تازہ ترین
جنابِ مسلم بن عقیلؑ — ذبحِ عظیم کی پہلی قربانی
تحریر: سید شجر عباس
کربلا کی تاریخ محض ایک جنگ یامعرکہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا فیصلہ کن مرحلہ ہے جس نے انسانیت کو وفا، ایثار اور قربانی کا وہ درس دیا جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
اس عظیم داستانِ وفا میں اگر امام حسینؑ مرکزِ حق ہیں تو جنابِ مسلم بن عقیلؑ اس تحریک کے اولین علمبردار اور ذبحِ عظیم کی پہلی قربانی ہیں۔ انہوں نے اپنی جان، اپنے بیٹوں اور اپنے آرام و سکون کو راہِ ولایت میں قربان کرکے ثابت کیا کہ حسینی مشن صرف تلوار سے نہیں بلکہ کامل اطاعت، استقامت اور وفاداری سے زندہ رہتا ہے۔
جنابِ مسلم بن عقیلؑ امیرالمومنین حضرت علیؑ کے بھتیجے اور امام حسینؑ کے چچا زاد بھائی تھے۔ آپ کی تربیت ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں شجاعت، عبادت، علم اور وفا کو زندگی کا معیار سمجھا جاتا تھا۔ مؤرخین نے آپ کے کردار کو انتہائی عظمت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
علامہ محمد باقر مجلسی “بحار الانوار” میں لکھتے ہیں کہ امام حسینؑ کو جن شخصیات پر کامل اعتماد تھا ان میں جنابِ مسلمؑ سرِفہرست تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اہلِ کوفہ نے امام حسینؑ کو خطوط لکھ کر مدد کی دعوت دی تو امامؑ نے سب سے پہلے جنابِ مسلمؑ کو اپنا نمائندہ بنا کر کوفہ روانہ فرمایا۔
شیخ مفید “الارشاد” میں نقل کرتے ہیں کہ امام حسینؑ نے اہلِ کوفہ کے نام خط میں فرمایا: “میں اپنے بھائی، اپنے چچا زاد اور اپنے اہلِ بیت میں سے قابلِ اعتماد شخص مسلم بن عقیل کو تمہاری طرف بھیج رہا ہوں۔” یہ جملہ جنابِ مسلمؑ کے بلند مقام کا واضح ثبوت ہے۔ امامؑ نے صرف ایک سفیر نہیں بھیجا تھا بلکہ اپنے اعتماد، اپنی فکر اور اپنی تحریک کا امین روانہ کیا تھا۔ جب جنابِ مسلمؑ کوفہ پہنچے تو ہزاروں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
تاریخِ طبری اور شیخ مفید کی روایات کے مطابق اٹھارہ ہزار سے زائد افراد نے امام حسینؑ کی نصرت کا وعدہ کیا۔ لیکن دنیا کی محبت، ابنِ زیاد کے ظلم اور خوف نے اہلِ کوفہ کے کردار کو بدل دیا۔ وہی لوگ جو بیعت کے دعوے کررہے تھے آہستہ آہستہ جنابِ مسلمؑ کا ساتھ چھوڑتے گئے۔ یہاں جنابِ مسلمؑ کی عظمت اور نمایاں ہو جاتی ہے۔ ایک طرف حکومت کا جبر تھا، دوسری طرف تنہائی کا کرب، مگر آپ نے حق کا راستہ نہ چھوڑا۔ رات کے اندھیرے میں جب آپ کوفہ کی گلیوں میں تنہا رہ گئے تو تاریخ انسانیت اس منظر پر آج بھی اشکبار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام: وفا، شجاعت اور قربانی کی داستان
شیخ عباس قمی “نفس المہموم” میں لکھتے ہیں کہ جنابِ مسلمؑ دروازوں پر جاتے مگر لوگ خوف کے باعث دروازے بند کر لیتے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وفا اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی جب ابن زیاد کی فوج نے آپ گرفتار کیا اور ابن زیاد کے دربار میں لائے تو جناب مسلم بن عقیل کہا گیا کہ امیر کو سلام کرو تو اس وقت جناب مسلم بن عقیل ع کا وہ شہرہ آفاق جملہ جو آپ کی غیرت بہادری اور ایمان کا پتہ دیتا ہے کہ میرا امیر صرف حسین ع ہے اس کا صلہ یہ ملا کہ مولا حسین ع کو امیر کہنے پر قیامت تک اب دنیا امیر مسلم ع کے نام سے یاد کرتی ہے۔
جنابِ مسلمؑ کی شہادت دراصل کربلا کے آغاز کا اعلان تھی۔ آپ نے امام حسینؑ کے آنے سے پہلے اپنی جان قربان کرکے امت پر حجت تمام کردی۔ ابنِ زیاد کے سپاہیوں نے جب آپ کو گرفتار کیا تو آپ نے انتہائی شجاعت سے مقابلہ کیا۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ آپ تنہا تھے مگر دشمن ہزاروں کی تعداد میں تھا۔ زخمی حالت میں بھی آپ کی زبان پر ذکرِ خدا اور دل میں فکرِ حسینؑ تھی۔
شیخ مفید روایت کرتے ہیں کہ شہادت سے قبل جنابِ مسلمؑ کی سب سے بڑی فکر امام حسینؑ تھے۔ آپ نے محمد بن اشعث سے فرمایا کہ کسی طرح امام حسینؑ تک میرا پیغام پہنچا دو کہ اہلِ کوفہ نے بے وفائی کی ہے، لہٰذا واپس چلے جائیں۔ یہ جملہ صرف سیاسی بصیرت نہیں بلکہ امام وقت سے مودت اور امت کے لیے درد کی علامت تھا۔
جنابِ مسلمؑ کو کوفہ کے قصرِ امارت کی چھت پر لے جایا گیا۔ وہاں آپ نے آخری لمحات میں تکبیر کہی، اور حسین ع اور اہلِ بیتؑ پر درود بھیجا۔ پھر آپ کو شہید کرکے آپ کا جسدِ مبارک نیچے پھینک دیا گیا۔ “بحار الانوار” اور “مقتل الحسین” کی روایات کے مطابق یہ واقعہ ۹ ذی الحج ۶۰ ہجری کو پیش آیا۔ یوں ذبحِ عظیم کی پہلی قربانی اپنے رب کے حضور پیش ہوگئی۔
جنابِ مسلمؑ کی قربانی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی راہ میں کامیابی ہمیشہ ظاہری فتح کا نام نہیں۔ کبھی تنہائی میں ثابت قدم رہنا بھی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ آپ نے یہ ثابت کیا کہ مومن حالات کا غلام نہیں بلکہ اپنے عقیدے کا پاسبان ہوتا ہے۔ اگر کوفہ والوں کی بے وفائی تاریخ کا سیاہ باب ہے تو جنابِ مسلمؑ کی وفاداری رہتی دنیا تک ایمان کا روشن مینار ہے۔
آج جب ہم واقعۂ کربلا کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف میدانِ عاشورا ہی نہیں بلکہ کوفہ کی وہ گلیاں بھی یاد رکھنی چاہئیں جہاں ایک باوفا سفیر نے تنہائی میں حق کا پرچم بلند رکھا۔ جنابِ مسلمؑ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امامِ حق کی نصرت میں جان چلی جائے تو یہ خسارہ نہیں بلکہ ابدی کامیابی ہے۔
تاریخ دانوں نے ہمیشہ جنابِ مسلمؑ کے کردار کو وفا کی معراج قرار دیا ہے۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ جنابِ مسلمؑ کی شہادت نے امام حسینؑ کی تحریک کو ایک نئی روح عطا کی۔ ان کی قربانی نے واضح کردیا کہ اہلِ بیتؑ کا راستہ صرف دعووں کا نہیں بلکہ عمل، صبر اور جانثاری کا راستہ ہے۔
جنابِ مسلم بن عقیلؑ کی زندگی اور شہادت ہر دور کے انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی حمایت میں تعداد نہیں بلکہ اخلاص اہم ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان بھی سچائی پر قائم رہے تو وہ تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ جنابِ مسلمؑ نے تنہا ہوکر بھی باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور یہی ان کی عظمت کا سب سے بڑا عنوان ہے۔
واقعۂ کربلا سے قبل کوفہ میں جن شخصیات نے امام حسینؑ اور جنابِ مسلم بن عقیلؑ کی نصرت میں اپنی جان قربان کی، ان میں جنابِ ہانی بن عروہؓ کا نام انتہائی عظمت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ قبیلۂ مذحج کے بزرگ، بااثر اور نہایت محترم شخصیت تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دعائے عرفہ: سید الشہداء امام حسینؑ کے عطا کردہ دعائیہ ادب کا شاہکار
عرب معاشرے میں آپ کی عزت و وقار مسلم تھا اور لوگ آپ کو شجاعت، سخاوت اور وفاداری کی علامت سمجھتے تھے۔ جب جنابِ مسلم بن عقیلؑ کوفہ پہنچے تو ابتدا میں آپ مختار ثقفی کے گھر قیام پذیر رہے، لیکن حالات کی نزاکت کے باعث جنابِ ہانی بن عروہؓ نے اپنے گھر کے دروازے سفیرِ امام حسینؑ کے لیے کھول دیے۔ یہ اقدام معمولی نہیں تھا، کیونکہ اس وقت ابنِ زیاد کی حکومت ہر اس شخص کو سخت سزا دے رہی تھی جو اہلِ بیتؑ کی حمایت کرتا تھا۔ اس کے باوجود جنابِ ہانیؓ نے نہ خوف کو اہمیت دی اور نہ دنیاوی مفاد کو۔
شیخ مفید “الارشاد” میں لکھتے ہیں کہ جنابِ ہانیؓ نے نہایت اخلاص کے ساتھ جنابِ مسلمؑ کی مدد کی اور اپنے گھر کو مرکزِ بیعت بنادیا۔ ہزاروں افراد وہیں آکر جنابِ مسلمؑ کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے۔ اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ جنابِ ہانیؓ صرف ایک میزبان نہیں بلکہ تحریکِ حسینی کے عملی معاون تھے۔ ابنِ زیاد کو جب یہ اطلاع ملی کہ جنابِ مسلمؑ، ہانی بن عروہؓ کے گھر میں موجود ہیں تو اس نے مکاری سے جنابِ ہانیؓ کو دربار میں طلب کیا۔
تاریخ بیان کرتی ہے کہ آپ ضعیف العمری کے باوجود نہایت وقار کے ساتھ دربار میں داخل ہوئے۔ ابنِ زیاد نے آپ پر دباؤ ڈالا کہ مسلم بن عقیلؑ کو اس کے حوالے کردیا جائے، مگر جنابِ ہانیؓ نے صاف انکار کردیا۔ یہ جملہ وفاداری، غیرت اور اہلِ بیتؑ سے محبت کی اعلیٰ مثال ہے۔
ابنِ زیاد نے غصے میں آکر جنابِ ہانیؓ کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔ آپ کی ناک اور چہرہ زخمی کردیا گیا، مگر آپ نے حق کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخرکار آپ کو قید کردیا گیا۔ جب قبیلۂ مذحج کو اس ظلم کی خبر ملی تو لوگ قصرِ امارت کے باہر جمع ہوگئے، لیکن ابنِ زیاد نے فریب اور جھوٹ سے وقتی طور پر انہیں منتشر کردیا۔بعد ازاں جنابِ ہانی بن عروہؓ کو بھی جنابِ مسلم بن عقیلؑ کے ساتھ شہید کردیا گیا۔
شیخ عباس قمی “نفس المہموم” میں لکھتے ہیں کہ آپ کی شہادت نے کوفہ میں خوف کی فضا کو مزید گہرا کردیا، مگر تاریخ میں آپ کا نام وفاداری کے استعارے کے طور پر ہمیشہ زندہ ہوگیا۔جنابِ ہانیؓ کا کردار ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حق کی حمایت صرف زبان سے نہیں بلکہ عملی قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی جان، اپنا قبیلہ، اپنا مقام اور اپنی عزت سب کچھ اہلِ بیتؑ کی محبت میں قربان کردیا۔ اگرچہ کوفہ کے بہت سے لوگ بے وفائی کی علامت بن گئے، مگر جنابِ ہانی بن عروہؓ نے ثابت کیا کہ اسی سرزمین پر وفا کے چراغ بھی روشن تھے۔
آج بھی جب وفاداری اور استقامت کا ذکر ہوتا ہے تو جنابِ ہانی بن عروہؓ کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ مومن کا اصل مقام حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے، خواہ اس کے لیے جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

