پاکستان
پنجاب کا تعلیمی بحران، کٹہرے میں کون؟
آئینۂ فکر
تحریر: ناصرعباس
پنجاب میں نویں جماعت کے حالیہ امتحانات کے نتائج نے نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے تعلیمی منظرنامے پر ایک گہرا تلاطم پیدا کر دیا ہے۔ تقریباً 14 لاکھ امیدواروں میں سے 54 فیصد سے زائد طلبہ کا فیل ہو جانا محض ایک امتحان کا رزلٹ نہیں، بلکہ ہماری سماجی، سیاسی اور اخلاقی ترجیحات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
اس وقت پورا ملک ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہا ہے، اس تعلیمی تباہی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہم اس کا ملبہ ان اساتذہ پر ڈال دیں جو کلاس رومز میں موجود ہیں، یا کٹہرے میں اس نظامِ حکومت کو کھڑا کریں جس کی پالیسیوں نے تعلیم کو ترجیح ہی نہیں سمجھا؟
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی قیادت میں محکمہ اسکول ایجوکیشن نے اس بحران کا حل روایتی انتظامی سخت گیری میں تلاش کیا ہے۔ حکومت کا غصہ اور ردعمل اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو بے جا بھی نظر نہیں آتا۔
صوبے بھر کے تقریباً 2,200 سرکاری اسکولوں میں کامیابی کی شرح 20 فیصد سے کم رہی۔ سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی صورتحال مقامی سطح پر سامنے آئی، جہاں صرف راولپنڈی بورڈ کی حدود میں 184 اسکولوں کا رزلٹ صفر فیصد (0%) رہا۔ جن میں راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، مری اور تلہ گنگ کے 81 خالص سرکاری ادارے شامل ہیں۔ لاہور کے بھی کئی نامور اسکول اسی صف میں کھڑے ملے۔
حکومت کا مؤقف واضح ہے، ریاست بھاری تنخواہیں دیتی ہے، اور اگر کسی اسکول کا ایک بھی بچہ پاس نہ ہو، تو یہ تدریسی غفلت اور مجرمانہ لاپروائی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک مہذب معاشرے میں عوامی ٹیکسوں پر چلنے والے اداروں کو اس طرح جوابدہی سے آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔
لیکن سکے کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ تلخ اور سنگین ہے، جسے اساتذہ کی تنظیمیں پوری قوت سے سامنے لا رہی ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں قربانی کا بکرا بنا کر حکومت اپنی دہائیوں کی نااہلی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ حقائق یہ ہیں کہ پنجاب کے سرکاری اسکول اس وقت ایک لاکھ (100,000) سے زائد اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں۔ جن اسکولوں پر تالے لگانے یا جن اساتذہ کو پیڈا (PEEDA) ایکٹ کے تحت نوکریوں سے نکالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، وہاں مہینوں سے ریاضی اور سائنس جیسے لازمی مضامین کے ماہر اساتذہ ہی سرے سے موجود نہ تھے۔
اس کے اوپر مستزاد یہ کہ بار بار کی انتظامی تبدیلیاں، نصاب کے مبہم تجربات اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی چھٹیوں نے تعلیمی کیلنڈر کا شیڈول ہی تباہ کر دیا۔ اساتذہ کا یہ سوال وزن رکھتا ہے کہ آپ میدانِ جنگ میں فوج کو بنا ہتھیار اور نفری کے بھیج کر شکست پر ان کا کورٹ مارشل کیسے کر سکتے ہیں؟
ایک غیر جانبدار اور منصفانہ تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ یہ بحران کسی ایک فریق کی غلطی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے پورے ڈھانچے کی ناکامی ہے۔ یہ سچ ہے کہ جہاں ایک بھی بچہ پاس نہ ہو، وہاں اسکول کی مقامی قیادت اور اساتذہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ خالی کلاس رومز اور اساتذہ کے بغیر اسکول چلانا حکومت کی بدترین گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پیڈا ایکٹ کے تحت معطلیاں اور نوکریوں سے برطرفیاں شاید اخبارات کی شہ سرخیاں تو بن جائیں اور حکومت کو وقتی سیاسی فائدہ پہنچا دیں، لیکن یہ نظام کی مستقل اصلاح نہیں کر سکتیں۔
اگر ہم واقعی اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانا چاہتے ہیں، تو حکومت کو فوری طور پر اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیوں کا آغاز کرنا ہوگا، اسکولوں کو بنیادی وسائل دینے ہوں گے اور تعلیمی پالیسیوں کو سیاسی اثرورسوخ سے پاک کرنا ہوگا۔ ہمارے بچے کسی سرکاری محکمے کی فائل کے بے جان اعداد و شمار نہیں ہیں، وہ اس قوم کا مستقبل ہیں۔ ان کے مستقبل کو اس لایعنی الزام تراشی کی نذر کرنا ایک ایسا اخلاقی جرم ہوگا جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو11 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان4 دن agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

