Connect with us

پاکستان

معرکۂ حق، سفارتی کامیابیاں اور پاکستان کا عالمی وقار

syed shajjar abbas

تحریر: سید شجر عباس

مئی 2025 جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں ایک نہایت اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اچانک ایک خطرناک جنگی صورتحال میں تبدیل ہو گئی۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد دنیا بھر میں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی۔

عالمی میڈیا، سفارتی حلقے اور بین الاقوامی مبصرین یہ سوال اٹھانے لگے کہ اگر دونوں ایٹمی طاقتوں نے جذبات میں آ کر کوئی بڑا قدم اٹھا لیا تو اس کے نتائج صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔اگر طاقت کے توازن کا جائزہ لیا جائے تو بھارت ہر لحاظ سے ایک بڑا ملک تصور کیا جاتا ہے۔

آبادی کے اعتبار سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل، معاشی طور پر مضبوط، جدید ٹیکنالوجی سے لیس، اور عسکری بجٹ میں خطے کے دیگر ممالک سے کئی گنا آگے۔ بھارتی فضائیہ، بحریہ، جدید میزائل سسٹمز اور دفاعی ٹیکنالوجی کو ہمیشہ ایک بڑی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔

فرانس سے خریدے گئے رافیل طیارے، اسرائیلی ڈرون ٹیکنالوجی اور روسی دفاعی نظام بھارت کی عسکری طاقت کا اہم حصہ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن دو اور تین مئی کی درمیانی شب جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور مختلف شہروں پر ڈرون اور میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان کے اندر ایک اضطراب پیدا ہو گیا۔ عام شہریوں سے لے کر دفاعی تجزیہ نگاروں تک ہر شخص یہی سوچ رہا تھا کہ پاکستان کب اور کیسے جواب دے گا۔

پھر چھ مئی کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی اہم پریس کانفرنس سامنے آئی۔ اس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ دشمن نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا ہے اور پاکستان اسے دن کی روشنی میں جواب دے گا۔ اس اعلان نے پوری قوم کے حوصلے بلند کر دیے۔ اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے کس منظم حکمت عملی، جرات اور عسکری مہارت کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی میں اورسیز پاکستانی کیوں نشانے پر؟

پاکستانی فضائیہ نے کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے جس دلیری کے ساتھ کارروائیاں کیں، اس نے عالمی دفاعی ماہرین کو حیران کر دیا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی فضائیہ کے کئی جدید طیارے تباہ کیے گئے، جن میں رافیل طیاروں کا ذکر خاص طور پر کیا گیا۔ وہ طیارے جنہیں بھارت نے اربوں ڈالر خرچ کر کے حاصل کیا تھا، جنگی میدان میں اپنی برتری ثابت نہ کر سکے۔ دنیا بھر میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ آخر پاکستان نے اتنی مؤثر دفاعی صلاحیت کیسے حاصل کی۔ اس کامیابی کے پیچھے پاکستان اور چین  کے دفاعی تعاون کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

-17جے ایف تھنڈر  اور دیگر جدید نظاموں نے پاکستانی فضائیہ کو وہ قوت فراہم کی جس نے بھارت کی برتری کے تاثر کو چیلنج کر دیا۔ اس تمام صورتحال کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جس اتحاد اور تدبر کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ذکر تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف صدر مملکت آصف علی زرداری  اورفیلڈ مارشل عاصم منیر  نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اگرچہ بھارت کو معیشت، ٹیکنالوجی اور عسکری وسائل میں برتری حاصل تھی، مگر جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی۔ قیادت، حکمت عملی، جذبہ اور قومی اتحاد بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔

یہی وہ پہلو تھا جہاں پاکستان نے دنیا کو حیران کیا۔ جب جنگی صورتحال مزید سنگین ہونے لگی تو عالمی طاقتیں بھی متحرک ہو گئیں۔ بین الاقوامی سفارتی دباؤ بڑھا اور جنگ بندی کی کوششیں تیز ہوئیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ  کی جانب سے بھی سفارتی رابطے کیے گئے اور عالمی سطح پر ثالثی کی کوششوں کا ذکر سامنے آیا۔

عالمی میڈیا میں بارہا یہ تاثر دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر تھے۔ اس جنگ کے بعد پاکستان کو نہ صرف عسکری میدان میں پذیرائی ملی بلکہ عالمی سطح پر اس کی قیادت کو بھی احترام کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام ایک مضبوط، باوقار اور مدبر عسکری رہنما کے طور پر سامنے آیا۔ دنیا بھر میں ان کی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کو سراہا گیا۔ جنگ کے بعد مختلف ممالک نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی۔

سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات  جیسے ممالک نے پاکستان کی عسکری مہارت اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے پاکستان کی عالمی حیثیت کو مزید مضبوط کیا۔ اگر جنگی میدان میں پاکستان نے اپنی عسکری طاقت کا لوہا منوایا تو سفارتی محاذ پر بھی پاکستان نے ایک بھرپور اور مؤثر کردار ادا کیا۔

اس حوالے سے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سفارتی سرگرمیاں خاص طور پر عالمی توجہ کا مرکز بنیں۔ جنگ کے بعد انہوں نے امریکہ اور دیگر اہم ممالک میں پاکستانی مؤقف کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ امریکہ میں مختلف تھنک ٹینکس، سفارتی حلقوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے جس اعتماد، علمی انداز اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا بھر کے مبصرین کو متاثر کیا۔ انہوں نے پاکستان کے بیانیے کو صرف جذباتی انداز میں نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین، علاقائی امن اور زمینی حقائق کے تناظر میں پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ثالثی اور عالمی امن

دوسری جانب بھارتی وفد، جس کی قیادت ششی تھرور کر رہے تھے، نے بھی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں پاکستان کے خلاف سفارتی مہم چلانے کی کوشش کی۔ بھارتی وفد نے پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈا اور مختلف الزامات پیش کیے، تاہم عالمی سطح پر ان کے مؤقف کو وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی انہیں توقع تھی۔

اس کے برعکس بلاول بھٹو زرداری کی کرشماتی شخصیت، شائستہ اندازِ گفتگو، عالمی امور پر گہری گرفت اور سفارتی حکمت عملی کو غیر معمولی پذیرائی ملی۔ کئی بین الاقوامی مبصرین نے انہیں جنوبی ایشیا کی نئی نسل کے ایک مدبر اور مؤثر سفارتی رہنما کے طور پر پیش کیا۔ ان کی گفتگو میں اعتماد، دلیل اور امن کا پیغام نمایاں تھا، جس نے پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط کیا۔ اس سال 2026 فروری میں  مشرق وسطیٰ میں ایک اور خطرناک بحران نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران ، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے عالمی سطح پر خوف کی فضا پیدا کر دی۔

دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ شاید انسانیت ایک نئی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہر ملک اپنی داخلی معیشت، دفاعی تیاری اور قومی مفادات کے تحفظ میں مصروف دکھائی دیا۔ کوئی بھی کھل کر آگے بڑھنے کو تیار نہ تھا۔ ایسے وقت میں پاکستان نے ایک متوازن اور مثبت کردار ادا کیا۔ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد دنیا پاکستان کی قیادت کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی، اسی لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ پاکستان نے مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطے کر کے کشیدگی کم کی۔

آج دنیا اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان صرف جنگی میدان میں ہی نہیں بلکہ امن کے قیام میں بھی ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے ۔ آنے والے دنوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان امن معائدے ہونے جا رہے ہیں  تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھی جائیں گی۔ 

 معرکہ حق کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف، عسکری کامیابیوں اور قومی بیانیے کو اجاگر کرنے میں سید قمر رضا نقوی کا کردار بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے جس انداز میں دنیا بھر میں پاکستان کی عسکری طاقت، دفاعی حکمت عملی اور قومی جرات کو اجاگر کیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان اب صرف جنگی میدان میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ایک مضبوط اور باوقار مقام حاصل کر چکا ہے۔

چئیرمین او پی ایف سید قمر رضا نقوی

مختلف بین الاقوامی سیمینارز، کانفرنسز اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹیز کے ذریعے پاکستان کا مثبت تشخص پیش کرنا اور دنیا کو یہ باور کرانا کہ پاکستان ایک ذمہ دار، مضبوط اور پُرامن ریاست ہے، دراصل پاکستان کی سفارتی کامیابی کی علامت ہے۔ سید قمر رضا نقوی نے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو متحد کیا بلکہ انہیں پاکستان کے قومی بیانیے کا مؤثر سفیر بھی بنایا وہ قومی اتحاد کی ایک بہترین مثال ہے۔ ترسیلاتِ زر سے لے کر عالمی میڈیا میں پاکستان کا مؤقف اجاگر کرنے تک، اوورسیز پاکستانی ہر میدان میں سرگرم دکھائی دیے۔

یہ بھی پڑھیں: میرا نام آگ بجھانے والوں میں ہوگا

اوورسیز پاکستانیوں کو پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے اور انہیں محض زرمبادلہ بھیجنے والی کمیونٹی نہیں سمجھا جا رہا بلکہ قومی ترقی کا ایک اہم ستون تصور کیا جا رہا ہے۔سید قمر رضا نقوی کی قیادت، وژن اور اعلیٰ ظرفی نے اوورسیز پاکستانیوں کو ایک نئی شناخت دی۔ آج جب دنیا پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے تو اس کے پیچھے عسکری کامیابیاں، سیاسی بصیرت، سفارتی حکمت عملی اور اوورسیز پاکستانیوں کی قربانیاں سب شامل ہیں۔

پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ اگر قوم متحد ہو، قیادت مضبوط ہو اور مقصد قومی سلامتی اور ترقی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس ملک کو آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ پاکستان آج صرف ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ امید، استحکام، امن اور ذمہ دار قیادت کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ آنے والا وقت شاید اس حقیقت کا گواہ بنے کہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Ukraine drone attack Ukraine drone attack
تازہ ترین51 منٹس ago

روس کے علاقے بلگورود پر یوکرین کا ڈرون حملہ، 3 افراد ہلاک، 25 زخمی

بلگورود (صداۓ سچ نیوز) روس کے علاقے بلگورود میں یوکرین کے ڈرون حملے سے 3 افراد ہلاک اور 25 زخمی...

ishaq dar ishaq dar
پاکستان57 منٹس ago

مکہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں سے ہم آہنگ ہے، اسحاق ڈار نے معاہدے کے نکات شیئر کردیے

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان...

yemen-houthis yemen-houthis
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصاراللہ کا سعودی شہر جازان میں ڈرون حملےکا دعویٰ

صنعاء (صداۓ سچ نیوز) یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصاراللہ نے سعودی شہر جازان میں ڈرون حملےکا دعویٰ کرتے ہوئے...

ali-parvez-malik ali-parvez-malik
پاکستان1 گھنٹہ ago

اگلے 2 روز میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت برقرار رہی تو اچھی خبر سامنے آئے گی، وزیرپیٹرولیم

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیرپیٹرولیم علی پرویزملک نےکہا ہے کہ اگلے 2 روز میں عالمی منڈی میں تیل کی...

Supreme Leader Mojtaba Khamenei Supreme Leader Mojtaba Khamenei
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نئی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک نئی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ ایرانی...

abbas araqchi abbas araqchi
تازہ ترین2 گھنٹے ago

تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے لیے پوری طرح تیار ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تمام تر دباؤ کے باوجود مزاحمت کے...

Pakistan Brings US, Iran to Talks Pakistan Brings US, Iran to Talks
تازہ ترین20 گھنٹے ago

پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو چین اور برطانیہ جیسی بڑی طاقتیں ادا نہ کرسکیں، تجزیہ ساؤتھ ایشین وائسز

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کا کردار اہم رہا، پاکستان نے امریکا اور...

Hafiz-Naeemur-Rehman Hafiz-Naeemur-Rehman
پاکستان20 گھنٹے ago

16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دیں گے، حافظ نعیم الرحمان

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) امیر جماعت اسلام پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ 16 اگست کو چاروں...

Mir-Raza-New Mir-Raza-New
پاکستان20 گھنٹے ago

میر رضا کی قبرکشائی، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ، حیران کن انکشافات

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی میں میر رضا کی قبرکشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی، رپورٹ...

Gold Gold
پاکستان20 گھنٹے ago

سونے کی فی تولہ قیمت میں 2200 روپے کا اضافہ

ملک میں سونے کی اونچی اڑان جاری ہے، مسلسل چوتھے روز مہنگا ہوگیا۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی...

Trending