Connect with us

برطانیہ اور یورپ

سفید کاٹن کے پیچھے: برطانوی سوشل سکیورٹی، خفیہ آمدنی اور پاکستان میں امارت کے جھوٹے تاثر کی داستان

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

برطانیہ کی سرزمین پر لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے ہاتھوں کے چھالوں، پیشانی کے پسینے اور شب و روز کی مسلسل مشقت میں تلاش کی ہے۔ کوئی کارخانوں کی مشینوں کے شور میں اپنی عمر گزار رہا ہے، کوئی ٹیکسی کا اسٹیئرنگ تھامے سڑکوں کی خاک چھان رہا ہے، کوئی صفائی کے کام میں مصروف ہے، کوئی دکان کے کاؤنٹر پر کھڑا ہے، اور کوئی دو دو ملازمتیں کرکے اپنے بچوں کے مستقبل کی شمع روشن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کے لیے زندگی کوئی بچھا ہوا قالین نہیں، جس پر قدم رکھتے ہی آسائشیں استقبال کرنے لگیں؛ بلکہ ایک دشوار گزار راستہ ہے، جہاں ہر قدم کے ساتھ کرایے، بجلی و گیس کے بل، ٹیکس، روزمرہ اخراجات اور خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ محنت کرتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں اور اپنی عزتِ نفس کو حلال کمائی سے وابستہ رکھتے ہیں۔

لیکن ہر معاشرے کی طرح اس معاشرے میں بھی بعض ایسے کردار موجود ہو سکتے ہیں جو محنت کی دشوار راہ اختیار کرنے کے بجائے قانون کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی مالی حالت کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہو، اپنی آمدنی کے بعض ذرائع چھپاتے ہیں اور سرکاری امداد کے حصول کے لیے ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جن کی صحت پر سوال اٹھ سکتا ہے۔

بظاہر ان کی زندگی محرومیوں کی تصویر دکھائی دیتی ہے، مگر پردۂ اخفا کے پیچھے آمدنی کے ایسے سلسلے بھی ہو سکتے ہیں جن کا پورا حساب متعلقہ اداروں کے سامنے نہ رکھا گیا ہو۔

یہیں سے سفید کاٹن کے پیچھے چھپی اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے؛ ایک ایسی کہانی جس میں فلاحی نظام سے مبینہ دھوکہ دہی، ٹیکس کی ذمہ داریوں سے گریز، سرکاری رہائش اور وطن واپسی پر دولت کی نمائش کے مختلف رنگ ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔

یہ تحریر سلیم نامی ایک فرضی کردار کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا مقصد کسی حقیقی شخص پر الزام عائد کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسے ممکنہ معاشرتی رویے پر سوال اٹھانا ہے جسے نظرانداز کرنا اجتماعی دیانت کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

برطانوی اداروں کے سامنے سلیم اپنی جسمانی مشکلات، معذوری اور روزگار کے سلسلے میں پیش آنے والی دشواریوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں وہیل چیئر اور معذوری سے متعلق دعوے نمایاں ہیں۔ بظاہر وہ ایک ایسا شخص ہے جسے روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سرکاری معاونت درکار ہے۔

لیکن زندگی کے بعض دوسرے گوشے مختلف سوالات کو جنم دیتے ہیں۔

مبینہ طور پر وہ نقد رقم کے عوض کام کرتا ہے، مگر اس آمدنی کی مکمل تفصیلات متعلقہ اداروں یا ٹیکس حکام کے سامنے پیش نہیں کی جاتیں۔ یوں ایک طرف مالی مشکلات کا حوالہ دے کر امداد حاصل کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے، تو دوسری طرف آمدنی کا ایک ایسا سلسلہ بھی موجود ہو سکتا ہے جس کا سرکاری ریکارڈ میں مکمل عکس دکھائی نہ دے۔

اگر کوئی شخص دانستہ طور پر اپنی قابلِ اطلاع آمدنی چھپاتا ہے، کام سے متعلق معلومات فراہم کرنے کی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا یا غلط بیانی کے ذریعے ایسی مالی امداد حاصل کرتا ہے جس کا وہ مستحق نہیں، تو اسے محض چالاکی یا معاملہ فہمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ ممکنہ طور پر دھوکہ دہی اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، جس کا فیصلہ متعلقہ حقائق اور قانونی ضابطوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

تاہم انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم ہر معذور شخص کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔ معذوری کا مطلب لازماً مکمل طور پر کام کرنے سے معذوری نہیں، نقد ادائیگی بذاتِ خود غیر قانونی نہیں اور سرکاری امداد حاصل کرنا کسی شخص کی دیانت پر سوالیہ نشان نہیں۔

اصل معاملہ معذوری، غربت یا امداد کا حصول نہیں؛ اصل سوال دانستہ غلط بیانی، قابلِ اطلاع آمدنی چھپانے اور قانون کی مقرر کردہ ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کا ہے-

فلاحی نظام کا حق دار ہونا باعثِ شرم نہیں، مگر اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط بیانی سے اس نظام کا ناجائز فائدہ اٹھائے، تو اسے کامیابی سمجھنا دیانت کے مفہوم کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔*

اس کہانی کا ای اہم باب کونسل ہاؤسنگ سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

برطانیہ میں کونسل کے مکانات ان افراد اور خاندانوں کے لیے ایک اہم سہارا ہیں جو نجی رہائش کے بھاری اخراجات برداشت نہیں کر سکتے یا مقررہ قانونی و انتظامی شرائط کے تحت اس سہولت کے اہل قرار پاتے ہیں۔ یہ مکانات کسی کی تحقیر کا وسیلہ نہیں، بلکہ معاشرتی تحفظ کے اس تصور کا حصہ ہیں جس کا مقصد ضرورت مندوں کو چھت فراہم کرنا ہے۔

مگر جب کسی سہولت کے حصول کے لیے اہلیت کا تعین مخصوص شرائط اور معلومات کی بنیاد پر کیا جاتا ہو، تو ان معلومات کی صحت بھی اتنی ہی اہم ہو جاتی ہے جتنی خود اس سہولت کی ضرورت۔

اگر کوئی شخص دانستہ طور پر اپنی آمدنی، مالی حیثیت یا رہائش سے متعلق ضروری حقائق چھپائے اور اس طرح کسی ایسی سہولت سے فائدہ اٹھائے جس کا وہ قانونی طور پر اہل نہیں، تو یہ محض ذاتی معاملہ نہیں رہتا۔ اس کا اثر ان خاندانوں تک بھی پہنچ سکتا ہے جو برسوں مناسب رہائش کے انتظار میں گزار دیتے ہیں، نجی مکانوں کے مہنگے کرائے ادا کرتے ہیں اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ چھت کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

البتہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر مالی بہتری خودبخود کونسل ہاؤسنگ کی اہلیت ختم نہیں کرتی؛ اس کا انحصار متعلقہ رہائشی معاہدے، قواعد اور حالات پر ہوتا ہے۔

سوال کسی غریب کے سر سے چھت چھیننے کا نہیں، بلکہ اس اصول کی حفاظت کا ہے کہ عوامی وسائل تک رسائی دیانت، شفافیت اور مقررہ ضابطوں کے مطابق ہو۔

فلاحی نظام اسی وقت معتبر رہتا ہے جب اس سے حقیقی ضرورت مند فائدہ اٹھائیں اور کوئی شخص دانستہ غلط بیانی کے ذریعے دوسروں کے حق پر دست درازی نہ کرے۔

منظر بدلتا ہے-

اب برطانیہ کا محتاط اور مبینہ طور پر مجبور اور معذور شہری پاکستان میں شہزادہ بن جاتا ہے-

جولائی کی تپتی دوپہر ہے۔ سورج کی تمازت زمین سے شعلے اگل رہی ہے۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر سلیم کی آمد کا انتظار ہے۔ عزیز و اقارب کی نگاہیں آمد کے دروازے پر جمی ہوئی ہیں۔ چند ہی لمحوں بعد سلیم نمودار ہوتا ہے۔

ہاتھ میں جدید آئی فون، آنکھوں پر مہنگا چشمہ، بغل میں چمڑے کا بریف کیس اور جسم پر سفید کاٹن کا نفیس کرتا پاجامہ۔

استقبال کرنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل جاتی ہیں۔ کوئی آگے بڑھ کر گلے ملتا ہے، کوئی سامان اٹھانے کے لیے لپکتا ہے اور کوئی اس کی شان و شوکت کو دیکھ کر زیرِ لب کہتا ہے:

’’ماشاءاللہ پردیس نے تو سلیم کی قسمت ہی بدل دی‘‘

گاؤں پہنچتے پہنچتے یہ آمد محض ایک شخص کی واپسی نہیں رہتی، ایک سماجی تقریب کا روپ دھار لیتی ہے۔ دوستوں کی محفلیں سجتی ہیں، رشتے داروں کے ہاں دعوتیں ہوتی ہیں، چائے خانوں میں اس کی آمدنی کے چرچے شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے لباس، فون اور کرائے کی لینڈ کروزر گاڑی کو کامیابی کے پیمانوں پر پرکھا جانے لگتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برطانیہ کی سرزمین پر دولت کے چشمے پھوٹتے ہوں اور جو شخص وہاں قدم رکھ دے، چند برس بعد اس کی جیبیں پاؤنڈز سے لبریز ہو جائیں۔

مگر پردیس کی حقیقت اس چمکتے ہوئے منظر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

وہاں لاکھوں لوگ سرد صبحوں میں کام پر نکلتے ہیں، برفانی ہواؤں کا سامنا کرتے ہیں، لمبی شفٹیں کرتے ہیں اور اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کرایے، بلوں، ٹیکس اور گھریلو اخراجات پر صرف کر دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں آسائش سے زیادہ ذمہ داری، اور نمود و نمائش سے زیادہ حساب کتاب ہوتا ہے۔

لیکن وطن واپسی پر بعض اوقات حقیقت کی جگہ تاثر لے لیتا ہے، اور محنت کی داستان پر نمائش کا غلاف چڑھ جاتا ہے۔

سلیم بھی اپنی کامیابی کے قصے سناتا ہے۔ وہ اپنے حالات کی روشن تصویریں دکھاتا ہے، مگر ان گوشوں پر خاموشی اختیار کر لیتا ہے جن کے بارے میں سوال اٹھ سکتے ہیں۔ اس کی خوش حالی کے ذرائع کیا ہیں؟ اس کی آمدنی کا کتنا حصہ باقاعدہ ریکارڈ میں موجود ہے؟ کیا اس نے اپنے مالی معاملات سے متعلق تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کی ہیں؟

یہ سوال ابھی سوال ہی ہیں؛ ان کے جواب ثبوت اور حقائق سے ملنے چاہییں، ظاہری لباس یا کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائی سے نہیں۔

لیکن معاشرتی مسئلہ اس وقت جنم لیتا ہے جب دیکھنے والے صرف چمک دمک سے متاثر ہوتے ہیں اور اس چمک کے پیچھے موجود حقیقت جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

دولت کی نمائش اور دولت کے جائز ذرائع دو الگ حقیقتیں ہیں؛ پہلی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے، دوسری کردار کی گواہی دیتی ہے۔

سفید کاٹن ا کرتا پاجامہ اپنی جگہ ایک خوب صورت لباس ہے۔ اس میں سادگی بھی ہے، تہذیبی وقار بھی اور مشرقی روایت کی خوشبو بھی۔ مگر جب لباس کو شخصیت کی عظمت کا ثبوت، مہنگے فون کو کامیابی کی سند اور بڑی گاڑی کو عزت کا پیمانہ بنا دیا جائے، تو مسئلہ لباس یا گاڑی میں نہیں، ہمارے اجتماعی شعور میں پیدا ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں بیرونِ ملک سے آنے والے شخص کو اکثر اس کی ظاہری آسائشوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ اس کے لباس کی قیمت پوچھی جاتی ہے، گاڑی کے ماڈل پر گفتگو ہوتی ہے، تحائف کی تعداد گنی جاتی ہے اور اس کی آمدنی کے بارے میں اندازے لگائے جاتے ہیں۔

لیکن یہ سوال کم ہی کیا جاتا ہے کہ اس خوش حالی کی بنیاد کیا ہے، اس کے پیچھے کتنی محنت ہے، کتنی قربانیاں ہیں اور کیا اس دولت کے حصول میں قانونی و اخلاقی ذمہ داریوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے؟

یوں نمود و نمائش ایک خاموش سماجی مقابلے کو جنم دیتی ہے۔ ایک شخص قیمتی فون دکھاتا ہے تو دوسرا اس سے زیادہ مہنگا فون خریدنے کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ ایک گاڑی کرائے پر لے کر اپنی امارت کا تاثر قائم کرتا ہے تو دوسرا اس سے بڑھ کر دکھائی دینے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

پھر کامیابی کا معیار کردار، علم، محنت اور دیانت کے بجائے لباس، گاڑی اور خرچ کرنے کی قوت بننے لگتا ہے۔

یہیں سے مصنوعی امارت کا وہ تماشا شروع ہوتا ہے جس میں حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے اور تاثر مرکزی کردار بن جاتا ہے۔

سلیم کے سفید لباس پر کسی کو اعتراض نہیں۔ سوال اس تصور پر ہے جس میں لباس کی سفیدی کو کردار کی سفیدی سمجھ لیا جاتا ہے۔

سلیم کا بچپن کا دوست نعیم اس کی آمد پر خوش تو ہوتا ہے، مگر اس کے ذہن میں چند سوال بھی جنم لیتے ہیں۔ وہ ایک روز تنہائی میں سلیم سے پوچھ بیٹھتا ہے:

’’یار سلیم تم برطانیہ میں اپنی مجبوریوں اور مشکلات کا ذکر کرتے ہو، مگر پاکستان آتے ہی تمہاری زندگی کسی خوش حال رئیس جیسی دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ دونوں تصویریں ایک دوسرے سے اتنی مختلف کیوں ہیں؟‘‘

سلیم مسکراتا ہے، بات کو ہنسی میں اڑانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کسی دوسرے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔

نعیم، جو اسے بچپن سے جانتا ہے، اس بار خاموش نہیں رہتا۔

وہ کہتا ہے:

’’میں تمہاری خوش حالی سے حسد نہیں کرتا۔ اللہ تمہیں مزید دے۔ لیکن مجھے یہ سمجھاؤ کہ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی چھپا کر مالی امداد حاصل کرے، نقد کام کی کمائی کا مکمل حساب نہ دے اور اپنی قانونی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرے، تو کیا اسے کامیابی کہیں گے؟ اور اگر وہ اسی خوش حالی کی نمائش کرکے اپنے لوگوں کی نگاہوں میں بڑا بننا چاہے، تو کیا محض لوگوں کا متاثر ہو جانا اسے باوقار بنا دیتا ہے؟‘‘

سلیم کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سنجیدگی اتر آتی ہے۔

وہ جواب دینا چاہتا ہے، مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ محفلوں میں سنائے جانے والے قصے آسان ہوتے ہیں، لیکن بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے قصوں کی ساری رنگینی ماند پڑ جاتی ہے۔

نعیم پھر آہستہ سے کہتا ہے:

’’دوست اصل کامیابی اس میں نہیں کہ انسان نظام سے کتنا فائدہ اٹھا لیتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے حصے کی ذمہ داریاں کتنی دیانت داری سے پوری کرتا ہے۔ عزت لوگوں کی آنکھوں میں چند لمحوں کے لیے پیدا ہونے والی حیرت کا نام نہیں؛ عزت اس اعتماد کا نام ہے جو انسان کے کردار سے جنم لیتا ہے۔‘‘

سلیم خاموش رہتا ہے۔

اس خاموشی کو جرم کا ثبوت نہیں کہا جا سکتا، مگر یہ منظر ایک اہم اخلاقی سوال ضرور ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے: کیا ظاہری خوش حالی، اپنے ذرائع کی وضاحت اور اپنے اعمال کی جواب دہی سے زیادہ اہم ہو سکتی ہے؟

یہاں ایک بنیادی حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
برطانیہ میں آباد پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد محنت، دیانت، قربانی اور خودداری کی روشن مثال ہے۔ ان لوگوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنی خواہشات قربان کیں، اپنے والدین کی کفالت کی، اپنے آبائی علاقوں میں گھر تعمیر کیے، کاروبار قائم کیے اور برطانوی معاشرے کی معاشی و سماجی زندگی میں اپنا حصہ ڈالا۔

بہت سے پاکستانی ایسے ہیں جو اپنی محدود آمدنی میں سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، قانون کی پابندی کرتے ہیں اور مشکل حالات میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑتے۔ ان کی کامیابیوں کو کسی ایک فرضی کردار یا چند افراد کے ممکنہ غلط طرزِ عمل کی بنیاد پر مشکوک قرار دینا صریح ناانصافی ہوگی۔

اسی طرح حقیقی معذور افراد، کم آمدنی والے خاندانوں اور کونسل ہاؤسنگ کے مستحق افراد کو شک و شبہے کے دائرے میں کھڑا کرنا بھی کسی طور مناسب نہیں۔

معاشرے کی اصلاح کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر مستحق شخص کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے؛ بلکہ یہ ہے کہ جہاں قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر غلط بیانی یا دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آئے، وہاں اسے قانون کے مطابق دیکھا جائے اور کسی فرد کی غلطی کو پوری برادری کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔

تاہم کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ غلط رویوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ اگر کوئی شخص سرکاری امداد کے حصول کے لیے دانستہ غلط بیانی کرتا ہے، اپنی قابلِ اطلاع آمدنی چھپاتا ہے یا ٹیکس قوانین سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس عمل کو ذہانت، مہارت یا کامیابی کا نام نہیں دیا جانا چاہیے۔

دیانت دار معاشرہ صرف قانون نافذ کرنے سے نہیں بنتا؛ وہ اس وقت تشکیل پاتا ہے جب اس کے افراد غلط کام کو کامیابی سمجھنے سے بھی انکار کر دیں۔

برطانوی فلحی نظام ان افراد کے لیے سہارا فراہم کرتا ہے جنہیں حالات کے باعث مالی معاونت درکار ہو۔ اس نظام کی افادیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اپنی اہلیت اور مالی حالات سے متعلق درست معلومات فراہم کریں اور مقررہ قواعد کی پابندی کریں۔

ٹیکس کا نظام اجتماعی ضروریات کی تکمیل میں حصہ ڈالتا ہے، جب کہ سرکاری رہائش ان افراد اور خاندانوں کے لیے تحفظ کا ذریعہ ہے جو متعلقہ شرائط کے تحت اس کے اہل ہوں۔

یہ سہولتیں کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، بلکہ ایک منظم معاشرتی نظام کا حصہ ہیں۔ ان کا درست استعمال معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دیتا ہے، جب کہ دانستہ غلط بیانی سے حاصل کیا گیا ناجائز فائدہ اس نظام پر عوام کے اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔

لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ الزام اور جرم کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ کسی شخص کے طرزِ زندگی میں تضاد دکھائی دینا بذاتِ خود دھوکہ دہی کا قانونی ثبوت نہیں۔ اس کے لیے حقائق، متعلقہ قواعد اور مناسب قانونی کارروائی ضروری ہیں۔

اصلاح کا راستہ نہ اندھی الزام تراشی سے نکلتا ہے، نہ ہر معاملے پر خاموش رہنے سے۔ راستہ وہ ہے جہاں قانون کی پاس داری، شواہد کی اہمیت اور انسانی وقار تینوں کو یکساں احترام حاصل ہو۔

سلیم کی کاٹن اجلی ہے۔ اس کا فون مہنگا ہے۔ گاڑی شاندار ہے- اس کے استقبال کے لیے عزیز و اقارب جمع ہیں اور محفلوں میں اس کی آمد کے چرچے ہیں۔

لیکن ——-
ان میں سے کوئی چیز اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتی کہ اس کی خوش حالی کی اصل بنیاد کیا ہے۔

اگر اس نے محنت سے دولت کمائی ہے، اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور قانون کے مطابق زندگی گزاری ہے، تو اس کی خوش حالی قابلِ احترام ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کی دولت کا کوئی حصہ دانستہ غلط بیانی، ناجائز طور پر حاصل کی گئی امداد یا ٹیکس کی ذمہ داریوں سے فرار پر مبنی ہو، تو محض اس دولت کی نمائش اس کے عمل کو جائز نہیں بنا سکتی۔

اصل فرق دولت اور دیانت کے درمیان نہیں، بلکہ دولت کے حصول کے جائز اور ناجائز طریقوں کے درمیان ہے۔

یہاں مسئلہ کسی کے خوش حال ہونے پر اعتراض نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ خوش حالی کی بنیاد کیا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کن اصولوں کی پابندی کی گئی ہے۔

ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کامیابی صرف زیادہ کمانے، مہنگی گاڑی خریدنے یا لوگوں کو متاثر کرنے کا نام نہیں۔ کامیابی یہ بھی ہے کہ انسان اپنی کمائی کا حساب دینے سے نہ گھبرائے، اپنے وعدوں کی پاس داری کرے اور اپنی آسائش کے لیے دوسروں کے حق کو پامال نہ کرے۔

جو دولت دیانت کے ساتھ حاصل ہو، وہ انسان کو خود اعتمادی عطا کرتی ہے؛ لیکن جس خوش حالی کے بارے میں انسان کو مسلسل وضاحتیں گھڑنی پڑیں، اس کی ظاہری چمک کے باوجود اس کے باطن میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔

سفید کاٹن جسم کو آراستہ کر سکتی ہے، مگر کردار کو نہیں۔ قیمتی فون ہاتھ میں آسکتا ہے، مگر اس سے دیانت کا سرٹیفکیٹ نہیں ملتا۔ بڑی گاڑی میں سفر کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے پہیے انسان کو اخلاقی بلندی تک خودبخود نہیں پہنچا سکتے۔

پاؤنڈز کی فراوانی آسائشیں خرید سکتی ہے، لیکن ناجائز کمائی کو جائز نہیں بنا سکتی۔ لوگوں کا پرجوش استقبال دل کو خوش کر سکتا ہے، مگر وہ کسی شخص کے اعمال کی قانونی یا اخلاقی جانچ کا متبادل نہیں۔

حقیقی عزت وہ نہیں جو چند ہفتوں کے لیے مہنگے تحائف، قیمتی لباس اور شاندار گاڑیوں کے ذریعے حاصل کی جائے۔ حقیقی عزت وہ ہے جو انسان کی غیر موجودگی میں بھی اس کے کردار کے ساتھ قائم رہے؛ جو اس کے مال و دولت کے کم ہو جانے پر بھی باقی رہے؛ اور جو اس کے بارے میں لوگوں کے اعتماد میں زندہ رہے۔

سلیم کی کہانی دراصل صرف سلیم کی کہانی نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بھی ہے، جہاں کبھی ہم دولت کے ذرائع سے زیادہ اس کی نمائش میں دلچسپی لینے لگتے ہیں، کبھی محنت کے بجائے ظاہری آسائش کو کامیابی سمجھ بیٹھتے ہیں اور کبھی کسی کی چمکتی ہوئی زندگی کے پیچھے چھپے سوالات پوچھنا ہی بھول جاتے ہیں۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کے سامنے کامیابی کی کون سی تصویر رکھنا چاہتے ہیں:

وہ تصویر جس میں قیمتی لباس، بڑی گاڑی اور مہنگا فون سب کچھ ہیں، یا وہ تصویر جس میں محنت، دیانت، قانون کی پاس داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام بنیادی اقدار ہیں۔

کیونکہ آخرکار انسان کی عظمت اس کے لباس کی قیمت سے نہیں، اس کے کردار کی قدر سے متعین ہوتی ہے۔

اور سفید کاٹن کے پیچھے چھپی اس پوری داستان کا حاصل بھی یہی ہے:

لباس کی سفیدی آنکھوں کو خیرہ کر سکتی ہے، دولت کی چمک لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے اور مصنوعی امارت چند لمحوں کے لیے عزت کا گمان پیدا کر سکتی ہے؛ مگر کردار کی سفیدی صرف اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سلیم پاکستان میں کتنی بڑی گاڑی میں گھومتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر اس کی خوش حالی کے ذرائع کے بارے میں سوال اٹھے، تو کیا وہ سچائی، دیانت اور اطمینان کے ساتھ جواب دے سکتا ہے؟

کیونکہ سفید کاٹن کا رنگ بازار سے خریدا جا سکتا ہے، مگر کردار کی سفیدی نہ کسی دکان پر ملتی ہے، نہ کسی گاڑی میں سوار ہو کر آتی ہے اور نہ ہی چند روزہ نمود و نمائش سے حاصل ہوتی ہے۔

کردار کی سفیدی انسان کے اپنے اعمال سے جنم لیتی ہے، اور یہی وہ دولت ہے جس کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتی۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Tanveer Abbasi Chairman Awam Dost Group Tanveer Abbasi Chairman Awam Dost Group
پاکستان40 منٹس ago

حکومت واضح کرے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرائے گی یا نہیں، چیئرمین عوام دوست گروپ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی حکومت واضح کرے کہ الیکشن کمیشن پاکستان کی طرف سے حالیہ اعلان کردہ بلدیاتی...

Journalist Syed Ali Yazdan Bukhari Journalist Syed Ali Yazdan Bukhari
تازہ ترین57 منٹس ago

برداشت، تحمل اور صبر: کامیاب اور پُرسکون زندگی کے اصول

تحریر: سید علی یزدان بخاری زندگی میں کامیاب، باوقار اور پُرسکون رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم برداشت، تحمل...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
برطانیہ اور یورپ1 گھنٹہ ago

سفید کاٹن کے پیچھے: برطانوی سوشل سکیورٹی، خفیہ آمدنی اور پاکستان میں امارت کے جھوٹے تاثر کی داستان

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ برطانیہ کی سرزمین پر لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے خوابوں کی...

US President US President
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایران پر حملہ کل ہی ہو سکتا ہے، امریکی صدر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کل ہی ہوسکتا ہے، یہ...

rizwan-saeed-sheikh rizwan-saeed-sheikh
پاکستان3 گھنٹے ago

امریکہ پاکستانی آئی ٹی بر آمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے، سفیر پاکستان

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی شہر شکاگو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 سیریز کے آخری ایونٹ کا انعقاد کیا...

Trump Trump
تازہ ترین3 گھنٹے ago

امریکی اور اسرائیلی انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران کیخلاف بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، امریکی جریدہ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی جریدے بلومبرگ کے مطابق امریکا اور  اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران کے خلاف...

Security forces Security forces
پاکستان3 گھنٹے ago

بلوچستان، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا کمانڈر ہلاک

کوئٹہ (صداۓ سچ نیوز) سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت قلعہ سیف اللّٰہ میں انٹیلی جنس...

Two LPG Ships Two LPG Ships
پاکستان3 گھنٹے ago

ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان

کراچی (صداۓ سچ نیوز) عمان سے مائع پیٹرولیم گیس(  ایل پی جی  ) لے کر آنے والے 2 بحری جہاز...

barack-obama barack-obama
تازہ ترین3 گھنٹے ago

امریکا میں بڑھتے اخراجات کے ذمہ دار ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے ہیں، سابق صدر براک اوباما

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) سابق امریکی صدر براک اوباما نےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں اور ایران سے...

Nuts Nuts
تازہ ترین17 گھنٹے ago

روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 20 فیصد کم ہو سکتا ہے، تحقیق

ایک تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ...

Trending