تازہ ترین
دل کے شہر میں اترتی روشنی
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
لندن کی ایجویئر روڈ ہمیشہ کی طرح جاگ رہی ہے۔
نیون لائٹس آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہیں،
گاڑیوں کا شور فضا کو چیر رہا ہے،
اور مختلف زبانوں میں بکھری آوازیں ایک مسلسل ہلچل پیدا کر رہی ہیں۔
اسی ہجوم کے بیچ لندن میٹروپولیٹن پولیس کا افسر پال کھڑا ہے—
وردی میں ملبوس، چہرہ پُرسکون…
مگر اندر ایک انجانی تھکن، ایک ان کہی خلش۔
ایسی خلش…
جو شور میں بھی سنائی دے رہی ہے۔
“آفیسر پال!”
وہ چونک کر مڑتا ہے۔
سامنے احمد کھڑا ہے—ایک چھوٹی سی حلال فوڈ شاپ کا مالک، مانوس مسکراہٹ کے ساتھ۔
“آج چائے نہیں پیو گے؟”
پال ہلکا سا مسکرا کر کہتا ہے:
“ڈیوٹی ختم ہونے دو… پھر ضرور۔”
یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات
احمد ہنستے ہوئے بولا:
“پال، تم تو اب واقعی اپنے سے لگنے لگے ہو…”
یہ جملہ پال کے اندر اتر جاتا ہے—اور دیر تک گونجتا رہتا ہے۔
رات گہری ہو رہی ہے۔ شہر تھکنے لگا ہے مگر جاگتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
“بیٹا… ذرا سڑک پار کروا دو گے؟”
پال فوراً مڑتا ہے۔
فاطمہ بی بی لرزتے قدموں کے ساتھ کھڑی ہیں۔
“جی، ضرور۔ آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں۔”
وہ آہستہ آہستہ سڑک پار کراتے ہیں۔ دوسری طرف پہنچ کر وہ مسکرا کر کہتی ہیں:
“اللہ تمہیں آسانیاں دے…”

پال رک جاتا ہے۔
“اللہ…”
یہ لفظ اب صرف سنا نہیں جا رہا—
یہ دل میں اتر کر محسوس ہونے لگا ہے-
دن گزرتے جا رہے ہیں۔ مگر اب سب کچھ ویسا نہیں لگ رہا۔
ایک شام فضا میں اذان کی آواز ابھرتی ہے:
“اللّٰہُ أَكْبَر…”
یہ آواز بلند نہیں ہے—
مگر سیدھی دل کے اُس حصے تک پہنچ رہی ہے
جہاں شاید وہ خود بھی کبھی نہیں پہنچا۔
پال بے اختیار اس سمت چل پڑتا ہے۔
“کیا آپ اندر آنا چاہیں گے؟”
امام یوسف دروازے پر کھڑے ہیں—نرم لہجہ، پُرسکون آنکھیں۔
“میں… میں صرف سن رہا ہوں۔”
یہ بھی پڑھیں: عدالت میں جڑتے دو دل
امام مسکرا کر کہتے ہیں:
“سننا ہی پہلا قدم ہوتا ہے۔”
اب یہ ایک عادت بن چکی ہے۔
کبھی وہ مسجد کے اندر بیٹھتا ہے، کبھی باہر کھڑا رہتا ہے—
مگر ہر بار کچھ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔
فروری کا ایک سرد شام —
پال احمد کی دکان پر اس کے بیٹھا گرما گرم کافی پی رہا ہے مگر ذہن سوچوں میں گم ہے-
“کیا تلاش کرتے پھر رہے ہو، پال؟” احمد پوچھتا ہے-
پال گہری سانس لیتا ہے:
“شاید… خود کو۔
یا شاید… اس سکون کو، جو مجھے کبھی ملا ہی نہیں۔” –
وہ بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے- ” سکون کی خاطر میں نے اپنی شامیں قحبہ خانوں میں برباد کیں، در در کی ٹھوکر یں کھائیں مگر مجھے کہیں بھی سکون نہیں ملا”-
"سکون تو صرف اللہ کی یاد میں ہے پال”، احمد اس سے کہتا ہے- احمد کی زبان سے لفظ "اللہ ” سنتے ہی اس کے کانوں میں فاطمہ بی بی کے جملے کی بازگشت سنائی دیتی ہے "اللہ تمہارے لئے آسانیاں کرے”- اسے ایسا لگتا ہے جیسے اس کے سینے میں دل کی "دھک دھک” کرتی آواز کی جگہ "اللہ، اللہ” نے لے لی ہو- اس کے ساتھ ہی اس کو اپنے دل میں سکون کی ایک لہر سی دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگتی ہے- شام گہری ہو رہی ہے – وہ احمد سے گھر جانے کی اجازت لیتا ہے- جاتے جاتے احمد اسے قرآن کریم کی انگریزی ترجمہ کی کتاب دیتا ہے اور "گڈ بائی” کہتا ہے-
رات کے دس بج رہے ہیں – پال بستر پر لیٹا ہے اور سونے کی کوشش کر رہس ہے لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور ہے- وہ مسلسل چھت کو گھور رہا ہے۔
“کیا میں بدل رہا ہوں… یا میں پہلے ہی بدل چکا ہوں؟” اس کے ذہن میں بار بار یہ سوال ابھرتا ہے-
وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے قرآن کی انگریزی ترجمے والی کتاب اٹھاتا ہے اور اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہے- جیسے جیسے وہ پڑھتا ہے اس
کا تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے …
حیرت سے اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔
اسے محسوس ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ اسے اس سے بہتر جانتے ہیں
جتنا وہ خود کو بھی نہیں جانتا۔ سوچ کے انہی تانوں بانوں میں وہ نیند کی وادیوں میں کھو جاتا ہے- ایسی گہری اور پر سکون نیند جو زندگی میں شاید پہلے کبھی نہ آئی –
مارچ کی ایک بھیگی شام —-
پال، احمد اور امام یوسف کے ساتھ بیٹھا ہے۔
اس کی آواز بھاری اور کانپ رہی ہے:
“یہ کتاب… مجھ سے بات کر رہی ہے۔
مجھے یوں لگتا ہےجیسے اس میں میرے سوالوں کے جواب پہلے سے ہی موجود ہیں…”
امام نرمی سے کہتے ہیں:
“یہ اللہ کا کلام ہے… ہر دل سے اس کی اپنی زبان میں بات کرتا ہے۔”
پال کی آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے:
“مجھے لگتا ہے… میں اسلام کو صرف سن نہیں رہا…
میں اسے اپنے اندر محسوس کر رہا ہوں۔ جیسے یہ میرے دل کو پہلے سے جانتا ہو…”
اپریل کی ایک خوبصورت شام ہے۔ مسجد کے اندر ہلکی سی روشنی ہے۔
دنیا باہر اپنی رفتار سے چل رہی ہے، مگر مسجد کے اندر ایک اور ہی دنیا آباد ہونے جا رہی ہے۔
پال، امام یوسف کے سامنے بیٹھا ہے اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے ہیں۔
اس کی آنکھوں میں الجھن بھی ہے اور ایک انجانا سا سکون بھی۔
وہ آہستگی سے بولتا ہے:
“میں… اب تک جس چیز کو تلاش کرتا رہا ہوں، وہ شاید الفاظ میں نہیں ملتی تھی…”
وہ لمحہ رُک سا جاتا ہے۔
پال گہری سانس لیتا ہے:
یہ بھی پڑھیں: بارودی دھوئیں میں لپٹی دنیا
“میں نے بہت سوال کیے… مگر ہر سوال نے مجھے یہیں لا کھڑا کیا ہے…”
احمد خاموشی سے کہتا ہے:
“پال… سچ کی پہچان یہی ہے، وہ دل کو سکون دیتا ہے، الجھن نہیں۔”
پال آنکھیں موند لیتا ہے
۔ ایک لمبی سانس…
اور پھر آنکھیں کھولتا ہے۔
اب اس کی آنکھوں میں ایک فیصلہ ہے۔
ایک ایسا فیصلہ جو پل بھر اس کی زندگی بدلنے والا ہے-
اس کی آواز دھیمی ہے مگر واضح-
“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں…”
اس کی آواز ٹوٹتی ہے مگر رکتی نہیں۔
“اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں…”
یہ الفاظ صرف ادا نہیں ہو رہے
بلکہ—
یہ اس کے اندر ایک پرانی دنیا کو توڑ کر ایک نئی دنیا بنا رہے ہیں۔
امام یوسف شفقت بھرے لہجے میں کہتے ہیں-
“اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، پال…”
یہ بھی پڑھیں: مسجد کے سائے میں دو انسانوں کا خون
یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔
وہ سر جھکا کر کہتا ہے:
“میں ساری زندگی خود کی تلاش میں رہا ہوں …
لیکن۔۔۔۔
آج پہلی بار لگ رہا ہے کہ میں نے خود کو پا لیا ہے …”
وہ سجدے میں جھکتا ہے۔ پیشانی زمین پر ہے، دل ایک گہرے سمندر کی طرح پر سکون اور خاموش ہے۔
“اب میں اکیلا نہیں ہوں…”
اس کے اندر ایک خاموش یقین ہے۔
“اب میرا رب میرے ساتھ ہے…”
اور —
باہر لندن کی روشنیاں ویسے ہی جل رہی ہیں—
اب صرف شہر روشنیوں سے نہیں جگمگا رہا۔۔۔۔
بلکہ ایک دل بھی روشن ہو رہا ہے-
ایک ایسا دل جو شہر کے اجالوں سے بھی زیادہ اجلا اور روشن ہے-
پال–
اب روشنی کا متلاشی نہیں بلکہ وہ خود روشنی بن چکا ہے-
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان4 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان7 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

