Connect with us

تازہ ترین

واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا

Syed Arshad Ali Naqvi

ایک تحقیقی جائزہ سلسلہ نمبر 9

تحریر : سید ارشد علی نقوی

سیرتِ حضرت علی اکبر علیہ السلام
نوجوان نسل کے لئے نمونہ عمل ہے

تاریخ اسلام کے افق پر حضرت علی اکبر ابن امام حسین علیہ السلام کا کردار ایک درخشندہ ستارے کی مانند ہے جو ایمان، جرات اور ایثار کی روشنی بکھیرتا ہے۔

انہیں امام حسین علیہ السلام کے فرزند ، امیرالمومنین امام المتقین علی ابنِ ابی طالب اور سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کے پوتے ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ آپ کی زندگی بظاہر مختصر تھی، مگر اس میں انسانیت، اخلاق اور شجاعت کے وہ پہلو پوشیدہ ہیں جو آج بھی اہل ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

خاص طور پر ان کے ابتدائی ایام، جو مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر گزرے، نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب مولا علی علیہ السلام کی سرپرستی میں امام حسین علیہ السلام نے ان کی شخصیت سازی کی بنیاد رکھی ، انہیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرایا اور ان کے اندر ایسی صفات حسنہ کو پروان چڑھایا جنہوں نے کربلا کے میدان میں انہیں ایک عظیم المرتبت سپوت ثابت کیا۔

حضرت علی اکبر کی تاریخ ولادت کے بارے میں دو مشہور روایات پائی جاتی ہیں۔ اکثر مورخین ان کی ولادت 11 شعبان المعظم 33 ہجری اور بعض نے 43 ہجری تحریر کی ہے تاہم اس میں 33 ہجری کو فوقیت دی جاتی ہے۔

حضرت علی اکبر کے نسب نامے کا یہی امتیاز کافی ہے کہ اسلامی تاریخ میں آپ کےاجداد کی مثال لانا محال ہے۔

والد امام حسین بن علی بن ابی طالب علیہما السلام دادا مولا علی علیہ السلام اور اجداد میں ختمی مرتبت پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اور سید البطحاء حضرت ابو طالب علیہ السلام کے درخشاں اسمائے مبارکہ نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا! سلسلہ نمبر 6

والدہ لیلیٰ بنت ابی مُرّۃ بن عروہ بن مسعود ثقفی اور نانا ابو مُرّۃ بن عروہ ثقفی قبیلہ ثقیف کے معزز سرداروں میں سے تھے۔

مورخین اور محدثین نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ حضرت علی اکبر کی شکل و صورت، قد و قامت، چال ڈھال اور حتیٰ کہ بولنے کا انداز حضور نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے انتہائی مشابہت رکھتا تھا۔ انہیں "شبیہ النبی” یعنی نبی کریم کا ہم شکل کہا جاتا تھا اور مدینہ کے لوگ جب انہیں دیکھتے تو اکثر آنکھوں میں آنسو لے آتے اور حضور سرور کونین کی یاد تازہ کرتے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام میں سے کچھ بزرگوں نے انہیں دور سے دیکھا اور سمجھا کہ شاید خود رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا رہے ہوں جب قریب آئے تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو امام حسین علیہ السلام کے فرزند علی اکبر ہیں۔

آپ کی رسول اللہ سے یہ مشابہت صرف ظاہری حد تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے اخلاق، نرم گفتاری، بردباری، شجاعت اور فیاضی بھی بالکل حضور مکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح تھی مثلاً
ہمیشہ مسکراتے نظر آتے،
بڑوں کی عزت کرتے اور چھوٹوں پر شفقت فرماتے،
ہمہ وقت کسی پریشان حال کی مدد کے لیے ہمہ قسمی اعتبار سے تیار رہتے۔

آپ کی والدہ محترمہ فرمایا کرتی تھیں: "میرا بیٹا علی اکبر اخلاق میں اپنے پردادا کا آئینہ ہے۔”

امام حسین علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے: "جب مجھے اپنے دادا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی یاد آتی ہے تو میں علی اکبر کو دیکھ لیتا ہوں۔”

مدینہ منورہ اس وقت علم و حکمت اور دین کا گہوارہ تھا اور اس کا مرکز اہل بیت علیہم السلام کا گھر، حضرت علی اکبر نے اپنی ابتدائی اور نوجوانی کی زندگی اسی مقدس گھر میں گزاری۔

وہ ایک ایسے گھر میں پروان چڑھے جہاں ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت، ذکر الٰہی اور سنتِ نبوی کا احیاء ہوتا تھا۔ والد ماجد امام حسین علیہ السلام ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے تھے جب کہ ان کی پرورش میں چند اہم شخصیات کا کردار بھی نظر آتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام خود اپنے فرزند کو نماز، روزہ، قرآن اور اخلاقیات کی تعلیم دیتے۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ان کی پھوپھی ہونے کے ناطے حضرت علی اکبر کی ذہنی اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا! سلسلہ نمبر 5

آپ کے دادا امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام جب تک وہ زندہ رہے کم و بیش 33 سے 40 ہجری تک انہوں نے ہی اپنے پوتے کو حکمت، عدل اور شجاعت کے اسباق سکھائے۔ آپ نے کم عمری میں ہی قرآن مجید بھی حفظ کیا۔

اپنے والد اور دادا باب علم النبی یعنی امام علی علیہ السلام سے احادیث نبوی کا علم حاصل کیا اور انہیں یاد کیا۔

آپ علم فقہ اور شریعت یعنی حلال و حرام اور اسلامی احکام سے پوری طرح باخبر تھے اور چونکہ آپ کا خاندان فصاحت و بلاغت کا مرکز تھا، اس لیے وہ خود بھی فصیح اللسان ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کے باریک نکات سے بھی واقف تھے۔

کربلا میں انہوں نے جو رجز پڑھے وہ ان کی فصاحت کی دلیل ہیں۔

جنگی اور جسمانی تربیت کی تو بات ہی کیا جس گھر میں اشجع العرب، صاحب ذوالفقار علی ابن ابی طالب جیسی شخصیت اور ان کے تربیت یافتہ عباس ابن علی موجود ہوں۔

گھڑ سواری، تیر اندازی، نیزہ بازی اور شمشیر زنی اس دور کی ضرورت تھی حضرت علی اکبر نے ان تمام فنون میں مہارت حاصل کی بالخصوص ان کے چچا حضرت عباس نے انہیں میدان جنگ کی چالوں اور بہادری کے آداب سکھائے۔

آپ مدینہ میں اکثر گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے مقابلوں میں حصہ لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کے میدان میں جب وہ میدانِ کارزار میں اترے تو دشمن کے لشکر کے بڑے بڑے پہلوان ان کا سامنا نہ کر سکے۔

سماجی حیثیت کے اعتبار سے اپنے نسب، اخلاق اور رعب و دبدبے کی وجہ سے حضرت علی اکبر مدینہ کے تمام قبائل میں انتہائی مقبول و محترم شخصیت تھے۔ وہ نوجوانوں کا مرجع اور بزرگوں کی محفل کا چراغ سمجھے جاتے تھے یہاں تک کہ قبائلی جھگڑوں میں ثالثی کی ضرورت ہوتی، تو لوگ ان کی طرف رجوع کرتے کیوں کہ وہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دیتے اور ظالم کو ظلم سے روکتے۔

مدینہ میں رسول اللہ کی یادگار سمجھے جاتے جن گلیوں سے بھی گزرتے تو لوگ درود و سلام پڑھتے اور حضور رحمت عالم کی یاد میں آنسو بہاتے۔

عبادات اور ریاضت کے میدان میں خانوادہ اہلبیت ہونے کے ناطے آپ بھی بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔ شب بیداری اور تہجد آپ کے معمول کا حصہ تھا۔ اکثر مسجد نبوی میں گوشہ نشین ہو کر قرآن پڑھتے اور مناجات و گریہ و زاری کرتے۔ اپ کی آواز محبوب خدا سے بہت مماثل تھی، آپ جب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے یا اذان دیتے تو سننے والے محو ہو جاتے۔

فرزند حسین علیہ السلام کبھی غصے میں نہیں آتے تھے۔ تاریخ میں ایک واقعہ منقول ہے کہ کسی شخص نے انہیں ناروا و ناسزا کہا، مگر انہوں نے اسے معاف کر دیا اور اس کے لیے دعا کی۔ یہ کردار ان کے دادا مولا علی علیہ السلام اور پردادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کا آئینہ دار تھا۔

یہ بات بھی آپ کے خصائص کا حصہ ہے کہ مدینہ کے غربا اور مساکین کو آپ کی سخاوت کا اک خاص حصہ ملتا تھا اور ماہ رمضان میں تو وہ خاص طور پر کھانے، پینے اور نقد رقم کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام اپنے والد امام حسین علیہ السلام کی انتہائی خدمت کرتے اور ہمیشہ ان کا حکم آنکھوں پر رکھتے۔
28 رجب 60 ہجری کو جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ چھوڑا تو حضرت علی اکبر ان کے ہمرکاب تھے۔ یہ آپ کی زندگی کا آخری اور سب سے فیصلہ کن سفر تھا جس کا آغاز مدینہ اور اختتام کربلا میں ہوا۔

معرکہ کربلا میں حضرت علی اکبر اپنے والد کے لئے قدم قدم پر مشیر اور خاص معتمد کے طور پر نظر آتے ہیں۔

شب تاسوعا یعنی 9 محرم کی رات جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو رخصت دینے کا اعلان کیا تو حضرت علی اکبر کھڑے ہوئے اور فرمایا: "والد گرامی ! ہم حق پر ہیں، باطل ہم کو کبھی جدا نہیں کر سکتا۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، چاہے موت آ جائے۔”

یہ بھی پڑھیں: امام حسینؑ، انسانیت کی ابدی روشنی

عاشور کے دن آپ دفاع اسلام کے لئے جانے والے پہلے ہاشمی جوان تھے اور یہ تاریخ کا سینہ چاک کر دینے والا لمحہ تھا جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اجازت دی۔

میدان جنگ میں جانے سے پہلے آپ خیمے میں گئے جہاں زینب و کلثوم و سکینہ و دیگر فاطمی خواتین نے انہیں رخصت کیا

امام حسین علیہ السلام نے خود انہیں گھوڑے پر سوار کرایا ۔ جب علی اکبر رخصت ہونے لگے تو امام علیہ السلام نے ان کا ہاتھ پکڑا اور پیچھے سے ان کے ساتھ چلنے لگے۔ علی اکبر نے پیچھے مڑ کر پوچھا: "بابا جان! آپ کیوں میرے پیچھے چل رہے ہیں؟”

امام نے بڑا پر درد جواب دیتے ہوئے فرمایا: "بیٹے! اگر تمہارا تم جیسا بیٹا ہوتا تو تب تم احساس کر پاتے کہ کیوں کر ایک باپ کا دل بیٹے کے پیچھے چلنے کو چاہتا ہے۔”

حضرت علی اکبر نے میدان میں پہنچ کر ایسے ایسے رجز پڑھے کہ دشمن کے پائے تلے زمین نکل گئی۔ آپ حملہ کرتے اور پکارتے جاتے:

"میں علی اکبر ہوں، اور علی کا بیٹا ہوں، اور ہم اہل بیت نبی ہیں۔ خدا کی قسم! میں رسولِ خدا کے طریقے پر ہوں اور میں باطل کو نہیں مانتا۔”

آپ نے ایک ایک کر کے کئی مشہور جنگجوؤں کو ہلاک کیا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ انہوں نے 120 سے زائد دشمنان اسلام کو فی النار کیا جس سے دشمن کی فوج میں شدید ہیجان پھیل گیا۔

یہ منظر دیکھ کر عمر ابن سعد نے فوراً حکم دیا کہ تمام تیر انداز اور نیزہ بردار علی اکبر کو نشانہ بنائیں۔ پیاس کی شدت، تیروں اور نیزوں کے وار سے وہ زخمی ہو گئے۔آخری حملے میں ایک قاتلانہ نیزہ ان کے سینے مبارک پر لگا، آپ گھوڑے سے گرے تو امام حسین علیہ السلام دوڑتے، گرتے، سنبھلتے ہوئے آپ کے سرہانے پہنچے۔

امام علیہ السلام نے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر اپنے بیٹے کے چہرے کو چوما اور کہا: "بیٹے! تمہارے بعد دنیا کی زندگی پر خاک ہے”
حضرت علی اکبر نے کہا ” بابا جان! یہ میرے جد امجد محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ہیں جو مجھے جام کوثر سے سیراب فرما رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ بیٹا حسین ہم جلد ہی تمہاری ملاقات کے مشتاق ہیں ۔

یہی وہ لمحہ تھا جب حضرت علی اکبر نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی۔ آپ کی شہادت کربلا کا سب سے دلخراش واقعہ ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے ان کے جسد مبارک کو اپنے خیام میں سے ایک خیمے میں رکھ دیا اور بے پناہ گریہ فرمایا۔

حاصلِ کلام یہ کہ حضرت علی اکبر ابن امام حسین علیہ السلام کی زندگی ہر نوجوان کے لئے ایک جامع درسگاہ ہے۔

جس میں ان کی تربیت، ان کے علمی مقام، ان کا اخلاقی پہلو اور والدین سے محبت نے انہیں ایک مکمل انسان بنایا۔

مدینے کی پرامن گلیوں سے لے کر کربلا کے خون آلود میدان تک، آپ کا کردار ہمیں راہِ حق میں ڈٹ جانے اور امام وقت پر جان نچھاور کرنے کا درس دیتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

B2 Bombers B2 Bombers
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

ایران نے اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا

تہران (صدائے سچ نیوز) ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی...

Lebanon Lebanon
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

لبنان: اسرائیلی فوج نے گھروں کو مسمار اور نذرِ آتش کردیا

بیروت (صدائے سچ نیوز) اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ضلع النبطیہ میں گھروں کو مسمار اور نذرِ آتش کر...

Federal Government Employees Housing Authority FGEHA Federal Government Employees Housing Authority FGEHA
پاکستان2 گھنٹے ago

ایف جی ای ہاوسنگ اتھارٹی کا بروقت اقساط نہ جمع کرانے پر پلاٹ کینسل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی نے بروقت اقساط جمع نہ کرانے پر پلاٹوں کی الاٹمنٹ...

Syed Arshad Ali Naqvi Syed Arshad Ali Naqvi
تازہ ترین2 گھنٹے ago

واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا

ایک تحقیقی جائزہ سلسلہ نمبر 9 تحریر : سید ارشد علی نقوی سیرتِ حضرت علی اکبر علیہ السلامنوجوان نسل کے...

muharram-ul-haram muharram-ul-haram
پاکستان1 دن ago

شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو سلام، ملک بھر میں نویں محرم الحرام کے جلوس برآمد، روایتی راستوں پر گامزن

شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو سلام، ملک بھر میں نویں محرم الحرام کے جلوس برآمد،روایتی راستوں پر گامزن ہے۔...

Trump Trump
تازہ ترین1 دن ago

ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، ٹرمپ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر...

venezuela-earthquake venezuela-earthquake
تازہ ترین1 دن ago

وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کا زلزلہ،32 ہلاک، 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ

کاراکاس (صداۓ سچ نیوز) وینزویلا میں 7.1 شدت کے خوفناک زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے...

crude-oil-prices crude-oil-prices
تازہ ترین1 دن ago

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 4 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے عالمی معیشت پر مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے،جس کے نتیجے میں...

baqir qalibaf baqir qalibaf
تازہ ترین1 دن ago

ایران نے امریکا سے ایم او یو پر واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایران نے امریکا سے ایم او یو پر واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا۔...

tel aviv tel aviv
تازہ ترین1 دن ago

اسرائیل کا امریکا سے تل ابیب ائیرپورٹ خالی کرنے کا مطالبہ، وجہ بھی سامنے آگئی

تل ابیب (صداۓ سچ نیوز) اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ائیرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی۔ اسرائیلی میڈیا...

Trending