تازہ ترین
بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
نادرا کا دفتر—
ایک ہجوم… ایک شور…
اور اس شور کے بیچ ایک ایسی خاموشی
جو چیخ رہی ہو۔
قطار لگی ہوئی ہے—
لوگ کھڑے ہیں… مگر جیسے صرف جسم ہوں، چہرے نہیں۔
آوازیں ہیں… مگر احساس کہیں گم ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے یہاں سب زندہ ہیں—
مگر زندگی کہیں اور رہ گئی ہے۔
اسی قطار میں وہ بھی کھڑا ہے—
ایک بوڑھا آدمی۔
نحیف… جھکا ہوا…
جیسے وقت نے اسے مٹایا نہیں، آہستہ آہستہ ختم کیا ہو۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ ہے—
میلا، بوسیدہ…
بالکل اس کی اپنی زندگی کی طرح۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد کے سائے میں دو انسانوں کا خون
وہ بار بار اسے دیکھتا ہے—
جیسے اس میں اس کا نام نہیں،
اس کا انجام لکھا ہو۔
“اگلا!”
کھڑکی کے پیچھے سے آواز آتی ہے—
روکھی… سیدھی… بے روح۔
جیسے کوئی انسان نہیں،
ایک نظام بول رہا ہو۔
وہ چونک کر آگے بڑھتا ہے—
جیسے خواب میں چلتا ہوا کوئی شخص اچانک حقیقت سے ٹکرا جائے۔
“ہاں، بتائیں؟ کیا کام ہے؟”
اہلکار کی نظریں اب بھی میز پر بکھرتے کاغذوں پر ہیں—
انسان پر نہیں۔
بوڑھے کے ہونٹ ہلتے ہیں…
مگر آواز جیسے کہیں دفن ہو چکی ہو۔
پھر وہ اپنی ٹوٹی ہوئی سانسوں کو سمیٹ کر کہتا ہے:
“مجھے… اپنا ڈیتھ سرٹیفکیٹ چاہیے…”
چند لمحوں کی خاموشی—
پھر ایک ہلکی سی ہنسی…
خشک، کھوکھلی… جیسے مردہ کاغذ کی چرچراہٹ۔
“آپ مذاق کر رہے ہیں؟
آپ تو زندہ ہیں۔”
بوڑھا آدمی مسکرانے کی کوشش کرتا ہے—
وہ مسکراہٹ…
جیسے کسی ویران قبر پر چراغ جل اٹھا ہو۔
“نہیں میڈم…”
اب اس کی آواز قدرے صاف ہے—
مگر کرب سے بھری ہوئی۔
“میں زندہ نہیں ہوں…
میں تو بہت پہلے مر چکا ہوں…”
اب قطار میں ہلچل ہے—
یہ بھی پڑھیں: بارودی دھوئیں میں لپٹی دنیا
لوگ سر اٹھاتے ہیں…
دیکھتے ہیں… مگر سمجھتے نہیں۔
“اچھا؟ کب مرے تھے آپ؟”
اہلکار پہلی بار رُکتی ہے—
جیسے مشین میں انسان کی ہلکی سی جھلک آ گئی ہو۔
بوڑھا سوچتا ہے…
یادوں کے ملبے میں اپنی موت کی تاریخ کریدنے کی کوشش کرتا ہے۔
“شاید… اُس دن…
جب میرے بیٹے نے کہا تھا—
‘ابا، آپ مر کیوں نہیں جاتے؟’”
قطار میں ایک سرگوشی پھیلتی ہے—
مگر جلد ہی دم توڑ دیتی ہے۔
“یا اُس دن…
جب جہیز نہ دے سکنے پر میری بیٹی کی برات لوٹ گئی تھی۔۔۔” اس کی آواز رندھ جاتی ہے-
“یا اُس وقت…
جب میری زمین مجھ سے چھین لی گئی…
اور قانون خاموش رہا…اور۔۔۔ لوگ بھی…”
دیواریں سن رہی ہیں—
مگر جواب کسی کے پاس نہیں۔
“یا پھر اُس دن…
جب میں نے اپنے ہی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا…
اور اندر سے آواز آئی—
‘یہاں آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں’…”
خاموشی۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت میں جڑتے دو دل
ایسی خاموشی
جو صرف کمرے میں نہیں—
دلوں میں پھیلی ہوئی ہے۔
بوڑھا گہری سانس لیتا ہے—
“تاریخ مجھے یاد نہیں میڈم…
بس اتنا جانتا ہوں—
میں مر چکا ہوں…”
وہ لفافہ آگے بڑھاتا ہے—
“ایک کاغذ چاہیے…
تاکہ دنیا کو یقین آ جائے…”
پھر ذرا رُک کر—
“میں واقعی ختم ہو چکا ہوں…”
اہلکار کا ہاتھ فضا میں ٹھہر جاتا ہے—
قلم جیسے وزن اٹھانے سے انکار کر دے۔
اچانک…
کمرے میں موجود سب لوگ
آئینے بن جاتے ہیں۔
ہر چہرہ… اپنے اندر جھانکنے لگتا ہے۔
بوڑھا آدمی مُڑتا ہے۔
اس کے قدم آہستہ ہیں—
مگر اس بار وہ اکیلا نہیں۔
دیگر لاشے بھی اس کے ساتھ چلنے لگتے ہیں—
ہر وہ باپ… جو بوجھ بنا دیا گیا،
ہر وہ ماں… جو زندہ ہو کر بھی بھلا دی گئی،
ہر وہ انسان…
جو سانس تو لیتا ہے مگر جیتا نہیں۔
دروازہ کھلتا ہے—
ایک ٹھنڈی ہوا اندر آتی ہے…
اور کمرے کی فضا بدل دیتی ہے۔
وہ باہر نکل جاتا ہے۔
مگر اس بار…
قطار کم نہیں ہوتی—
بلکہ بڑھ جاتی ہے۔
ہر آنکھ میں ایک سوال ہے:
“کیا ہم بھی زندہ ہیں؟”
اہلکار آہستہ سے بیٹھ جاتی ہے۔
اس کے سامنے کاغذ پڑا ہے—
مگر اب وہ ایک فرد کا سرٹیفکیٹ نہیں…
ایک پورے معاشرے کا اعلامیہ لگتا ہے۔
قلم چلتا ہے…
مگر اس بار نام کسی ایک کا نہیں لکھا جاتا—
صرف ایک جملہ ابھرتا ہے:
“آج انسانیت کا انتقال ہو گیا ہے۔”
اور نیچے—
گواہوں میں
ہم سب کے نام درج ہیں۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان4 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان7 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

