Connect with us

تازہ ترین

نبأ عظیم سے ذبحِ عظیم تک

syed shajjar abbas

تحریر: سید شجر عباس

قرآنِ مجید میں سورۂ نبأ کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے:

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ ۝ عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ

“یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں؟ اس عظیم خبر کے بارے میں۔عظیم خبر اعلانِ ولایت علی ع ہے اور وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ

“اور ہم نے اسے بڑی قربانی ذبحِ عظیم میں بدل دیاہے ۔ ذبح ِعظیم شہادت امام حسین ابنِ علی ع ہے 

تاریخِ انسانیت میں بے شمار جنگیں لڑی گئیں، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، فاتحین کے نام بھی وقت کی گرد میں گم ہو گئے اور مفتوحین کی داستانیں بھی فراموش کر دی گئیں۔ لیکن کربلا کا واقعہ ایک ایسا عظیم سانحہ ہے جو چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی انسانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

یہ صرف ایک جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ حق اور باطل، عدل اور ظلم، وفا اور جفا، انسانیت اور حیوانیت کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا۔کربلا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس واقعے کا ہر کردار، ہر شہید، ہر علم، ہر خیمہ، ہر تیر، ہر نیزہ اور ہر تلوار آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ کچھ چیزیں فضائل کی صورت میں زندہ ہیں اور کچھ مصائب کی علامت بن چکی ہیں۔

جب مولا غازی عباس علیہ السلام کا علم کسی جلوس میں بلند ہوتا ہے تو وفاداری اور ایثار کی داستان تازہ ہو جاتی ہے۔ جب شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کا جھولا نظر آتا ہے تو انسانیت کے سینے میں درد کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے، اور جب ذوالجناح کا ذکر آتا ہے تو میدانِ کربلا کا منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔

واقعۂ کربلا 10 محرم 61 ہجری، مطابق 680 عیسوی کا ایک تاریخی واقعہ ہے، لیکن اس کے اثرات زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہیں۔ بظاہر یہ بہتر نفوس پر مشتمل ایک قافلہ تھا، مگر حقیقت میں یہ انسانیت کی عظمتوں کا ایک گلشن تھا۔ اس میں جنت کے سردار امام حسین علیہ السلام موجود تھے، ان کے وفادار اصحاب تھے، نوجوان ایسے تھے جن پر انبیاء بھی فخر کریں، شیرخوار بچے تھے جن کی معصومیت آسمانوں کو رلا دے، اور خواتین ایسی تھیں جن کی استقامت رہتی دنیا تک مثال بن گئی۔

اس قافلے میں حضرت علی اکبر علیہ السلام تھے جو صورت و سیرت میں رسولِ اکرم ﷺ کے مشابہ تھے۔ حضرت عباس علمدار علیہ السلام تھے جو وفا، شجاعت اور بھائی چارے کی بلند ترین مثال بنے۔ حضرت علی اصغر علیہ السلام تھے جن کی پیاس اور مظلومیت نے ظلم کے چہرے سے ہر نقاب ہٹا دیا۔ اور اس کارواں میں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا بھی تھیں، جو اپنے بابا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی حقیقی زینت ثابت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: جنابِ مسلم بن عقیلؑ — ذبحِ عظیم کی پہلی قربانی

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نہ صرف شہادتِ حسینؑ کی چشم دید گواہ تھیں بلکہ کربلا کے بعد اسلام کی حقیقی ترجمان بھی بنیں۔ اگر کربلا میدانِ جنگ میں ختم ہو جاتی تو شاید یہ صرف ایک سانحہ رہ جاتا، لیکن زینبؑ کے خطبات نے اسے ایک تحریک بنا دیا۔ کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک انہوں نے ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیا اور یزیدیت کے چہرے سے نقاب اتار دی۔

یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کی شہادت اور حضرت زینبؑ کی اسیری درحقیقت ایک ہی مشن کے دو پہلو ہیں۔لیکن کربلا کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

یہ داستان صرف عاشورا سے شروع نہیں ہوتی بلکہ اس کی جڑیں تاریخِ اسلام کے ایک نہایت اہم واقعے، یعنی غدیر خم میں پیوست ہیں۔قرآنِ مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے:اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔”یہ وہ عظیم اعلان تھا جسے تاریخ “اعلانِ ولایتِ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام” کے نام سے جانتی ہے۔

حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر رسولِ خدا ﷺ نے ہزاروں حاجیوں کے مجمع میں حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا: جس جس کا میں مولا ہوں، اس اس کے علی مولا ہیں۔”یہ اعلان محض ایک شخص کی فضیلت کا بیان نہیں تھا بلکہ اسلام کے مستقبل، قیادت اور بقا کا اعلان تھا۔

اسی موقع پر قرآن نے یہ خوشخبری سنائی: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا، اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کر لیا۔”گویا غدیر کا اعلان دین کی تکمیل اور نعمتِ الٰہی کے اتمام کا اعلان تھا۔ مؤمنین کے لیے یہ خوشی، مسرت اور اطمینان کا باعث بنا، لیکن منافقین اور دنیا پرست عناصر کے لیے یہ اعلان ان کے ذاتی مفادات کے خلاف تھا۔ بظاہر سب نے مبارکباد دی، سب نے کہا کہ آج کے بعد علی ہمارے بھی مولا ہیں، لیکن دلوں میں چھپا ہوا بغض و عناد وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے لگا۔

رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کو مسلسل آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جناب سیدہ فاطمہ زہراؑ پر مظالم ڈھائے گئے، امیرالمؤمنینؑ کو گوشہ نشینی اختیار کرنا پڑی، امام حسنؑ کو زہر دیا گیا اور بالآخر وہ وقت آیا جب یزید جیسا فاسق و فاجر شخص مسلمانوں کا حکمران بن بیٹھا۔ یزید صرف ایک فرد کا نام نہیں تھا بلکہ وہ ایک سوچ، ایک نظام اور ایک انحراف کی علامت تھا۔ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل ظلم، جبر، فسق اور باطل کو تسلیم کرنا تھا۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ اگر آج خاموشی اختیار کر لی گئی تو اسلام کا حقیقی چہرہ ہمیشہ کے لیے مسخ ہو جائے گا۔

اسی لیے امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

میں اصلاحِ امتِ محمدی کے لیے نکلا ہوں۔”

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا

یہی وہ مقام ہے جہاں “نبأ عظیم” اور “ذبح عظیم” کا رشتہ واضح ہوتا ہے۔ نبأ عظیم یعنی ولایتِ علیؑ کا اعلان، اور ذبح عظیم یعنی حسینؑ کی قربانی۔ غدیر میں جس نظامِ حق کا اعلان ہوا تھا، کربلا میں اسی نظام کے تحفظ کے لیے خون دیا گیا۔اگر غدیر اسلام کی تکمیل تھی تو کربلا اس کی بقا تھی۔ اگر غدیر میں ولایت کا پرچم بلند ہوا تھا تو کربلا میں اسی پرچم کو بچانے کے لیے جانیں قربان کی گئیں۔ اگر غدیر اعلان تھا تو کربلا اس اعلان کی تفسیر تھی۔

دسویں محرم کو جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچا تو نواسۂ رسول ﷺ کو تین دن کی پیاس کے بعد شہید کر دیا گیا۔ ان کے اہلِ خانہ اور اصحاب کو قتل کیا گیا، خیموں کو جلایا گیا، بچوں کو اسیر بنایا گیا، لیکن اس سب کے باوجود باطل فتح یاب نہ ہو سکا۔ کیونکہ حسینؑ نے اخلاقی اور روحانی طور پر ایسی فتح حاصل کی جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔

آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی دنیا بھر میں کروڑوں انسان امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں۔ ان میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور اقوام کے لوگ بھی شامل ہیں۔ کیونکہ حسینؑ کسی ایک مذہب یا فرقے کا نام نہیں بلکہ حق، انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی علامت ہیں۔

کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ تعداد نہیں بلکہ اصول اہم ہوتے ہیں۔ طاقت نہیں بلکہ حق کی قوت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ حسینؑ کا قافلہ تعداد میں کم تھا لیکن مقصد میں عظیم تھا، جبکہ یزید کا لشکر تعداد میں زیادہ تھا مگر اخلاقی اعتبار سے شکست خوردہ تھا۔آج بھی جب محرم آتا ہے تو دنیا بھر میں عزاداری کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، مجالس منعقد ہوتی  ہیں، جلوس نکلتے ہیں، علم بلند ہوتے ہیں، ذوالجناح برآمد ہوتا ہے اور مولا علی اصغرؑ کے جھولے سجے ہوتے ہیں۔ یہ سب محض روایات نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کو زندہ رکھنے کی علامتیں ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نبأ عظیم سے ذبح عظیم تک کا سفر اسلام کی اصل روح کا سفر ہے۔ غدیر نے قیادت کا راستہ دکھایا اور کربلا نے اس راستے کی حفاظت کی قیمت ادا کی۔ ولایتِ علیؑ اور شہادتِ حسینؑ دراصل ایک ہی مشن کے دو روشن باب ہیں۔اسی لیے آج بھی جب حسینؑ کا نام لیا جاتا ہے تو صرف ایک شہید کو یاد نہیں کیا جاتا بلکہ حق، عدل، آزادی، وفاداری، ایثار اور انسانیت کی تمام اعلیٰ اقدار کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

یہی کربلا کا پیغام ہے، یہی غدیر کا مقصد ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کو تاریخ کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہمیشہ زندہ رہنے والا کردار بنا دیا ہ

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

naheed khandand safdar abbasi naheed khandand safdar abbasi
پاکستان9 گھنٹے ago

​پی پی پی ورکرز کا قائدِ اعظم کے پاکستان، ۱۹۷۳ء کے آئین اور جمہوریت سے وابستگی کا اعادہ

پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) کے صدر ڈاکٹر صفدر علی...

Iran Pakistan Iran Pakistan
تازہ ترین10 گھنٹے ago

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران  ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل...

Southern Lebanon Southern Lebanon
تازہ ترین10 گھنٹے ago

اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے، لبنانی فائر فائٹرز

لبنانی فائر فائٹرز نے کہا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے۔ ...

IG-SINDH IG-SINDH
پاکستان10 گھنٹے ago

میر رضا کیس میں غلطیاں ہوئیں،آئی جی سندھ کا بڑا اعتراف

آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ میررضا کیس میں غلطیاں ہوئیں اب ہم نے ازالہ کردیا ہے،نئی...

Trump Trump
تازہ ترین10 گھنٹے ago

ہم نے پاسداران انقلاب کو ختم کردیا ہے اور وہ فرار ہو رہے ہیں، امریکی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر...

rain-karachi rain-karachi
پاکستان10 گھنٹے ago

بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، بادل کہاں کہاں برسیں گے؟

پی ڈی ایم اے  نے صوبہ بھر میں مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا۔ اعلامیے کے...

Mir-Raza-New Mir-Raza-New
پاکستان10 گھنٹے ago

میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

کراچی (صداۓ سچ نیوز) مقتول میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر...

Mohsin Naqvi and Iranian President Mohsin Naqvi and Iranian President
پاکستان19 گھنٹے ago

محسن نقوی اور ایرانی صدر کی ملاقات، بات چیت کی تفصیلات سامنے آگئیں

تہران (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اندرونی...

Red Sea Red Sea
پاکستان20 گھنٹے ago

بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، وزیر خارجہ کی شدید مذمت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں...

trump-iran-deal trump-iran-deal
تازہ ترین20 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے،ہم بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، امریکی صدر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر صورتِ حال ’اچھی سمت...

Trending