تازہ ترین
برطانیہ کی جامعات اور ویزا بحران، خوابوں کا سفر یا کاغذی بھنور؟
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
لندن کی سرد ہواؤں میں ان دنوں ایک عجیب سی بے یقینی گھلی ہوئی ہے۔ وہ نوجوان جو کتابوں، خوابوں اور روشن مستقبل کی امیدیں دل میں بسائے برطانوی جامعات کا رخ کرنا چاہتے تھے، اب کاغذی کارروائی کے ایک ایسے بھنور میں پھنس گئے ہیں جہاں ایک خط، ایک فیصلہ اور ایک مہر ان کی برسوں کی محنت کا دھارا بدل سکتی ہے۔
برطانیہ کی متعدد جامعات نے ویزا مسترد ہونے کے بڑھتے ہوئے خدشات اور ہوم آفس کے سخت قوانین کے باعث پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے طلبہ کے داخلے منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ یہ فیصلے بلاشبہ طلبہ کی خواہش کے برخلاف کیے جا رہے ہیں، کیونکہ جامعات کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگر ویزا مسترد ہونے کی شرح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی تو بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینے کا ان کا دیرینہ اختیار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار ایک انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ چند برس پہلے تک جہاں اسٹڈی ویزا کی درخواستوں کی مستردگی ایک معمولی بات سمجھی جاتی تھی، اب یہ شرح خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ 2023 میں یہ شرح محض 0.4 فیصد تھی، جو 2025 میں بڑھ کر 2.3 فیصد ہو گئی اور 2026 کی پہلی ششماہی میں یہ جمپ لگا کر 10.5 فیصد تک جا پہنچی۔
اس پالیسی تبدیلی کا سب سے گہرا زخم جنوبی ایشیائی طلبہ کو لگا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 3 فیصد رہنے والی پاکستانی طلبہ کی درخواستوں کی واپسی کی شرح اب یکدم 40.9 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے یہ شرح 23.5 فیصد، نائیجیرین طلبہ کے لیے 22.7 فیصد اور بھارتی طلبہ کے لیے 5.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
کسی دور میں برطانوی یونیورسٹیوں کے دروازے دنیا بھر کے ہونہار نوجوانوں کے لیے امید کی روشن کھڑکی ہوا کرتے تھے۔ لاہور، کراچی، ڈھاکا، دہلی اور دیگر شہروں سے آنے والے طلبہ اپنے ہاتھوں میں کتابیں اور دل میں نئے امکانات کے دیے سجائے یہاں پہنچتے تھے۔ مگر اب بدقسمتی سے کئی طلبہ کا یہ تعلیمی سفر ایئرپورٹ کا رخ کرنے سے پہلے ہی دم توڑنے لگا ہے۔
اس تمام صورتحال کے پس منظر میں ہوم آفس کے نئے ضوابط کا بنیادی کردار ہے۔ نئے کمپلائنس اصولوں کے تحت جامعات کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ویزا مسترد ہونے کی شرح کو انتہائی کم سطح پر رکھیں، ورنہ ان کے اسپانسرشپ لائسنس پر تلوار لٹک سکتی ہے۔ یہی خوف جامعات کو اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ وہ حتمی ویزا فیصلوں سے پہلے ہی خود احتسابی کے نام پر کئی طلبہ کے داخلے واپس لے لیں تاکہ منفی اعداد و شمار ان کے اپنے ریکارڈ کا حصہ نہ بنیں۔
تعلیمی حلقوں میں اس معاملے پر بے چینی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سربراہان اور ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ ویزا کے عمل میں یہ غیر یقینی صورتحال طلبہ اور تعلیمی اداروں دونوں کے لیے دردِ سر بن گئی ہے۔ ان کے نزدیک بین الاقوامی طلبہ محض فیس ادا کرنے والے ذرائع نہیں، بلکہ برطانوی جامعات کی علمی زندگی، تحقیقی میدان اور ثقافتی تنوع کی روح ہیں۔
دوسری جانب، ہوم آفس کا مؤقف ہے کہ برطانیہ کا امیگریشن نظام واضح اصولوں، قانون کی پاسداری اور ذمہ دارانہ نگرانی کا متقاضی ہے۔ حکام کا اصرار ہے کہ جامعات کو ایسے طلبہ کے انتخاب میں زیادہ محتاط رویہ اپنانا چاہیے جو اسٹڈی ویزا کی تمام شرائط پر پورا اترتے ہوں۔
مگر اس تمام کاغذی جنگ اور بحث کے پیچھے ایک تلخ حقیقت خاموشی سے سوالیہ نشان بنی کھڑی ہے: وہ نوجوان جنہوں نے برسوں کی شبانہ روز محنت کے بعد داخلے حاصل کیے اور اپنے مستقبل کے خوبصورت نقشے بنائے، آج ایک ایسے بے رحم نظام کے سامنے بے بس ہیں جہاں فیصلے صرف ان کی قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اداروں کے انتظامی و سیاسی خدشات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔
برطانوی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اس وقت ایک تاریخی اور مشکل موڑ پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی طلبہ کی فیسوں پر شدید انحصار کرنے والی جامعات کو آنے والے دنوں میں سنگین مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ادھر جنوبی ایشیا کے ہزاروں متوسط خاندان اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے نئی ذہنی اذیت اور فکروں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ برطانیہ اپنی جامعات کے عالمی دروازے کس طرح کھلے رکھتا ہے اور امیگریشن کے سخت گیر تقاضوں کے ساتھ اپنی صدیوں پرانی تعلیمی روایت کا توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ فی الحال تو بہت سے نوجوانوں کے لیے برطانیہ کا تعلیمی راستہ پہلے سے کہیں زیادہ طویل اور دھندلا دکھائی دے رہا ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ7 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان1 مہینہ agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

