Connect with us

پاکستان

پاکستان میں مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگی کیلئے حکمت عملی، تکنیکی صلاحیتوں کا فروغ ناگزیر، ماہرین

AI governance framework

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ایک ایسی جامع اور قابلِ عمل حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے جو مقامی حالات اور ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ قومی سلامتی، ڈیٹا پر خودمختاری، معاشی ترجیحات، دستیاب وسائل اور اخلاقی تقاضوں میں توازن قائم رکھ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض پالیسیوں کے اعلانات کے بجائے ان پر قابلِ پیمائش پیش رفت اور عملی اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی، مقامی تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوگا اور اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مقصد انسانی فلاح و بہبود ہو۔ اس ضمن میں روزگار، معاشی عدم مساوات، سائبر سکیورٹی، ماحولیاتی پائیداری اور معاشرتی اقدار پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس)، اسلام آباد کے زیر اہتمام ’’الگورتھم کی حکمرانی: مصنوعی ذہانت سے متعلق تقابلی پالیسیاں اور پاکستان کے لیے اسباق‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا گیا۔ سیمینار سے کرٹن یونیورسٹی، آسٹریلیا کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر مسعود محمود خان، اسٹریٹجک وژن انسٹی ٹیوٹ، اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ذیشان جاوید اور سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز، اسلام آباد کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ محمد فیضان فخر نے خطاب کیا۔ آئی پی ایس کے ڈائریکٹر جنرل یاسر ریاض نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ نشست کی صدارت آئی پی ایس کے چیئرمین خالد رحمان نے کی۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مسعود خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی محض ایک شعبے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں حکمرانی، معاشی ترجیحات، بنیادی ڈھانچے، تحقیق اور انسانی ترقی سمیت تمام اہم پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے ایک جامع قومی فریم ورک تشکیل دیا جانا چاہیے۔ بین الاقوامی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پالیسی کے دس باہم مربوط شعبوں کی نشان دہی کی، جن میں حکمرانی، ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، کمپیوٹنگ کی صلاحیت، تحقیق، انسانی وسائل کی ترقی، صنعتی فروغ، عوامی خدمات، تحفظ اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی پیش رفت کو پالیسی اعلانات اور آزمائشی منصوبوں کے بجائے ٹھوس نتائج کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔ انہوں نے ترجیحی ڈیٹا سیٹس کو مضبوط بنانے، کم لاگت پر کمپیوٹنگ کی سہولتیں فراہم کرنے، عملی مہارتوں کو فروغ دینے اور قومی ضروریات سے ہم آہنگ مصنوعی ذہانت کا ماڈل اپنانے کی سفارش کی۔

اس وسیع تر پالیسی تناظر میں ذیشان جاوید نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے درکار مادی وسائل اور اس کے ماحولیاتی اثرات پر توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے پانی، توانائی اور کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کی وافر فراہمی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر خودانحصاری کی کوششیں صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہنی چاہییں بلکہ ان میں اہم ہارڈویئر کی تیاری اور دستیابی بھی شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان کے دستیاب وسائل، مالی گنجائش، ماحولیاتی پائیداری کے تقاضوں اور منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے درکار مدت کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے پر زور دیا۔

دوسری جانب، فیضان فخر نے امریکہ، چین اور یورپی یونین میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے اختیار کیے گئے مختلف طریقہ ہائے کار کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان عالمی قوتوں کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی مسابقت اب محض سافٹ ویئر تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹنگ ہارڈویئر اور رسدی زنجیروں سمیت مکمل تکنیکی نظاموں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے مقامی تکنیکی صلاحیتوں کے فروغ، ڈیٹا پر خودمختاری کے تحفظ، ہنرمند افرادی قوت کو ملک میں برقرار رکھنے اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی آزادانہ جانچ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار اور سرکاری اداروں کے فرسودہ تکنیکی ڈھانچے سے پیدا ہونے والے سائبر سکیورٹی کے خطرات کی جانب بھی توجہ دلائی۔

مصنوعی ذہانت کے تکنیکی اور پالیسی پہلوؤں کے ساتھ اس کے وسیع تر معاشرتی و معاشی اثرات پر بات کرتے ہوئے یاسر ریاض نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تبدیلی ناگزیر ہے اور اس کے لیے بروقت اور فعال تیاری ضروری ہے۔ صنعتی ترقی اور انٹرنیٹ کے ظہور کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معیشتوں اور معاشروں کی ساخت تبدیل کر دے گی، تاہم اس کے نتیجے میں ابتدائی سطح اور درمیانی درجے کی مہارت رکھنے والے کارکنوں کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے نتائج کی درستگی کے لیے قابلِ اعتماد ڈیٹا نظاموں کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے ایک ایسے اخلاقی فریم ورک کی ضرورت ہے جس کی بنیاد انسانی مقاصد اور جواب دہی پر ہو۔ انہوں نے بیرونی نگرانی کے تحت قواعد کی پابندی اور ذاتی ذمہ داری کے احساس کے تحت اخلاقی طرزِ عمل اختیار کرنے کے درمیان فرق واضح کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ الگورتھمز اور ڈیٹا پر مبنی نظاموں کو ازخود اخلاقی معیارات متعین کرنے کا اختیار نہیں دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخلاقی اور مذہبی بنیادوں کا تحفظ ضروری ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی کا اصل مقصد محض مادی مفادات کے بجائے انسانی فلاح و بہبود، ترقی اور امن کا فروغ ہونا چاہیے۔

سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک فعال قومی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، جس میں مؤثر حکمرانی، تکنیکی تیاری، ادارہ جاتی ذمہ داری اور واضح اخلاقی سمت کو یکجا کیا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

earth earth
پاکستان11 منٹس ago

ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ امریکی حملہ، پاکستان اور افغانستان بھی تابکاری کی زد میں آسکتے ہیں، امریکی پروفیسر کا انتباہ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر اور بین الاقوامی سلامتی کے ماہر رابرٹ پیپ نے خبردار...

Ali-Parvez-Malik Ali-Parvez-Malik
پاکستان30 منٹس ago

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچائیں گے، ایل پی جی کا کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ، علی پرویز ملک

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں...

Baluchistan-Terrorist Baluchistan-Terrorist
پاکستان38 منٹس ago

سیکیورٹی فورسز کا کچھی اور خاران میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک

خاران (صداۓ سچ نیوز) سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ...

TRUMP AND NETANYAHU TRUMP AND NETANYAHU
تازہ ترین43 منٹس ago

امریکا رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو دی جانے والی سالانہ 4 ارب ڈالر کی امداد روک دے گا، ٹرمپ کا اعلان

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام پر اسرائیل...

AI governance framework AI governance framework
پاکستان55 منٹس ago

پاکستان میں مقامی سطح پر مصنوعی ذہانت سے ہم آہنگی کیلئے حکمت عملی، تکنیکی صلاحیتوں کا فروغ ناگزیر، ماہرین

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ایک ایسی...

gold-rate gold-rate
پاکستان1 گھنٹہ ago

پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا نیا رخ، تاریخی بلندیوں سے بڑی گراوٹ تک، اب آگے کیا ہونے والا ہے؟

کراچی (صداۓ سچ نیوز: خصوصی رپورٹ) پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے سرمایہ کاروں، صرافہ...

US President Donald J Trump US President Donald J Trump
تازہ ترین2 گھنٹے ago

امریکیوں میں ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی، رائڑز کا دعویٰ

واشنگٹن (صدائے سچ نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مڈ ٹرم انتخابات سے قبل سیاسی مشکلات کا سامنا ہے،...

kia kia
پاکستان6 گھنٹے ago

کِیا اسپورٹیج ایل ہائبرڈ کی قیمتوں میں 8 لاکھ روپے تک بڑی کمی کا اعلان

اسلام آباد (صداے سچ نیوز) کِیا پاکستان نے اپنی مقبول ہائبرڈ ایس یو وی اسپورٹیج ایل کے دونوں ماڈلز کی...

Lahore-Smog Lahore-Smog
پاکستان6 گھنٹے ago

لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار، فضائی آلودگی نے دہلی کو بھی لپیٹ میں لے لیا، زہریلی اسموگ سے شہریوں کی صحت خطرے میں

لاہور(صداۓ سچ نیوز) پاکستان اور شمالی بھارت کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شدت خطرناک حد تک بڑھ گئی...

Crude Oil Prices Crude Oil Prices
تازہ ترین6 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، سعودی عرب کا تیل کی ترسیل کے لیے متبادل پائپ لائن نظام وسیع کرنے کا منصوبہ

ریاض (صداۓ سچ نیوز) آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی اور عالمی تیل کی ترسیل میں پیدا ہونے والی شدید...

Trending