تازہ ترین
دل کے دریچے
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
شام آہستہ آہستہ گاؤں پر اتر رہی ہے۔
سورج اپنی سنہری کرنیں سمیٹتے ہوئے افق کے پیچھے گم ہو رہا ہے۔
آسمان پر بکھری ہوئی سرخی دھیرے دھیرے نیلگوں اندھیرے میں تحلیل ہو رہی ہے۔
ہوا درختوں کی شاخوں سے سرگوشیاں کر رہی ہے۔
پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے ہیں-
اور۔۔۔ فضا پر ایک پُراسرار سی خاموشی چھا رہی ہے۔
میں گاؤں کے کنارے بہنے والی ندیا کے پاس بیٹھا ہوں۔
یہ ندیا میرے لیے محض پانی کا بہاؤ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی کتاب ہے۔ اس کے سینے میں بے شمار کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ وہ پہاڑوں سے نکلتی ہے، میدانوں سے گزرتی ہے اور اپنے سفر میں نہ جانے کتنے دکھ، کتنی خوشیاں اور کتنے راز اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے۔
جب میں اس کی لہروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی بھی ایک ندیا ہی کی مانند ہے۔
کبھی پرسکون،
کبھی بے قرار،
کبھی خاموش
اور ۔۔۔
کبھی طغیانی سے بھرپور۔
اسی گاؤں میں سلیمان نام کا ایک نوجوان رہتا ہے۔
سلیمان کا دل صبح کی پہلی کرن کی طرح شفاف ہے۔ وہ لوگوں پر بہت جلد اعتبار کر لیتا ہے۔ دنیا کی چالاکیوں، مفاد پرستیوں اور حسد کی آگ سے ابھی پوری طرح واقف نہیں۔ ہر مسکراہٹ کو خلوص سمجھتا ہے اور ہر نرم لفظ کو محبت کا نام دیتا ہے۔
اس کے دل کی زمین میں کئی خواب خاموشی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔
بڑے خواب۔
خوبصورت خواب۔
اور ۔۔۔
انہی خوابوں میں ایک خواب ایسا بھی ہے جو اس کی زندگی کا سب سے بڑا ارادہ بن چکا ہے۔
وہ گاؤں کے باہر پھیلی ہوئی بنجر زمین پر پھلوں کا ایک وسیع باغ لگانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
برسوں سے وہ تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرتا آ رہا ہے۔ ماہرین سے مشورے لیتا رہا ہے۔ عمدہ نسل کے پودوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا رہا ہے۔ اس کا یقین ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو نہ صرف اس کے گھر کے حالات بدل جائیں گے بلکہ گاؤں کے کئی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے بھی کھل جائیں گے۔
مگر ۔۔۔۔۔
سلیمان کی ایک کمزوری ہے۔
وہ اپنے دل کے دریچے ہر کسی کے سامنے کھول دیتا ہے۔
وہ اپنے خواب دوسروں سے چھپا نہیں پاتا۔
اپنے منصوبے کی تفصیلات سرعام بیان کرتا ہے۔ کس زمین پر باغ لگنے والا ہے، کتنی رقم جمع ہو چکی ہے، کون سے پودے آنے والے ہیں اور آئندہ وہ کیا کرنے والا ہے۔
لوگ بڑی دلچسپی سے اس کی باتیں سنتے ہیں۔
کچھ اس کی تعریف کرتے ہیں۔
کچھ دعائیں دیتے ہیں۔
اور کچھ خاموش رہتے ہیں۔
مگر سلیمان ابھی یہ نہیں سمجھ پایا کہ ہر خاموشی خیرخواہی کی علامت نہیں ہوتی۔
وقت اپنی رفتار سے رواں رہتا ہے۔
دن مہینوں میں بدلتے ہیں۔
مہینے موسموں میں۔
پھر ایک دن اچانک سلیمان کو معلوم ہوتا ہے کہ ایک بااثر شخص اس کے منصوبے کی خبر پا کر اسی علاقے کی زمین حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس پر اس کی نظر تھی۔ جن نایاب پودوں کا آرڈر سلیمان دینے والا تھا، وہ بھی پہلے ہی خریدے جا رہے ہیں۔ بازار میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں، حساب کتاب بگڑ رہا ہے اور برسوں کی محنت خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
وہ محسوس کرتا ہے جیسے اس کے خوابوں کے پر کاٹے جا رہے ہوں۔
اسی لمحے اسے قرآنِ مجید کا ایک واقعہ یاد آتا ہے…
حضرت یعقوبؑ نے اپنے بیٹے حضرت یوسفؑ سے فرمایا تھا:
"بیٹا! اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا، کہیں وہ تمہارے خلاف کوئی تدبیر نہ کرنے لگیں۔”
اس لمحے سلیمان پہلی بار اس نصیحت کی گہرائی کو سمجھتا ہے۔
وہ جان لیتا ہے کہ ہر سچ ہر شخص کو نہیں بتایا جاتا۔
ہر راز ہر کان کے لیے نہیں ہوتا۔
اور ہر خواب ہر مجلس میں نہیں سنایا جاتا۔
ایک شام وہ بوجھل قدموں سے چلتا ہوا ندیا کے کنارے آتا ہے اور میرے پہلو میں بیٹھ جاتا ہے۔
ہوا میں خنکی گھل رہی ہے۔
پانی خاموشی سے بہہ رہا ہے۔
اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں۔
آنکھوں میں اداسی تیر رہی ہے۔
چہرے پر بے شمار سوال ابھر رہے ہیں۔
کافی دیر تک وہ خاموش بیٹھا رہتا ہے۔
پھر دھیمی آواز میں کہتا ہے:
"لالا، لوگ دوسروں کے خواب بڑے شوق سے سنتے ہیں، مگر اُنہیں حقیقت کا روپ دھارتے دیکھ کر بے چین کیوں ہو جاتے ہیں؟”
میں اس کی طرف دیکھنے کے بجائے ندیا کی لہروں کو دیکھتا رہتا ہوں۔
وہ ندیا جو ہزاروں کناروں سے ملتی ہے مگر کسی کنارے کو اپنا راز نہیں بتاتی۔
وہ اپنے سینے کی گہرائیوں کو ہر ایک پر ظاہر نہیں کرتی۔
شاید اسی لیے کامیابی سےاپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔
میں آہستہ سے کہتا ہوں:
"سلیمان! دنیا میں ہر سننے والا تمہارا خیرخواہ نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تم کہاں تک پہنچے ہو۔”
وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتا ہے۔
میں بات جاری رکھتا ہوں:
"کچھ لوگ مرہم لے کر آتے ہیں اور کچھ نمک۔ ہاتھ دونوں کے یکساں دکھائی دیتے ہیں، مگر نیتوں کی خوشبو الگ ہوتی ہے۔”
ہوا کا ایک جھونکا ہمارے درمیان سے گزرتا ہے۔
ندیا کی سطح پر لہریں لرز اٹھتی ہیں۔
شام مزید گہری ہونے لگتی ہے۔
میں دھیرے سے کہتا ہوں:
"انسان اپنے گھر کا دروازہ ہر راہگیر کے لیے نہیں کھولتا۔ اپنی جمع پونجی ہر اجنبی کے حوالے نہیں کرتا۔ پھر وہ اپنے دل، اپنے خوابوں اور اپنے منصوبوں کا خزانہ ہر کسی کے سامنے کیوں رکھ دیتا ہے؟”
سلیمان کی نظریں بہتے ہوئے پانی پر جم جاتی ہیں۔
میں نرمی سے کہتا ہوں:
"دانا لوگ کہتے ہیں کہ پکا ہوا پھل خود اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے، اسے شاخ پر لٹک کر اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔”
کچھ لمحے خاموشی میں گزر جاتے ہیں۔
پھر میں کہتا ہوں:
"ایک اور کہاوت سنو۔ کام بولتا ہے، دعوے نہیں۔”
سلیمان پوری توجہ سے سن رہا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو آخری سلام
میں مزید کہتا ہوں:
"اعتماد ایک نعمت ہے، لیکن احتیاط ایک حکمت ہے۔ ہر شخص تمہارے اعتماد کا حق دار نہیں ہوتا۔”
یہ الفاظ اس کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔
شاید پہلی بار وہ اپنے اندر جھانک رہا ہوتا ہے۔
پہلی بار اسے احساس ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے دشمنوں سے نہیں بلکہ اپنی زبان کی بے احتیاطی سے نقصان اٹھاتا ہے۔
اس شام کے بعد سلیمان بدلنے لگتا ہے۔
وہ لوگوں سے نفرت نہیں کرتا۔
وہ بدگمان بھی نہیں ہوتا۔
مگر وہ پہچاننا سیکھ لیتا ہے۔
وہ چہروں کے پیچھے چھپے ہوئے ارادوں کو سمجھنا سیکھ لیتا ہے۔
اب وہ کم بولتا ہے اور زیادہ سوچتا ہے۔
کم شکوہ کرتا ہے اور زیادہ سیکھتا ہے۔
کم ظاہر کرتا ہے اور زیادہ سنوارتا ہے۔
وہ اپنے راز مخصوص لوگوں تک محدود رکھتا ہے۔
اور جن پر اعتماد کرتا ہے، دل سے کرتا ہے—–
وقت آگے بڑھتا رہتا ہے۔
موسم بدلتے رہتے ہیں۔
ندیا بہتی رہتی ہے۔
درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں۔
اور سلیمان کے اندر بھی ایک نیا موسم جنم لیتا ہے۔
وہ خاموشی سے دوبارہ محنت شروع کرتا ہے۔
اس بار وہ اپنے منصوبوں کا اعلان نہیں کرتا۔
اپنے ارادوں کو سینے میں محفوظ رکھتا ہے۔
دن رات محنت کرتا ہے۔
مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔
اور صبر کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
پھر ایک دن وہی ہوتا ہے جس کے لیے اس نے برسوں پسینہ بہایا تھا۔
اس کی خاموش محنت پھل لاتی ہے۔
اس کے خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔
گاؤں کے کنارے ایک سرسبز باغ کھڑا ہو جاتا ہے۔
درخت پھلوں سے لد جاتے ہیں۔
ہوا میں خوشبو پھیل جاتی ہے۔
پرندے شاخوں پر نغمے چھیڑ دیتے ہیں۔
لوگ حیرت سے اس باغ کو دیکھتے ہیں۔
کچھ تعریف کرتے ہیں۔
کچھ مبارک باد دیتے ہیں۔
اور کچھ حسبِ سابق خاموش رہتے ہیں۔
مگر سلیمان صرف مسکراتا ہے۔
اب وہ جان چکا ہوتا ہے کہ کامیابی کو اعلان کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس کی خوشبو خود لوگوں تک پہنچ جاتی ہے —–
آج ایک بار پھر شام ڈھل رہی ہے۔
میں حسبِ معمول ندیا کے کنارے بیٹھا ہوں۔
سورج غروب ہو رہا ہے۔
آسمان سرخ رنگ میں نہا رہا ہے۔
ہوا میں پھولوں کی خوشبو گھل رہی ہے۔
اسی اثنا میں سلیمان بھی آ کر میرے قریب بیٹھ جاتا ہے۔
مگر آج اس کے چہرے پر اداسی کی پرچھائیاں نہیں ہیں۔
آج اس کی آنکھوں میں سکون اتر آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روشن پاکستان، سیالکوٹ سے فیفا ورلڈ کپ تک
وہ زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہتا ہے:
"لالا، اب مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ دل کے دروازے سب کے لیے نہیں کھلتے۔ کچھ لوگ روشنی بن کر آتے ہیں اور کچھ اندھیرا بن کر۔”
میں آسمان کی طرف دیکھتا ہوں۔
پہلا ستارہ نمودار ہو چکا ہوتا ہے۔
ندیا خاموشی سے بہہ رہی ہوتی ہے۔
اور زندگی ایک بار پھر اپنا پرانا سبق دہرا رہی ہوتی ہے۔
زندگی آہستہ آہستہ یہ راز کھولتی ہے کہ دل اور ذہن کے دریچے ہر شخص کے لیے نہیں کھولے جاتے۔
کچھ لوگ روشنی بن کر آتے ہیں اور راستہ دکھا جاتے ہیں۔
جبکہ کچھ لوگ اندھیرا بن کر انسان کے ارادوں میں دھند بھر دیتے ہیں۔
اس لیے اعتماد ضرور کرو، مگر پہچان کے بعد۔
محبت ضرور کرو، مگر کردار دیکھنے کے بعد۔
اور اپنے خواب، اپنے منصوبے اور اپنے ارادے اُس وقت تک سینے میں محفوظ رکھو جب تک وہ اپنی جڑیں مضبوط نہ کر لیں۔
کیونکہ بعض بیج شور میں نہیں، خاموشی کی مٹی میں پروان چڑھتے ہیں۔
اور پھر ایک دن تناور درخت بن کر دنیا کو سایہ دیتے ہیں —–
وقت کا کارواں اپنی رفتار سے رواں رہتا ہے۔
ندیا بہتی رہتی ہے۔
شامیں ڈھلتی رہتی ہیں۔
موسم بدلتے رہتے ہیں۔
اور انسان عمر بھر ایک ہی فن سیکھتا رہتا ہے—
لوگوں کو پہچاننے کا فن، اور اپنے خوابوں کی حفاظت کا ہنر۔
-
پاکستان4 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
برطانیہ اور یورپ4 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان7 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان10 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان5 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
ایکسکلوسِو9 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

