تازہ ترین
کیا اسرائیل میں نیتن یاہو کا ٹرمپ کارڈ اپنی اہمیت کھو رہا ہے؟
تل ابیب (سداۓ سچ نیوز) اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو طویل عرصے سے امریکا کے ساتھ اپنی قریبی سیاسی اور ذاتی تعلقات کو اپنی سب سے بڑی سیاسی طاقت کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں یہ تاثر کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں تعطل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر معاہدوں کی جانب بڑھتی دلچسپی اور امریکا میں اسرائیل پر بڑھتی تنقید نے نیتن یاہو کے ٹرمپ کارڈ کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ صورتِ حال نیتن یاہو کے لیے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انہیں اکتوبر کے آخر میں عام انتخابات، بدعنوانی کے مقدمات اور خطے میں جاری کئی تنازعات کا سامنا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ٹرمپ اور نیتن یاہو ملاقات کا مقصد ناصرف دو طرفہ تعلقات کا اظہار کرنا ہے بلکہ اسرائیلی عوام کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ نیتن یاہو اب بھی وائٹ ہاؤس تک خصوصی رسائی رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی سے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اس جنگ کی کامیابی اور ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکانات پر قائل کیا تھا، تاہم جنگ کے طویل ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ کی خبریں سامنے آئیں۔
امریکی کانگریس میں بھی اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی ممکنہ فروخت پر اسرائیلی اعتراضات اور سعودی عرب کے ساتھ امریکی جوہری تعاون کے معاہدے پر اختلافات نے نیتن یاہو کی پوزیشن کو متاثر کیا ہے۔
امریکی قدامت پسند شخصیات، جن میں ٹکر کارلسن، مارجوری ٹیلر گرین اور نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، حالیہ مہینوں میں نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ترکیہ کو ایف 35 طیاروں کی فروخت پر اسرائیلی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی نہیں بتا سکتا کہ امریکا کیا فروخت کرے گا۔
اسرائیل کے سابق سفیر ایلون پنکاس کے مطابق نیتن یاہو اس دورے کے ذریعے اسرائیل میں اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ان کے ٹرمپ سے تعلقات اب بھی مضبوط ہیں، جبکہ وہ یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ ٹرمپ ایک بار پھر ان کے بدعنوانی کے مقدمات میں ان کی حمایت کریں گے۔
کنگز کالج لندن کے تجزیہ کار آہرون بریگمین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اب امریکا میں پہلے جیسی سیاسی اہمیت نہیں رکھتے اور بہت سے امریکی حلقے انہیں ایران جنگ میں امریکا کو دھکیلنے کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب سابق مشیر اور رائے عامہ کے ماہر مچل باراک کے مطابق نیتن یاہو نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کیں، لیکن حالیہ برسوں میں کئی اہم سیاسی پل بھی جلا دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو کو جنگی دور کا مؤثر رہنما قرار دیتے ہوئے مستقبل میں اسرائیل کے لیے کسی نئے وزیرِاعظم کی حمایت کریں۔
-
برطانیہ اور یورپ4 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان5 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان7 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان10 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان5 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
ایکسکلوسِو10 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

