس کے لیے بچپن کی دنیا بہاولپور کی وسیع حویلی، سنگِ مرمر کے فرش، منقش دروازے، بہن بھائیوں کے ساتھ کھیل، سائیکل اور صحن میں بیڈمنٹن تک پھیلی ہوئی تھی۔وہ اپنے شاندار بچپن کا کریڈٹ اپنے والد کو دیتی ہیں، مگر اسی سانس میں ایسا دکھ بھی بیان کرتی ہیں جس نے اس بچپن کے بعد پوری زندگی ان کے ساتھ سفر کیا۔ والد کے انتقال کے بعد چچا نے باپ کا کردار سنبھالا، چھ بہن بھائیوں کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی، ملازمت چھوڑی، کاروبار شروع کیا اور خاندان کے اس حصے کو بھی سنبھالا جو اچانک ان کی ذمہ داری بن گیا تھا۔ان کی گفتگو میں اس مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے عجیب سی خاموشی اور اداسی محسوس ہوتی ہے؛ جیسے ماضی کبھی مکمل طور پر گزرتا نہیں، وہ انسان کے اندر کسی محفوظ کمرے میں رہ جاتا ہے۔ وقت کی زنجیر جب ذرا ڈھیلی پڑتی ہے تو پرانی یادیں ٹوٹی ہوئی مالا کے موتیوں کی طرح قدموں میں بکھر جاتی ہیں اور انسان جھک کر انہیں ایک ایک کرکے پھر سے چنتا ہے۔ عظمیٰ گیلانی کی یادداشتوں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔شاید یہ حساسیت بعد میں ان کی اداکاری کی قوت بھی بنی۔ جو انسان زندگی کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے، وہ کردار کے دکھ کو صرف ادا نہیں کرتا، اسے اپنے اندر سے گزارتا ہے۔
محفل میں مرحوم معین اختر کا ذکر آیا تو عظمیٰ گیلانی کی آواز میں موجود شگفتگی اچانک نمی میں بدل گئی۔ انہوں نے انہیں اپنا عزیز ترین دوست اور متاثر کن شخصیت قرار دیا۔ ان کی باتوں میں وہ ذاتی تعلق بھی نمایاں تھا جو کسی فنکارانہ رفاقت سے کہیں آگے ہوتا ہے۔ معین اختر کے بارے میں ایک شرارتی مگر محبت بھرا قصہ سناتے ہوئے وہ ہنسیں کہ وہ مذاق میں کہتے تھے، ’’دیکھو عظمیٰ، میں نے کارڈ چھپوا لیے ہیں، بس اب ہاں کردو تاکہ تاریخ مقرر کردوں۔‘‘ یاد کا یہ جملہ مسکراہٹ سے آنکھوں تک پہنچتے پہنچتے افسردگی میں ڈھل گیا۔

معین اختر کے فن کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ’’روزی‘‘ اور انور مقصود کے ساتھ ان کی غیر معمولی فنکارانہ شراکت کو یاد کیا۔ واقعی بعض فنکار ایک دوسرے کے نام کا حصہ بن جاتے ہیں؛ انور مقصود کی طنزیہ تحریر اور معین اختر کی اداکاری نے پاکستانی ٹیلی ویژن کی ایک ایسی زبان بنائی جسے کئی نسلوں نے دیکھا، سمجھا اور یاد رکھا۔
عظمیٰ گیلانی نے موجودہ فنکاروں کا ذکر بھی کشادہ دلی سے کیا۔ مرد اداکاروں میں نعمان اعجاز اور خواتین میں صبا قمر کو اپنی پسند قرار دیا۔ یہ انتخاب بھی اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ایک بڑا فنکار اپنے عہد میں قید نہیں رہتا؛ وہ نئی نسل میں بھی فن کی وہی چنگاری تلاش کرتا ہے جسے کبھی اس نے اپنے اندر محسوس کیا تھا۔
موجودہ ڈراما انڈسٹری کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بھی قابلِ غور تھا۔ انہوں نے ماضی کو مقدس اور حال کو ناکام قرار دینے کے آسان راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ ان کے مطابق آج پروڈکشن کا نظام زیادہ تجارتی ہے، نجی شعبہ وسیع ہوا ہے، کام کے مواقع بڑھے ہیں اور بہت کچھ اچھا بھی ہورہا ہے۔ فرق صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دور میں تخلیق کے مختلف شعبوں کے درمیان فکری ربط زیادہ تھا۔
اس زمانے میں اداکار صرف اپنا مکالمہ ادا کرنے والا فرد نہیں ہوتا تھا۔ وہ لکھاری سے سوال کرتا، کردار کے پس منظر کو سمجھتا اور یہ بھی سوچتا تھا کہ جو کچھ اسکرین پر کہا جارہا ہے، اس کا معاشرے پر کیا اثر ہوگا۔ آج میک اپ، پروڈکشن، کاسٹنگ، ہدایت کاری اور دوسرے شعبے اپنی اپنی جگہ زیادہ منظم اور تیز رفتار ہیں، مگر عظمیٰ کے نزدیک اصل سوال اب بھی وہی ہے: ہم کیا اور کیوں کہہ رہے ہیں؟یہی سوال کسی بھی بڑے فن کی بنیاد ہے۔
ڈراما صرف وقت گزارنے کا وسیلہ نہیں؛ وہ معاشرے کے ان حصوں تک بھی پہنچ سکتا ہے جہاں عام گفتگو کی رسائی نہیں ہوتی۔ اگر لکھاری سماج کی پوشیدہ پرتوں کو چھونے سے گریز کرے تو نہ کردار مکمل بن پاتے ہیں، نہ کہانی میں وہ فکری کشادگی پیدا ہوتی ہے جو ناظر کو اپنے معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرے۔ عظمیٰ گیلانی کی گفتگو کا اصل وزن شاید اسی نکتے میں تھا کہ فنکار کو صرف اپنے فن پر عبور نہیں ہونا چاہیے، اسے اپنے عہد کی نبض سے بھی واقف ہونا چاہیے۔
عظمیٰ گیلانی آج بھی اپنے ماضی سے مکالمہ کرتی ہوئی فنکارہ ہیں۔اس شام ان کی بیٹی ریما گیلانی کی موجودگی نے محفل میں ایک اور خوب صورت رنگ شامل کردیا۔ ماں اور بیٹی کا ساتھ، کتابوں کی گفتگو، پرانے کرداروں کی یادیں، معین اختر کا ذکر، اور ایک ایسے فنکار کی زندگی جس نے کئی نسلوں کے ذوقِ سماعت و بصارت کو متاثر کیا، سب کچھ مل کر اس شام کو تقریب سے بڑھ کر یادوں کی بستی بنا دیا۔

باہر میلبورن کی سردی تھی اور اندر اردو، فن اور یادوں کی گرمی۔ ڈاک لینڈز کے پانی پر پھیلتی روشنیوں کے درمیان ایک طرف سمندر اپنے خاموش تسلسل کے ساتھ موجود تھا اور دوسری طرف ایک ایسی فنکارہ اپنے ماضی کے دریچے کھول رہی تھی جس کے کردار کبھی ہمارے گھروں کی اسکرین پر بولتے تھے اور آج ہماری اجتماعی یادداشت میں زندہ ہیں۔
پھر موسیقی نے اس شام کو وجدانی کیفیت عطا کردی۔ سورب مشرا نے فیض احمد فیض سمیت معروف شعرا کی غزلیں پیش کیں تو الفاظ، آواز اور فضا سب گھل مل گئے۔ یوں ’’فنِ سخن‘‘ کا مفہوم صرف گفتگو میں نہیں رہا؛ وہ پوری شام کے تجربے میں تبدیل ہوگیا۔
اس خوب صورت شام کے منتظم عطا قریشی کا شکریہ تو بنتا ہے کہ بیرونِ وطن ایسی محفلیں صرف تفریح ہی نہیں زبان اور ثقافت کے ساتھ ہمارا تعلق بھی تازہ کرتی ہیں۔ مگر اس شام نے خاموشی سے ہمارے سامنے یہ سوال رکھا کہ ہم اپنے فن سے کیا محفوظ کررہے ہیں
ڈاک لینڈز کی اس سرد شام میں عظمیٰ گیلانی کو خراجِ تحسین دراصل ایک فنکارہ کو خراج نہیں تھا؛ یہ اس عہد کو یاد کرنے کی کوشش بھی تھی جس میں ٹیلی ویژن صرف اسکرین نہیں، معاشرے کا آئینہ ہوا کرتا تھا۔ جب محفل ختم ہوئی، غزل کی آخری آواز فضا میں تحلیل ہوئی تو یوں لگا جیسے رخصت ہوتی شام پوچھ رہی ہو
کیا ہم آنے والی نسل کے لیے بھی ایسے کردار، آوازیں اور فن چھوڑ جائیں گے جو وقت گزرنے کے بعد بھی یاد آتا رہے؟
-
برطانیہ اور یورپ7 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

