برطانیہ اور یورپ
مقامی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی حیران کن کامیابی، وزیراعظم اسٹارمر کے مستقبل پر سوالات
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
برطانیہ میں 7 مئی 2026 کے مقامی بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ملکی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور حکمران لیبر پارٹی کے لیے یہ انتخابات ایک سخت سیاسی وارننگ ثابت ہوئے ہیں۔ جن انتخابات کو ابتدا میں معمول کا مڈ ٹرم ٹیسٹ سمجھا جا رہا تھا، وہ اب برطانوی سیاست میں ایک بڑے سیاسی زلزلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
دو سال پہلے تاریخی کامیابی کے ساتھ اقتدار میں آنے والی لیبر پارٹی کو اب عوامی ناراضی، مایوسی اور بے اعتمادی کا سامنا ہے۔ انگلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کے مختلف علاقوں میں لیبر پارٹی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ کئی روایتی مضبوط حلقے بھی ہاتھ سے نکل گئےہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ نائجل فراج اور ان کی جماعت ریفارم یوکےکو ہوا، جس نے غیر متوقع طور پر بڑی کامیابیاں حاصل کر کے برطانوی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔
ریفارم یو کے، جسے ماضی میں صرف احتجاجی جماعت سمجھا جاتا تھا، اب ایک حقیقی سیاسی قوت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس جماعت نے خاص طور پر صنعتی شہروں، مزدور طبقے کے علاقوں اور ان حلقوں میں کامیابی حاصل کی جہاں کبھی لیبر پارٹی ناقابلِ شکست سمجھی جاتی تھی۔ ان نتائج نے واضح کر دیا کہ بڑی تعداد میں ووٹر اب روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکے ہیں اور نئی قیادت کی تلاش میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دل کے شہر میں اترتی روشنی
عوامی غم و غصے کی بڑی وجوہات میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے بل، رہائشی بحران، صحت کے نظام پر دباؤ، کمزور معیشت اور امیگریشن جیسے مسائل شامل ہیں۔ بہت سے ووٹرز کا خیال ہے کہ لیبر حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور کیئر اسٹارمر وہ تبدیلی نہیں لا سکے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔
یہ انتخابات خود کیئر اسٹارمر کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے استعفے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپنی رفتار تیز کرے گی، لیکن پارٹی کے اندر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ لیبر کے کئی اراکینِ پارلیمنٹ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ پارٹی ایک ہی وقت میں اپنے بائیں بازو کے حامیوں اور روایتی مزدور طبقے دونوں کی حمایت کھو رہی ہے۔
ترقی پسند ووٹرز گرین پارٹی اور آزاد امیدواروں کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ امیگریشن اور معیشت پر ناراض ووٹرز ریفارم یو کے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اب ویسٹ منسٹر میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا کیئر اسٹارمر کو بطور لیڈر برقرار رہنا چاہیے یا نہیں۔
ابھی تک لیبر پارٹی میں باقاعدہ بغاوت سامنے نہیں آئی، لیکن اندرونی سطح پر قیادت کی تبدیلی کے امکانات پر بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ بعض سینئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اگلے عام انتخابات میں لیبر شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے، چاہے اس کے پاس پارلیمنٹ میں واضح اکثریت موجود ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات
مقامی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو شدید دھچکے کے باوجود فوری عام انتخابات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ آئینی طور پر مقامی انتخابات حکومت کو گرانے کا سبب نہیں بنتے، اور لیبر اب بھی پارلیمنٹ میں مضبوط اکثریت رکھتی ہے۔ تاہم سیاسی طور پر ان نتائج نے حکومت کی مقبولیت اور مستقبل کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف لیبر کی ناکامی نہیں بلکہ برطانیہ کے روایتی دو جماعتی سیاسی نظام کے کمزور ہونے کی علامت بھی ہے۔
کئی دہائیوں تک برطانوی سیاست صرف لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے گرد گھومتی رہی، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ریفارم یو کے دائیں بازو کی نئی طاقت بن کر ابھر رہی ہے، گرین پارٹی نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں قوم پرست جماعتیں اپنی جگہ مضبوط کیے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ اب ایک ایسے سیاسی دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں کئی جماعتیں مل کر سیاست کا رخ طے کریں گی، اور مستقبل کے انتخابات پہلے سے کہیں زیادہ غیر متوقع ہوں گے۔
فی الحال کیئر اسٹارمر اقتدار میں موجود ہیں، لیکن ان کی سیاسی طاقت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اب ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج عوام کا اعتماد بحال کرنا اور ایک ایسی اپوزیشن کا مقابلہ کرنا ہے جو تیزی سے طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔
2026 کے مقامی انتخابات نے واضح کر دیا ہے کہ برطانوی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے — ایک ایسا دور جہاں پرانی سیاسی وفاداریاں ٹوٹ رہی ہیں اور عوام تبدیلی کے لیے پہلے
سے زیادہ بے چین نظر آ رہے ہیں۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان4 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان7 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

