پاکستان
ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ امریکی حملہ، پاکستان اور افغانستان بھی تابکاری کی زد میں آسکتے ہیں، امریکی پروفیسر کا انتباہ
واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر اور بین الاقوامی سلامتی کے ماہر رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیبات پر ممکنہ امریکی جوہری حملے کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ تابکاری کے پھیلاؤ سے پاکستان اور افغانستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
رابرٹ پیپ نے ایران کے زیرِ زمین جوہری مرکز پک ایکس ماؤنٹین جسے کوہ کولنگ بھی کہا جاتا ہے، پر ممکنہ حملے کے نتائج سے متعلق تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق اس مقام پر جوہری حملے کی صورت میں دھماکے کے فوری اثرات کے علاوہ تابکار مادوں کے فضا میں پھیلنے سے وسیع تر علاقائی خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے 3 نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سب اسٹیک پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 نومبر تک پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مقام پہاڑ کے اندر گہرائی میں واقع ہے اور امریکی روایتی بموں کے ذریعے اسے تباہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔
پک ایکس ماؤنٹین کیا ہے اور اسے نشانہ بنانا مشکل کیوں ہے؟
پک ایکس ماؤنٹین ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع ایک زیرِ زمین سرنگوں کا وسیع نیٹ ورک ہے، جو نطنز کے جوہری مرکز سے تقریباً دو کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ مقام فارسی زبان میں کوہِ کولنگ گزلا کہلاتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق یہ تنصیب سخت گرینائٹ چٹانوں کے اندر تعمیر کی گئی ہے، جس کے باعث اسے روایتی فضائی حملوں سے مکمل طور پر تباہ کرنا ایک بڑا فوجی اور تکنیکی چیلنج ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے میں 2026 کے دوران اس مقام پر تعمیراتی سرگرمیوں، سرنگوں کے داخلی راستوں کو مضبوط بنانے اور اندرونی سڑکوں کی تعمیر میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم وہاں یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں یا سینٹری فیوجز کی موجودگی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ممکنہ جوہری حملے کے علاقائی اثرات
رابرٹ پیپ کے مطابق ممکنہ جوہری حملے کا جائزہ لیتے ہوئے صرف فوری دھماکے اور تباہی کو نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے تابکاری کے خطرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ جوہری دھماکے کے نتیجے میں خارج ہونے والے تابکار ذرات ہواؤں کے ذریعے طویل فاصلے تک منتقل ہوسکتے ہیں اور انسانی صحت، ماحول، زراعت اور پانی کے ذخائر کو متاثر کرسکتے ہیں۔
ایران کے مشرقی اور شمال مشرقی علاقوں سے افغانستان جبکہ مشرقی سمت میں پاکستان کے بعض علاقوں تک ممکنہ تابکاری کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقے بھی اس حوالے سے زیرِ بحث ہیں۔
تاہم تابکاری کے پھیلاؤ کا انحصار جوہری دھماکے کی نوعیت، مقام، موسم اور ہوا کی سمت پر ہوگا۔ اس لیے کسی مخصوص پاکستانی علاقے کے متاثر ہونے کو یقینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

