Connect with us

پاکستان

سیز فائر یا سودا حریت؟ فلسطین اور دو ریاستی فریب

Syed Abbas Haider Shah Advocate

تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ

دنیا کی تاریخ میں کچھ مقامات ایسے ہیں جو محض جغرافیہ نہیں بلکہ انسانیت کی آزمائش کے میدان ہوتے ہیں۔ فلسطین انہی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہاں صدیوں سے جاری جدوجہد آزادی دراصل انسان کی فطری خواہشِ حریت اور بنیادی انسانی وقار کی جنگ ہے۔ حالیہ دنوں میں فلسطینی جنگ بندی کو عالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی اسکرینوں پر مسکراتے ہوئے سفارت کار، طاقتور ممالک کے نمائندے اور عالمی اداروں کے عہدیدار اسے "امن کی پیش رفت” قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا گہرائی میں جھانکا جائے تو یہ سوال کھڑا ہوتا ہے: کیا واقعی یہ امن ہے یا ایک اور جال؟

بظاہر سیز فائر خون ریزی روکنے کا ایک مثبت قدم ہے۔ معصوم بچوں کے جسموں سے لہو بہنا بند ہو جائے، ماؤں کی چیخیں تھم جائیں اور اجڑے ہوئے گھر دوبارہ بسنے لگیں۔ کوئی بھی حساس دل رکھنے والا انسان اس منظر کو خوش آئند سمجھے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سیز فائر اس وقت لایا جا رہا ہے جب فلسطینی عوام اپنی قربانیوں اور مزاحمت کے ذریعے عالمی ضمیر کو ہلا چکے ہیں۔ اب طاقتور قوتوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر یہ جدوجہد مزید آگے بڑھی تو صیہونی ریاست کی ساکھ اور وجود کے بنیادی دعوے کمزور ہو جائیں گے۔

اسی لیے سیز فائر کو دراصل ایک وقفے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، تاکہ عالمی رائے عامہ کو مطمئن کیا جائے اور اس کے بعد "دو ریاستی حل” کے نام پر وہی پرانا فریب دوبارہ پیش کیا جائے۔

دنیا کو بار بار بتایا جا رہا ہے کہ "دو ریاستی حل” ہی مسئلہ فلسطین کا مستقل علاج ہے۔ لیکن یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ یہ فارمولا فلسطینی عوام کے ساتھ ایک تاریخی ناانصافی ہے۔ فلسطینیوں نے نسل در نسل جو قربانیاں دی ہیں، لاکھوں جانوں کی شہادتیں، عورتوں اور بچوں کی بے پناہ تکالیف اور بے گھری کے دکھ, ان سب کا انعام ایک کٹا پھٹا، ٹکڑوں میں بٹا ہوا علاقہ نہیں ہو سکتا۔

دو ریاستی حل دراصل اس قبضے کو قانونی جواز دینے کی ایک چال ہے جو صیہونی ریاست نے طاقت کے زور پر کیا۔ فلسطینی عوام کو ایک چھوٹے سے علاقے میں قید کر دینا، اور باقی زمین کو مستقل طور پر صیہونی ریاست کے حوالے کر دینا، انصاف نہیں بلکہ تاریخی دھوکہ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی سے اس کا گھر چھین کر، اسے گھر کے ایک کونے میں رہنے کی اجازت دے دی جائے اور اسے آزادی کا نام دیا جائے۔

امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے دور میں "صدی کی ڈیل” جیسے منصوبے سامنے لائے گئے جن کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا اور اسرائیل کے قبضے کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ ان کا ایجنڈا دراصل انسان دشمن ہے۔ وہ آزادی اور حریت کی زبان نہیں بولتے بلکہ طاقت، دباؤ اور مفاد کی پالیسی کو آگے بڑھاتے ہیں۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ کس سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے منصوبے انسانیت کے حق میں ہیں یا خلاف؟ جب کوئی منصوبہ لاکھوں لوگوں کی آزادی کو قید کر دے، تو وہ منصوبہ امن نہیں بلکہ غلامی ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کئی اسلامی ممالک بھی عالمی دباؤ اور ذاتی مفادات کے تحت اس "دو ریاستی حل” کے فریب کو قبول کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی غیر مقبول حکومت ہو یا مشرقِ وسطیٰ کی بادشاہتیں، سب نے کسی نہ کسی انداز میں خاموشی اختیار کی یا اسرائیل کو پسِ پردہ تسلیم کرنے کے اشارے دیے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ کا کڑا احتساب شروع ہوتا ہے۔ کیا یہ حکومتیں بھول گئیں کہ فلسطین کے بچے صرف فلسطینی نہیں بلکہ پوری امت کے بچے ہیں؟ کیا وہ یہ حقیقت نظرانداز کر دیں گے کہ فلسطین کی مائیں اپنی عزتیں اور اولادیں قربان کر کے ایک ایسی جدوجہد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس نے پوری انسانیت کو جگایا ہے؟

میڈیا اور عالمی طاقتوں کے ادارے ایک نیا بیانیہ دہرا رہے ہیں: دنیا بدل رہی ہے، ہمیں نئے نظام میں شامل ہونا ہوگا۔ لیکن یہ "نیا نظام” دراصل طاقتوروں کی مرضی کا نظام ہے، جہاں کمزوروں کی قربانی کو ایک "ضروری ایڈجسٹمنٹ” کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

فلسطینیوں سے کہا جا رہا ہے کہ اپنی آزادی کی تحریک کو محدود کر کے دو ریاستی حل قبول کرو، کیونکہ دنیا بدل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بدل نہیں رہی بلکہ ظلم کی شکل بدل کر اسے نیا چہرہ دیا جا رہا ہے۔

تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ظلم کبھی مستقل نہیں رہتا۔ ظالم اپنی طاقت کے غرور میں سوچتے ہیں کہ وہ ہمیشہ قائم رہیں گے، مگر انسان کی فطرت آزادی کی خواہش کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ وہ جذبہ جو فلسطین کے بچوں اور نوجوانوں کو پتھروں کے ساتھ ٹینکوں کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، وہی جذبہ دنیا کے ہر مظلوم کے دل میں زندہ ہے۔

یہی جذبہ آخرکار ظلم کو شکست دے گا۔ صیہونی ریاست کی ظالمانہ پالیسی ہو یا کوئی اور طاقتور قوت جو انسانیت کو روندنا چاہے، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جائے گی۔

انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ فلسطینیوں کو ان کے اصل وطن سے محروم کر کے ٹکڑوں میں بٹا ہوا خطہ دیا جائے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں ان کی پوری سرزمین، مکمل خودمختاری اور آزاد ریاست دی جائے۔ وہی فلسطین جو صدیوں سے ان کا گھر ہے۔ وہی فلسطین جس کی آزادی کے لیے لاکھوں جانیں قربان ہوئیں۔

یہ کالم نفرت یا انتقام کی دعوت نہیں بلکہ بیداری اور انصاف کی اپیل ہے۔ سیز فائر وقتی طور پر ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل مسلط کیا گیا تو یہ ایک ناقابلِ معافی دھوکہ ہوگا۔ ہمیں اپنی حکومتوں، اپنے میڈیا اور عالمی اداروں پر دباؤ ڈالنا ہوگا کہ وہ ظالم کے ساتھ نہیں بلکہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔

تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی جو ظلم کے سہولت کار بنے۔ تاریخ صرف ان کو یاد رکھے گی جو مظلوم کے ساتھ کھڑے رہے، چاہے وہ طاقت میں ہوں یا کمزور۔

سیز فائر کا اصل مقصد اگر خون بہنے سے روکنا ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے، لیکن اگر اس کے پردے میں "دو ریاستی حل” کے نام پر فلسطینیوں کے حقِ آزادی کو بیچا جا رہا ہے تو یہ کھلی زیادتی ہے۔ یہ مظلوم قوم کی عظیم قربانیوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ایجنڈا انسان دشمن ہے اور امریکی باشعور عوام اور دنیا کے سالم ذہن انسان اس طرح کے فارمولے کو رد کرتے ہیں۔ یہی ردّ انسانیت کی بقا اور آزادی کی ضمانت ہے۔

یہ بھی پڑھیں

abbas-araghchi abbas-araghchi
تازہ ترین58 منٹس ago

انسانی حقوق کے معاملے پر ہمیں لیکچر دینے والے خود کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رکھتے، ایران کی یورپی یونین پر تنقید

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے حوالے سے یورپی یونین کے بیانات کو مسترد...

makkah-defense-pact makkah-defense-pact
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے لگا

قاہرہ (صداۓ سچ نیوز) مصر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے...

NADRA NADRA
پاکستان1 گھنٹہ ago

نادرا نے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرادیا

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی...

president-zardari-meets-prime-minister- president-zardari-meets-prime-minister-
پاکستان1 گھنٹہ ago

صدر زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے، قومی سلامتی اوردہشتگردی کے خاتمے پراہم مشاورت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) صدر آصف علی زرداری اور  وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس دوران اہم...

Mir-Raza-Case Mir-Raza-Case
پاکستان1 گھنٹہ ago

میر رضا کیس، لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں کے اہم انکشافات

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی میں میر رضا کیس میں لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ اور لاش...

petrol-and-diesel petrol-and-diesel
پاکستان2 گھنٹے ago

ای سی سی نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دیدی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34...

gold-rate gold-rate
پاکستان2 گھنٹے ago

خریداروں کےلیے خوشخبری، مارکیٹ میں سونا سستا ہوگیا

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی اور یہ ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہیں...

Flag Flag
پاکستان2 گھنٹے ago

پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی، پاک فوج کی جانب سے ملک بھر میں پرچم کشائی کی شاندار تقریبات

پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جنرل ہیڈکوارٹرز اور مسلح افواج کے تمام ہیڈکوارٹرز میں پرچم کشائی...

missiles missiles
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایران کی جوہری صلاحیت برقرار ہے، امریکا میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہا، احمد خاتمی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی  مجلس خبرگان رہبری کے رکن احمد خاتمی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی میزائل...

ibrahim razaei ibrahim razaei
تازہ ترین2 گھنٹے ago

غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کافیصلہ کن جواب دیا جائیگا، ایران کا خطے کے ممالک کو پیغام

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعے کے روز...

Trending