تازہ ترین
شام اور عراق کے درمیان سیدہ زینبؑ کے روضے پر زائرین کی آمد بحال کرنے کے لیے اہم پیش رفت، مذہبی سیاحت کے فروغ کی امید
دمشق (صدائے سچ نیوز) شام اور عراق نے دمشق کے قریب واقع حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک پر منظم مذہبی زیارتوں کی بحالی کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری، مذہبی سیاحت کے فروغ اور شام میں جنگ سے متاثرہ مقامی معیشت کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں 28 اکتوبر کو عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کے دورۂ دمشق کے دوران شامی صدر احمد الشرع سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں زائرین کی آمدورفت، ان کی حفاظت اور زیارتی انتظامات کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور آئی۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک زائرین کی آمد کی بحالی کے لیے کوئی حتمی تاریخ یا باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا۔
عراقی وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک اور تاریخی جامع اموی کی زیارت بھی کی۔ ان کے دفتر کے مطابق انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے دونوں مذہبی مقامات کے لیے مجموعی طور پر ایک کروڑ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا، جس میں پانچ ملین ڈالر ہر مقام کے لیے مختص کیے گئے۔
شام میں دسمبر 2024 میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد منظم زیارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔ اگرچہ انفرادی طور پر بعض زائرین کی آمد جاری رہی، تاہم عراق، ایران اور لبنان سمیت مختلف ممالک سے آنے والے بڑے زیارتی قافلوں کی سرگرمیاں محدود ہو گئیں، جس کے باعث روضہ مبارک کے اطراف ہوٹلوں، ریستورانوں، دکانوں اور ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابستہ سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے۔
مقامی تاجروں کو امید ہے کہ زیارتی سرگرمیوں کی بحالی سے ان کے کاروبار دوبارہ چل پڑیں گے اور علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
تاہم اس پیش رفت کے ساتھ شام میں ماضی کی خانہ جنگی کی تلخ یادیں اور سکیورٹی خدشات بھی وابستہ ہیں۔ خانہ جنگی کے دوران ایران کے حمایت یافتہ بعض عراقی اور لبنانی مسلح گروہوں نے بشارالاسد حکومت کی حمایت میں لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ ان گروہوں کی عسکری سرگرمیوں اور جنگ کے دوران شہری آبادی کو پہنچنے والے نقصانات کے حوالے سے بھی مختلف الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
شام کے بعض حلقوں کو خدشہ ہے کہ مذہبی زیارتوں کی بحالی کو کوئی مسلح گروہ اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔ تاہم مقامی سیاسی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ عام زائرین کو کسی مسلح تنظیم کی سرگرمیوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور مذہبی عبادت و زیارت کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
شامی وزارت اوقاف کے ایک عہدیدار احمد انور العلابی کے مطابق حکومت مذہبی مقامات تک رسائی اور عبادت کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ حکام زائرین کے لیے منظم گروپوں، مخصوص اوقات اور سکیورٹی انتظامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں وزارت داخلہ اور متعلقہ ادارے تعاون کریں گے۔
شامی حکام کے مطابق زیارتی سرگرمیوں کے دوران اسلحے کی نمائش، مسلح تنظیموں کی حمایت میں سرگرمیوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والے اقدامات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی مذہبی وابستگی یا قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
دوسری جانب شامی شہریوں نے بڑے زیارتی جلوسوں کے باعث ٹریفک کی بندش، روزمرہ زندگی میں خلل اور بعض متنازع مذہبی رسومات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مقامی آبادی کا مطالبہ ہے کہ زیارتی سرگرمیاں اس انداز میں منظم کی جائیں کہ شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوں اور مذہبی مقامات کا تقدس بھی برقرار رہے۔
پاکستانی تناظر میں اہمیت
شام اور عراق کے درمیان یہ پیش رفت پاکستان کے لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سے ہر سال بڑی تعداد میں زائرین عراق اور شام کے مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں۔ بالخصوص حضرت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ مبارک سے پاکستانی عوام کی گہری عقیدت وابستہ ہے۔
منظم زیارتی سرگرمیوں کی بحالی سے پاکستانی زائرین کے لیے بھی مستقبل میں شام کے سفر کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں، تاہم اس کا انحصار دونوں ممالک کے حتمی فیصلوں، سکیورٹی انتظامات، سفری سہولتوں اور متعلقہ حکومتی اجازت ناموں پر ہوگا۔
پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس پیش رفت کا سفارتی سطح پر جائزہ لے اور مستقبل میں پاکستانی زائرین کی شام آمدورفت کے حوالے سے سہولتوں، تحفظ اور قابلِ اعتماد سفری انتظامات کے لیے متعلقہ حکومتوں سے رابطہ رکھے۔
شام اور عراق کے درمیان یہ مذاکرات محض مذہبی زیارتوں کی بحالی کا معاملہ نہیں بلکہ خطے میں اعتماد سازی، مذہبی رواداری، معاشی بحالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ایک بڑے امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس عمل کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ مذہبی مقامات کے تقدس اور زائرین کے حقِ زیارت کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں کسی سیاسی یا عسکری تنازع سے مکمل طور پر الگ رکھا جائے۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

