Connect with us

تازہ ترین

ایک ایمبولینس اور اکتیس برس کا عہد

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹتے نہیں، بلکہ انسان کے دل میں خاموشی سے زندہ رہتے ہیں۔ وہ کبھی آنکھوں سے آنسو بن کر بہتے ہیں، کبھی دعا بن کر لبوں پر آتے ہیں، اور کبھی کسی عہد کی صورت اختیار کرکے پوری زندگی کا راستہ بدل دیتے ہیں۔

یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی درد کی ہے۔

پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک دور افتادہ گاؤں میں چودھری افتخار نامی ایک شخص رہتا ہے۔ آج وہ بہت خوش حال ہے، اس کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے، لیکن اس کی زندگی کی کتاب میں اکتیس برس پرانا ایک ایسا صفحہ بھی ہے جسے وہ چاہ کر بھی کبھی بند نہیں کر سکتا۔

اس صفحے پر اس کی ماں کا چہرہ ہے۔

ایک بیمار ماں کا چہرہ، جس کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کے لیے محبت ہے، جس کے لبوں پر شاید کوئی دعا ہے، اور جس کے وجود میں زندگی کی رمق آہستہ آہستہ مدھم پڑ رہی ہے۔

وہ وقت آج بھی افتخار کے دل میں کسی گہرے زخم کی طرح تازہ ہے۔

گھر میں بے بسی کا عالم ہے۔ ماں کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔ اسے فوری طور پر اسپتال پہنچانا ضروری ہے۔ گھر والے پریشان ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ کسی ان دیکھے خوف کو قریب لا رہا ہے۔

افتخار اپنی ماں کو دیکھتا ہے۔

وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح اسے اسپتال لے جائے۔ کسی ڈاکٹر تک پہنچا دے۔ کوئی ایسی گاڑی مل جائے جو اسے موت کے اس بڑھتے ہوئے سائے سے دور لے جائے۔

مگر غربت انسان سے صرف آسائشیں نہیں چھینتی، کبھی کبھی اس کے اختیار میں موجود آخری امید بھی چھین لیتی ہے۔

ایمبولینس کے لیے پندرہ سو روپے درکار ہیں۔

صرف پندرہ سو روپے!

آج شاید یہ رقم کسی کے لیے معمولی ہو، لیکن اس وقت افتخار کے خاندان کے لیے یہ ایک ایسی دیوار ہے جسے وہ اپنی تمام تر بے بسی کے باوجود عبور نہیں کر سکتا۔

وہ رقم موجود نہیں۔

ایمبولینس نہیں آتی۔

اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔

ماں اسپتال نہیں پہنچ پاتی اور زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔

ایک گھر میں خاموشی اتر آتی ہے۔ وہ خاموشی جس میں کسی کی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر ہر طرف اسی کی یاد بکھری ہوتی ہے۔ وہ ماں جو کبھی اپنے بیٹے کو آواز دیتی تھی، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہے۔

افتخار کے لیے دنیا جیسے وہیں ٹھہر جاتی ہے۔

اس کے دل میں ایک سوال جنم لیتا ہے۔

کیا واقعی کسی انسان کی زندگی اس لیے ختم ہو جانی چاہیے کہ اس کے گھر میں ایمبولینس کے پیسے نہیں ہیں؟

کیا غربت اتنی بے رحم ہو سکتی ہے کہ ایک بیٹے کو اپنی ماں کے لیے بے بسی سے کھڑے رہنا پڑے؟

کیا چند ہزار روپے کسی کی زندگی اور موت کے درمیان آخری فاصلہ بن سکتے ہیں؟

ان سوالوں کا جواب اس کے پاس نہیں، مگر ان کا درد اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر جاتا ہے۔

ماں کی تدفین کے بعد جب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، تو افتخار کے اندر ایک ایسا عہد جنم لیتا ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔

وہ اپنے دل میں فیصلہ کرتا ہے کہ ایک دن وہ اس قابل ضرور بنے گا کہ کسی دوسرے گھر میں ایسی بے بسی جنم نہ لے۔

کوئی دوسرا بیٹا اپنی ماں کو اسپتال لے جانے کے لیے پیسوں کا محتاج نہ ہو۔

کوئی دوسرا باپ اپنے بچے کو گود میں اٹھائے کسی سواری کا انتظار نہ کرتا رہے۔

اور کوئی دوسرا خاندان محض غربت کی وجہ سے اپنے پیارے کو کھونے کے بعد عمر بھر یہ سوال نہ کرتا رہے کہ کاش وقت پر ایمبولینس مل جاتی!

یہ عہد بظاہر ایک خاموش خواہش ہے، مگر درحقیقت یہی خواہش اس کی زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔

وقت گزرتا ہے۔

موسم بدلتے ہیں۔ سال اپنے قدموں کے نشان چھوڑتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ زندگی افتخار کو آزمائشوں سے گزارتی ہے۔ وہ محنت کرتا ہے، مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور اپنے حالات بدلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

مگر اس کے دل میں ایک یاد ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

ماں کی یاد!

اکتیس برس بیت جاتے ہیں، لیکن وہ واقعہ اس کے ذہن سے محو نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ دولت انسان کے لیے بہت سے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن اگر اس دولت سے کسی کی جان بچانے، کسی کے آنسو پونچھنے اور کسی کے گھر میں امید روشن کرنے کا کام نہ لیا جائے، تو اس کی اصل قدر ادھوری رہ جاتی ہے۔

پھر سال 2026 آتا ہے۔

اور اس سال افتخار کا اکتیس سال پرانا عہد ایک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔

چودھری افتخار اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک ایمبولینس عطیہ کرتا ہے، تاکہ ضرورت کے وقت کسی مریض کو اسپتال پہنچانے میں محض وسائل کی کمی رکاوٹ نہ بنے۔

ذرا اس لمحے کا تصور کیجیے!

ایک طرف آج کی یہ ایمبولینس ہے، جو کسی بیمار کو اسپتال پہنچانے کے لیے تیار کھڑی ہے، اور دوسری طرف اکتیس برس پہلے کا وہ بے بس نوجوان ہے، جو اپنی ماں کو بچانے کے لیے صرف پندرہ سو روپے کا انتظام نہیں کر پاتا۔

فرق صرف اتنا ہے کہ آج وہ نوجوان اپنی محرومی کو کسی دوسرے انسان کی محرومی نہیں بننے دینا چاہتا۔

آج اس کے پاس وہ ذریعہ موجود ہے جس کی کمی نے کبھی اس کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا کیا تھا جو شاید کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔

لیکن افتخار کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

اس کے نزدیک خدمت کا مطلب صرف ایک ایمبولینس عطیہ کر دینا نہیں، بلکہ کسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا ہے۔

گاؤں والے بتاتے ہیں کہ وہ اب تک چودہ سے زائد بچوں کی شادیوں میں مدد کر چکا ہے۔ ہر ماہ 131 سے زائد مستحق گھرانوں تک راشن پہنچانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

وہ ایسے ضرورت مند قیدیوں کے جرمانے ادا کرنے میں مدد کرتا ہے جن کے لیے رہائی کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ بھٹہ مزدوروں کے قرض ادا کرنے میں بھی مدد دیتا ہے، تاکہ قرض کے بوجھ تلے دبے خاندانوں کو آزادی اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

یتیم بچوں کی کفالت بھی اس کی فلاحی سرگرمیوں کا حصہ ہے۔

یہ سب کچھ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ان گھروں کی کہانیاں ہیں جہاں شاید کسی بچے کے چہرے پر پہلی بار اطمینان بھری مسکراہٹ آتی ہے، کسی ماں کے چولہے میں دوبارہ آگ جلتی ہے، کسی باپ کے کندھوں سے قرض کا بوجھ اترتا ہے، اور کسی یتیم بچے کو احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔

افتخار اس خدمت کے سفر میں اکیلا نہیں ہے۔ وہ اپنے دوستوں، بھائیوں اور کزنز کے ساتھ مل کر مکہ مدینہ ویلفیئر سوسائٹی کے ذریعے علاقے کے ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

یوں ایک شخص کے دل میں جنم لینے والا عہد آہستہ آہستہ بہت سے لوگوں کی امید بن جاتا ہے۔

شاید یہی انسانیت کی اصل خوب صورتی ہے!

جب ایک شخص کا درد دوسرے شخص کے لیے آسانی پیدا کرنے کا سبب بن جائے، جب اپنی محرومی کسی دوسرے کے لیے سہارا بن جائے، اور جب ماضی کا ایک زخم مستقبل کے کسی انسان کی خوشی میں بدل جائے، تو زندگی محض گزرنے کا نام نہیں رہتی، بلکہ ایک مقصد حاصل کر لیتی ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر آج افتخار کی ماں زندہ ہوتی اور اپنے بیٹے کو یہ سب کرتے دیکھتی، تو اس کی آنکھوں میں کتنی خوشی ہوتی!

وہ دیکھتی کہ اس کا بیٹا صرف اپنے لیے نہیں جیتا۔ وہ ان ماؤں کے لیے بھی جیتا ہے جنہیں اچانک اسپتال لے جانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ وہ ان بچوں کے لیے بھی کھڑا ہے جن کے گھروں میں غربت نے خوشیوں کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ وہ ان مجبور خاندانوں کے لیے بھی امید بنتا ہے جنہیں زندگی کے کسی موڑ پر ایک مددگار ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ممکن ہے ماں کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔

مگر یہ آنسو دکھ کے نہیں، فخر کے ہوتے۔

کیونکہ اس کا بیٹا اس کی جدائی کو محض ایک تلخ یاد نہیں بننے دیتا، بلکہ اسے دوسروں کے لیے رحمت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

ماں تو اکتیس برس پہلے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے، مگر اس کی جدائی سے جنم لینے والا عزم آج بھی زندہ ہے۔

وہ عزم ایک ایمبولینس کی صورت میں گاؤں کی سڑکوں پر موجود ہے۔

وہ کسی ضرورت مند گھر کے راشن میں شامل ہے۔

وہ کسی بیٹی کی شادی میں شریک ہے۔

وہ کسی مجبور مزدور کے قرض سے نجات پانے کی امید ہے۔

اور وہ کسی یتیم بچے کے مستقبل میں روشن ہونے والا ایک ننھا سا چراغ بھی ہے۔

*یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ہر دکھ کو مٹا نہیں سکتا، لیکن اپنے دکھ سے دوسروں کے لیے آسانی ضرور پیدا کر سکتا ہے۔

ہم ماضی میں واپس جا کر کسی بچھڑے ہوئے عزیز کو نہیں بچا سکتے۔ ہم گزرے ہوئے وقت کو دوبارہ نہیں لا سکتے۔ مگر ہم آج ایسا قدم ضرور اٹھا سکتے ہیں جس سے کسی دوسرے گھر میں وہی سانحہ رونما ہونے سے بچ جائے۔

ضروری نہیں کہ ہر شخص ایک ایمبولینس عطیہ کرے۔ ہر انسان کے وسائل مختلف ہوتے ہیں، مگر خدمت کے لیے ہمیشہ دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کبھی کسی مریض کو اسپتال پہنچا دینا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔

کبھی کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا بھی کسی کی دنیا بدل دیتا ہے۔

کبھی کسی غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھا لینا بھی ایک نسل کا مستقبل روشن کر دیتا ہے۔

اور کبھی کسی دکھی انسان کی بات سن لینا بھی اس کے لیے امید کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

چودھری افتخار کی کہانی کا اصل سبق یہی ہے کہ انسان کی عظمت اس دولت میں نہیں جو وہ جمع کرتا ہے، بلکہ اس آسانی میں ہے جو وہ دوسروں کی زندگیوں میں پیدا کرتا ہے۔

*ایک ماں کی جدائی نے ایک بیٹے کے دل میں جو درد پیدا کیا، وہ درد اکتیس برس بعد سینکڑوں لوگوں کے لیے امید بن کر سامنے آتا ہے۔

اور شاید یہی کسی ماں کی تربیت کی سب سے خوب صورت میراث ہے کہ اس کا بیٹا دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کی محبت کو اپنے کردار کے ذریعے زندہ رکھتا ہے۔

کچھ لوگ دنیا میں رہ کر اپنے لیے گھر بناتے ہیں، کچھ اپنے نام کے لیے شہرت کماتے ہیں، مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔

چودھری افتخار کی یہ کہانی ہمیں اسی آخری راستے کی طرف بلاتی ہے۔

کیونکہ آخرکار انسان کے ساتھ اس کی دولت نہیں، اس کا کردار جاتا ہے؛ اس کی شہرت نہیں، اس کی نیکی یاد رہتی ہے۔

ماں چلی جاتی ہے، مگر اس کی محبت سے جنم لینے والی نیکی کبھی نہیں مرتی۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Prime Minister Meets Jamaat-e-Islami Delegation Prime Minister Meets Jamaat-e-Islami Delegation
پاکستان2 گھنٹے ago

وزیراعظم سے جماعت اسلامی وفد کی ملاقات، تین، تین رکنی کمیٹی کے قیام پر اتفاق

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی...

shafqat mahmood shafqat mahmood
پاکستان2 گھنٹے ago

انفارمیشن گروپ گریڈ 20 کے تجربہ کار افسر شفقت عباس ڈائریکٹر جنرل انٹرنل پبلسٹی ونگ تعینات

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) وزارتِ اطلاعات و نشریات نے انفارمیشن گروپ کے گریڈ 20 کے سنئیر و تجربہ کارافسر...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایک ایمبولینس اور اکتیس برس کا عہد

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ مٹتے نہیں، بلکہ...

karachi karachi
پاکستان3 گھنٹے ago

کراچی میں موبائل فون لیکر بھاگنے والے ملزم کی عدالت میں پیشی پر لڑکیوں نے چپلوں سےدھلائی کردی

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی کی عدالت نے نوکری کا جھانسہ دے کر 50 سے زائد لڑکیوں کے موبائل فون...

Netanyahu’s Party Netanyahu’s Party
تازہ ترین3 گھنٹے ago

نیتن یاہو کی پارٹی کو انتخابات میں شکست نظر آنے لگی، نیا پلان تیار کرلیا

تل ابیب (صداۓ سچ نیوز) اسرائیل میں جاری عام انتخابات کے دوران سیاسی تناؤ میں شدید اضافہ ہوگیا۔ موجودہ وزیراعظم...

electricity-thief-arrested electricity-thief-arrested
پاکستان3 گھنٹے ago

وزیر توانائی نے پروٹیکٹڈ صارفین کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) سینیٹ کے اجلاس میں عابد شیر علی نے وزارت توانائی کو آڑے ہاتھوں لیا تو...

Raja Nasir Abbas Raja Nasir Abbas
پاکستان3 گھنٹے ago

راجہ ناصر عباس پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پر برس پڑے

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر راجا ناصر عباس تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان...

Ambulence Ambulence
پاکستان4 گھنٹے ago

ملتان، زیر تعمیر عمارت کی چھت کا حصہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق، 7 زخمی

ملتان (صداۓ سچ نیوز) ملتان کے علاقے نگانہ چوک کے قریب زیر تعمیر عمارت کی چھت کا حصہ گرنے کا...

pti-flag pti-flag
پاکستان4 گھنٹے ago

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت نےحکومت سے مذاکرات کے حق میں رائے دے دی، ذرائع

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں...

Mohsin Naqvi Mohsin Naqvi
پاکستان4 گھنٹے ago

ساڑھے 3 ہزار قیدی اڈیالہ سے ماڈل جیل منتقل کیے جائیں گے، محسن نقوی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے کہا ہے کہ ساڑھے 3 ہزار قیدی اڈیالہ...

Trending