Connect with us

اوورسیز پاکستانیز

بلی کے گلے میں گھنٹی ،اعتماد کی تلاش میں ایک رات

Nisar Hussain

یہ کالم صرف ایک محفل شب کی روداد نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی بازگشت ہے ایسی سوچ کا عکس جو رات گئے تک جاگتی ، سوال اٹھاتی رہی اور پھر انہی سوالوں کے بطن سے جواب کشید کرتی رہی۔

یوں ہوا کہ کل ہمارے دیرینہ دوست ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر، حسبِ معمول مسکراتے ہوئے آ دھمکے۔ مختصر حال احوال کے بعد اچانک ساتھ لے گئے۔ منزل تھی میلبورن کا مضافاتی علاقہ باکس ہِل، جہاں پاکستانی پیشہ ور افراد کا بامعنی اور سنجیدہ اکٹھ سجا ہوا تھا۔ یہ نہ کوئی رسمی تقریب تھی اور نہ تعریفی اسناد بانٹنے کی محفل، بلکہ یہ مکالمہ تھا مشاہدے سے جنم لینے والا، تجربے کی زمین پر کھڑا ہوا۔

شرکا میں معالج، انجینئر، اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ماہرین، جائیداد کے شعبے سے وابستہ افراد اور خوراک کی صنعت میں نام بنانے والے پاکستانی شامل تھے۔ یہ سب اس حقیقت کی زندہ گواہی تھے کہ پاکستانی جہاں بھی بستے ہیں، ترقی یافتہ معاشروں کی دوڑ میں شامل ہونے کیساتھ ان کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

محفل کا آغاز ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے کیا، جو انہوں نے ترنم میں پیش کی۔ اس کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حضور منقبت اور ان کا فکر انگیز فرمان پیش کیا۔

ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر جو حال ہی میں عمرہ کی سعادت سے واپس آئے تھے، صرف معالج ہی نہیں، قرآنی علوم میں فہم رکھنے والے، قادرالکلام شاعر، خوش نویس اور صاحبِ ذوق فنکار بھی ہیں۔ شرکا نے انہیں عمرہ کی سعادت پر دل کی گہرائی سے مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں نبض شناسوں کیساتھ شام

گفتگو کا مرکزی نکتہ تھا اعتماد یا درست تر یہ کہ اعتماد کا فقدان۔

اس پر سب کا اتفاق تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران معاشی یا تکنیکی نہیں، بلکہ باہمی اعتماد کی کمی ہے۔ ہم ایک دوسرے پر یقین نہیں کرتے، سچ بولنے سے ہچکچاتے ہیں، اور اگر کوئی بے لاگ سچ کہہ دے تو شک و شبہے کی سوئیاں اسی کی طرف گھومنے لگتی ہیں۔

اسی تناظر میں آسٹریلوی معاشرے کی مثال دی گئی ایک شفاف اور قابلِ اعتماد سماج۔ یہاں قانون کی بالادستی صرف آئینی دستاویزات تک محدود نہیں عملا اجتماعی رویّوں میں ڈھلی ہوئی ہے۔ ٹریفک پولیس موجود نہیں مگر گاڑیاں پھر بھی قانون کے مطابق رکتی چلتی ہیں۔ اس لیے کہ یہاں اکثریت قانون پر یقین رکھتی ہے۔ سچ بولنا کمزوری نہیں ، سماجی قدر سمجھا جاتا ہے۔

کہا گیا کہ مقامی آسٹریلوی معاشرے کی غالب اکثریت دو ٹوک، صاف اور غیر مبہم گفتگو کو ترجیح دیتی ہے لگی لپٹی، نہ دوغلا پن۔
یہ سوال بھی اٹھا کہ اگر ہم یہاں آ کر قانون کی پابندی کر لیتے ہیں تو اپنے وطن میں ایسا کیوں نہیں کرتے؟

جواب تلخ تھا مگر سچ ماحول انسان کو ڈھال لیتا ہے۔ تاہم افسوس کہ کچھ “خراب انڈے” یہاں بھی موجود ہیں، جو اس اعتماد پر قائم معاشرے میں بھی رخنے ڈالنے سے باز نہیں آتے۔

تارکینِ وطن پاکستانیوں کی آپسی رقابت کا احساس پہلو بھی زیر بحث آیا تقریباً ہر شریک نے اس شکوے کی تائید کی کہ ہم ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے ٹانگ کھینچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تعاون کے بجائے سازش، اور حمایت کے بجائے حسد۔ نتیجتاً مجموعی طور پر ہم اتنی بلندی تک نہیں پہنچ پاتے جتنی ہماری صلاحیت اجازت دیتی ہے۔

اسی مرحلے پر وہ سوال فضا میں اچھلا جو صدیوں سے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے:
“بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟”
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔

پھر کسی نے کہا اور یہ بات دل میں اترتی چلی گئی کہ یہ کام کسی اکیلے فرد کا نہیں اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم سب کو اپنی اپنی جگہ سے آغاز کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ہارٹ آف ملبورن کی دھائی، دلوں کی کہانی ، دھڑکنوں کا سفر، دس برس

اپنا احتساب، سچ بولنے کی عادت، وعدہ نبھانے کی روایت، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا، اور سب سے بڑھ کر باہمی اعتماد کو فروغ دینا۔

محفل میں حال ہی میں پاکستان سے آئے جائیداد کے شعبے سے وابستہ حافظ حذیفہ یوسف نے اس عزم کہ وہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پاکستان کا نام روشن کریں گے ۔

یہ نشست رات گئے تک جاری رہی خیالات، تجربات، اختلاف اور اتفاق کے ساتھ۔

اختتام پر فاکنرز کباب ھاؤس کے میاں عمران ریاض کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔

پھر ڈاکٹر ظفر اقبال نے اپنی دل نشیں آواز میں فیض احمد فیض کی غزل سنائی تو محفل یکدم ساکت ہو گئی، جیسے ہر شخص اپنے باطن میں جھانکنے لگا ہو۔

یہ کالم کسی شب کی کہانی نہیں، بلکہ ایک عزم کا اعلان ہے۔

آسٹریلیا میں موجود ہر پاکستانی پیشہ ور کے دل میں پاکستان کی محبت اور اس کی بہتری کی خواہش موجزن ہے، اور وہ دیارِ غیر میں بھی وطن کا نام روشن دیکھنا چاہتے ہیں۔

آسٹریلیا ہو یا پاکستان ہم سچائی کو بنیاد، ایک دوسرے کی حمایت کو شعار، اور اعتماد کو رشتہ بنا لیں، تو اعتماد کا یہ بحران خود بخود دم توڑ دے گا۔

اور پھر شاید ہم بھی سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ ہم واقعی باشعور قوم کے نمائندہ ہیں۔

اس محفل کے انعقاد کا سہرا ڈاکٹر ماجد گوندل کے سر ہے، جو آسٹریلین ایسوسی ایشن آف پاکستانی پروفیشنلز کے صدر ہیں اور ہر پاکستانی کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ فیملی فزیشن ڈاکٹر یوسف ہارون کا ذکر بھی ضروری ہے، جو آسٹریلیا میں اسلامک ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور تمام معالجین کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ وہ مہم جو بھی ہیں اور سماجی خدمت میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔

میلبورن کی ایک نمایاں علمی و طبی شخصیت، معروف ماہرِ قلب ڈاکٹر اسرار الحق کی کمی اس محفل میں شدت سے محسوس کی گئی، جو ہارٹ آف میلبورن کے ڈائریکٹر اور میلبورن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

سماجی شخصیت رانا شاہد نے بتایا کہ وہ اسٹریلیا میں اردو زبان کی تراویح کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں تاکہ پاکستانی تارکین وطن کے بچوں کا اپنے وطن سے رابط مضبوط ہو۔

یہی لوگ، سوچ، اور اجتماعی شعور ،اگر دوام پا گیا تو بلی کے گلے میں گھنٹی بندھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Al Pakistan Jamiat Al Quresh Meet Welfare Association rejects proposal of slaughter house in sihala Al Pakistan Jamiat Al Quresh Meet Welfare Association rejects proposal of slaughter house in sihala
پاکستان14 گھنٹے ago

سہالہ سلاٹر ہاؤس کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ مسترد، اسلام آباد کے لیے I-11/4 میں جدید سلاٹر ہاؤس بنایا جائے: جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) آل پاکستان جمعیت القریش میٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا اہم مشترکہ اجلاس مرکزی صدر خورشید...

imam hassan mujtaba as imam hassan mujtaba as
پاکستان14 گھنٹے ago

مجالسِ عزا بسلسلہ شہادتِ فرزندِ رسول حضرت امامِ حسنؑ 27 اور28 صفرالمظفر امام بارگاہ دربارِ سخی شاہ پیارا بادشاہ میں منعقد ہوںگی

راولپنڈی (صدائے سچ نیوز) شہادتِ فرزندِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امامِ حسنِ مجتبیٰ علیہ السلام و خاتم...

gold gold
پاکستان21 گھنٹے ago

عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں مسلسل 5 ویں روز اضافہ

عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں سونے کی قیمت میں مسلسل 5 ویں روز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آل...

Esmail Baghaei Esmail Baghaei
تازہ ترین21 گھنٹے ago

سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ایران کیلئے خطرہ نہیں، اسماعیل بقائی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ، پاکستان کے درمیان...

islamabad-high-court islamabad-high-court
پاکستان21 گھنٹے ago

ججز تعیناتی کی سمری منظور نہ ہونے پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو نوٹس

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نئے ججز کی تعیناتی کی سمری منظوری میں تاخیر کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ...

Mojtaba Khamenei، Bagher Zolqadr Mojtaba Khamenei، Bagher Zolqadr
تازہ ترین21 گھنٹے ago

مجتبیٰ خامنہ ای نے باقر ذوالقدر کو سیاسی مشیر مقرر کر دیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر...

Mir Raza Mir Raza
پاکستان22 گھنٹے ago

میر رضا کے پھیپھڑے تیزاب سے شدید متاثر، کسی اور کے پسینے کے نشان بھی ملنے کا انکشاف

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی میں نوجوان تاجر میر رضا کی ہلاکت کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔...

baqir qalibaf baqir qalibaf
تازہ ترین22 گھنٹے ago

ایرانی عوام دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں، باقر قالیباف

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے...

rain rain
تازہ ترین22 گھنٹے ago

چین میں سمندری طوفان ڈولفن کمزور، بارش اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری

بیجنگ (صداۓ سچ نیوز) چین کے مشرقی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد سمندری طوفان ڈولفن کمزور پڑ گیا تاہم کئی...

fire fire
تازہ ترین22 گھنٹے ago

کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات کی آگ بےقابو، 20 ہزار افراد بے گھر

برٹش کولمبیا (صداۓ سچ نیوز) کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلات میں لگی آگ بےقابو ہوگئی،حکام نے ہنگامی حالت...

Trending