پاکستان
بارودی دھوئیں میں لپٹی دنیا
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
رات کا وقت ہے
واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر زرد بتیوں کی روشنی پھیلی ہوئی ہے۔
سرد ہوا عمارتوں سے ٹکرا کر گزر رہی ہے-
مگر۔۔۔۔۔۔
فضا میں عجیب سی گرمی ہے…
طاقت کی،
غیرت کی،
ایمان کی۔
بین الاقوامی کانفرنس ہال کے اندر خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
دنیا کی نظریں ایک دروازے پر جمی ہیں۔
اچانک ہال کا دروازہ کھلتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سپہ سالار اعظم، سید عاصم منیر داخل ہوتے ہیں اور مائیک کے سامنے آ کر رک جاتے ہیں۔
آنکھوں میں سکون… مگر وہ سکون جو طوفان سے پہلے آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا دنیا کو بھی وائٹ ہاؤس کے فیصلے میں حصہ ملنا چاہیے؟
لہجے میں آہنی وقار۔
چند لمحوں کی خاموشی۔
پھر ان کی آواز گونجتی ہے—
“مجھے وہ دنیا قبول نہیں جس میں پاکستان نہ ہو۔”
الفاظ دیواروں سے ٹکرا کر ہال میں جم جاتے ہیں۔
وہ آگے جھکتے ہیں۔
“اگر کسی نے میرے وطن کے وجود کو چیلنج کیا…
تو میں آدھی دنیا کو دھواں بنا دوں گا۔”
سناٹا ٹوٹتا نہیں— پتھر بن جاتا ہے۔
کیمروں کی فلیش تیز ہو جاتی ہے۔
عالمی میڈیا کے چہرے بدل جاتے ہیں۔
یہ دھمکی نہیں… اعلان ہے۔
وہ رکتے نہیں۔
“پاکستان کوئی جغرافیہ نہیں— ایک نظریہ ہے۔
ہم نے قربانیوں سے اسے سینچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چراغِ کربلا کی روشنی میں تہران کی ایک رات
جو کوئی اسے میلی آنکھ سے دیکھے گا، وہ آنکھ سلامت نہیں رہے گی۔”
ان کی آواز میں اب گرج ہے۔
“ہم امن چاہتے ہیں۔
ہم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے۔
لیکن ہم غلامی قبول نہیں کرتے۔
ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔”۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی لمحے منظر بدلتا ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں ایک اینکر کی آواز لرزتی ہے:
“کیا یہ دنیا کے لیے پیغام ہے… یا وارننگ؟”
کیمرہ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری پر زوم کرتا ہے۔
وہ سیدھا لینز میں دیکھتے ہیں۔
آواز دھیمی… مگر کاٹ دار۔
“یہ نہ پیغام ہے، نہ وارننگ۔
یہ حقیقت ہے۔
پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔”
وہ میز پر انگلی ہلکے سے رکھتے ہیں۔
“اگر کوئی ہمارے دروازے پر آیا…
تو اسے نتائج کا اندازہ نہیں ہوگا۔
ہم جنگ نہیں چاہتے— مگر ہم غلامی بھی قبول نہیں کرتے۔”
یہ بھی پڑھیں: سچ دب گیا، نعرہ جیت گیا، اداس نسلوں کی کہانی
اینکر کے ہاتھ کانپتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں:
“ہم امن کے داعی ہیں۔
لیکن اگر ہماری بقا کو خطرہ ہوا…
تو جواب ایسا ہو گا کہ تاریخ بھی یاد رکھے گی اور حملہ آوروں کی نسلیں بھی- قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، ایمان سے مضبوط ہوتی ہیں۔”۔۔۔۔۔
اسی وقت اسلام آباد کا منظر نامہ سامنے آتا ہے۔
ایک نجی ٹی وی اسٹوڈیو میں روشنیوں کے درمیان عبداللہ گل میز پر جھکے بیٹھے ہیں۔
عبداللہ گل کو کون نہیں جانتا-
وہ تحریک نوجوانان پاکستان کے سربراہ ہیں اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کے صاحبزادے-
آنکھوں میں جذبہ ہے
آواز میں شعلے۔
“یہ وقت محض بیانات کا نہیں، فیصلہ کن مؤقف کا ہے۔
پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
اور جب قوم اور فوج ایک صف میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو جائیں ۔۔۔۔ تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں جھکا نہیں سکتی۔”
یہ بھی پڑھیں: چرواہے سے ایس ایس پی تک، ایک ماں کی نصیحت کی لازوال کہانی
وہ زور سے مٹھی بھینچتے ہیں۔
“ہم کسی کے خلاف نہیں—
ہم اپنے حق پر کھڑے ہیں۔
یہ اعلان نہیں— عہد ہے۔
یہ دھمکی نہیں— قسم ہے۔”
کیمرہ باہر کا منظر دکھاتا ہے۔
اسلام آباد کی فضاؤں میں ہلکی سی روشنی پھیل رہی ہے۔
دور کہیں اذان کی مدھم صدا گونجتی ہے۔
وقت جیسے سانس روکے کھڑا ہو-
واپس واشنگٹن ——
فیلڈ مارشل عاصم منیر آخری جملہ ادا کرتے ہیں—
“پاکستان رہے گا…
اور ہمیشہ رہے گا۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد’
کیونکہ یہ زمین کا ٹکڑا نہیں—
یہ ایک وعدہ ہے۔
ایک نظریہ ہے۔
ایک زندہ حقیقت ہے۔”
ہال میں سناٹا ہے—
مگر اس سناٹے میں تاریخ کا شور سنائی دے رہا ہے۔
فضا میں ایک جملہ گونجتا ہے—
“جب قوم قسم اٹھا لے…
تو نقشے نہیں بدلتے—
دنیا بدل جاتی ہے۔”
یہ کہانی نہیں۔
یہ رونگٹے کھڑا کرنے والا لمحہ ہے۔
ایک ایسا لمحہ…
جب الفاظ بارود بن جاتے ہیں،
اور عزم— تقدیر۔
-
پاکستان4 ہفتے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان2 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 ہفتے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو6 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 ہفتے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

