تازہ ترین
یومِ اقبال: محض تقریبات نہیں، خوابِ اقبال کی عملی تعبیر کا وقت
علامہ اقبال کے افکار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا حقیقی تقاضا خودی، علم، اتحاد، خودانحصاری، عدل و انصاف اور قومی ترقی کے ان کے تصور کو عملی جامہ پہنانا ہے
تحریر: منظر نقوی
پاکستان آج 9 نومبر کو شاعرِ مشرق، مفکرِ اسلام اور عظیم فلسفی علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا 149واں یومِ پیدائش منا رہا ہے۔ یہ دن محض ایک عظیم شاعر کی یاد منانے، تقاریب منعقد کرنے، تقاریر کرنے اور ان کے مزار پر پھول چڑھانے کا نام نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے سنجیدہ خوداحتسابی اور اپنے قومی کردار کا جائزہ لینے کا موقع ہے۔ ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے اس عظیم مفکر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے وہ کردار ادا کیا ہے جس کی توقع انہوں نے اپنی قوم سے وابستہ کی تھی؟
علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ وہ صرف ایک بلند پایہ شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم مفکر، فلسفی اور مصلح تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں سیاسی شعور، فکری بیداری اور اپنی شناخت کا احساس پیدا کیا۔ ان کے فلسفۂ خودی نے انسان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، کردار کو مضبوط بنانے اور علم، عمل، محنت اور مستقل مزاجی کے ذریعے اپنی تقدیر خود سنوارنے کا پیغام دیا۔
پاکستان میں 9 نومبر کو یومِ اقبال کے طور پر سرکاری تعطیل منائی جاتی ہے۔ تاہم 2015ء میں اس دن کی سرکاری تعطیل ختم کر دی گئی تھی، جسے 2022ء میں وزیراعظم شہباز شریف نے بحال کیا۔ اس فیصلے نے قومی سطح پر علامہ اقبال کی خدمات اور ان کے افکار کی اہمیت کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کیا۔ تاہم یومِ اقبال کی حقیقی اہمیت محض سرکاری تعطیل میں نہیں بلکہ ان کے نظریات کو قومی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنے میں پوشیدہ ہے۔
علامہ اقبال ایک ایسے معاشرے کے خواہاں تھے جہاں عدل و انصاف، مساوات، اخلاقی اقدار، علم و تحقیق، معاشی خودمختاری اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔ 1930ء کے تاریخی خطبۂ الٰہ آباد میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک واضح فکری سمت متعین کی، جس نے بعدازاں تحریکِ پاکستان کو نظریاتی قوت فراہم کی۔ لیکن اقبال کا خواب محض ایک آزاد خطے کے حصول تک محدود نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی باوقار، ترقی یافتہ، خوددار اور علم دوست قوم دیکھنا چاہتے تھے جو دنیا میں اپنے کردار، صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر ممتاز مقام حاصل کرے۔
بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے تقریباً آٹھ عشروں بعد بھی ہم کئی ایسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جو اقبال کے تصورِ پاکستان سے مطابقت نہیں رکھتے۔ غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی کمزوریاں اور معاشی انحصار ہماری قومی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے مناسب مواقع نہ ملیں، وہاں خوابِ اقبال کی مکمل تعبیر کا دعویٰ کرنا مشکل ہے۔
اقبال کی فکر میں تعلیم اور علم کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ وہ ایسی تعلیم کے حامی تھے جو محض اسناد حاصل کرنے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ انسان میں تنقیدی شعور، تخلیقی صلاحیت، کردار سازی اور عملی زندگی کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی قوت پیدا کرے۔ آج پاکستان کو اپنے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جامعات کو جدید تحقیق، سائنسی ترقی، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اختراعات کے مراکز بنانا ہوگا تاکہ نوجوان عالمی مسابقت میں اپنا مقام پیدا کر سکیں۔
علامہ اقبال نے نوجوان نسل کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دی۔ ان کا تصورِ شاہین بلند حوصلے، خودداری، جرأت، آزادی اور مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک عظیم قومی سرمایہ ہے، لیکن اس سرمائے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تعلیم، ہنرمندی، روزگار، کاروباری مواقع اور میرٹ پر مبنی نظام کو فروغ دینا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو صرف اقبال کے اشعار یاد کرانے کے بجائے ان کے پیغام پر عمل کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
اقبال کا پیغامِ خودانحصاری آج پاکستان کی معاشی صورتحال میں غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک ایسی قوم جو مسلسل بیرونی قرضوں، مالی امداد اور عارضی معاشی سہارا لینے پر مجبور ہو، وہ حقیقی خودمختاری حاصل نہیں کر سکتی۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو مضبوط بنانا، زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا، برآمدات کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا اور مقامی کاروباروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ معاشی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی بھی اپنی مکمل معنویت حاصل نہیں کر سکتی۔
قومی اتحاد بھی فکرِ اقبال کا بنیادی ستون ہے۔ فرقہ واریت، لسانی تعصبات، سیاسی محاذ آرائی اور معاشرتی تقسیم نے ہماری اجتماعی قوت کو کمزور کیا ہے۔ اقبال نے ملت کو اتحاد، اخوت اور مشترکہ مقاصد کے حصول کا درس دیا تھا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، آئین کی بالادستی، جمہوری استحکام، اداروں کی مضبوطی اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دے۔
یومِ اقبال پر حکومت، تعلیمی اداروں اور قومی تنظیموں کو محض رسمی تقریبات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کا اعلان کرنا چاہیے۔ تعلیمی اصلاحات، نوجوانوں کے لیے تحقیقی وظائف، جدید مہارتوں کی تربیت، کاروباری معاونت، شفاف حکمرانی اور معاشرتی انصاف کے فروغ کے لیے قابلِ عمل پروگرام شروع کیے جائیں۔ اقبال کے افکار کو نصابی کتابوں سے نکال کر قومی پالیسیوں اور عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
علامہ اقبال کو حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا ہوگا جہاں غربت کی جگہ خوشحالی، جہالت کی جگہ علم، سفارش کی جگہ میرٹ، ناانصافی کی جگہ قانون کی حکمرانی اور مایوسی کی جگہ امید اور خوداعتمادی پیدا ہو۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اقبال کا خواب صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ ہر شہری، ہر ادارے، ہر استاد، ہر طالب علم، ہر تاجر اور ہر سیاسی رہنما کو اپنے کردار سے اس خواب کی تکمیل میں حصہ ڈالنا ہوگا۔
آج یومِ اقبال کے موقع پر ہمیں علامہ کے اس لازوال پیغام کو اپنا قومی عزم بنانا چاہیے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
وقت آ گیا ہے کہ ہم اقبال کے افکار کو محض تقریروں اور کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی قومی سوچ، پالیسیوں اور کردار کا حصہ بنائیں۔ اقبال نے ایک ایسی قوم کا خواب دیکھا تھا جو خوددار، باعلم، متحد، انصاف پسند اور اپنے مستقبل کی خود معمار ہو۔
آج پاکستان کو اقبال کے خواب کی یاد منانے سے زیادہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہی یومِ اقبال کا حقیقی پیغام اور شاعرِ مشرق کو سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

