تازہ ترین
امریکا کا چین پر اے آئی ٹیکنالوجی چرانے کا الزام، "ماڈل ڈسٹلیشن” تنازع کیا ہے؟
مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی برتری حاصل کرنے کے لیے امریکا اور چین کے درمیان جاری ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اب ‘ماڈل ڈسٹلیشن‘ ایک نیا تنازع بن کر سامنے آیا ہے۔
امریکی حکومت اور بڑی اے آئی کمپنیوں کا الزام ہے کہ بعض چینی ادارے جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں بغیر اجازت حاصل کرنے کے لیے اس تکنیک کا استعمال کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن ایک ایسی تکنیک ہے جس میں ایک بڑے اور طاقتور اے آئی ماڈل کی مدد سے نسبتاً چھوٹا، کم خرچ اور زیادہ مؤثر ماڈل تیار کیا جاتا ہے تاکہ وہ مخصوص کام کم کمپیوٹنگ وسائل کے ساتھ انجام دے سکے۔
جدید اور طاقتور اے آئی ماڈلز جنہیں ‘فرنٹیئر ماڈلز’ کہا جاتا ہے تیار کرنے کے لیے بہت زیادہ کمپیوٹنگ طاقت، وسیع ڈیٹا اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
ماڈل ڈسٹلیشن کے عمل میں ایک بڑا ’ٹیچر‘ ماڈل سوالات کے جوابات، کمپیوٹر کوڈ یا دیگر مثالیں فراہم کرتا ہے جنہیں استعمال کرتے ہوئے ایک چھوٹا ‘اسٹوڈنٹ’ ماڈل تربیت حاصل کرتا ہے۔
یہ چھوٹا ماڈل بڑے ماڈل کی مکمل نقل نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف مخصوص مہارتیں اور رویے سیکھتا ہے جس سے وہ بعض کام کم وسائل کے ساتھ انجام دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ماڈل ڈسٹلیشن مصنوعی ذہانت کو زیادہ سستا اور عام استعمال کے قابل بنانے میں مدد دیتی ہے۔ جہاں بڑے اے آئی ماڈلز چلانے کے لیے مہنگے ڈیٹا سینٹرز اور جدید چپس درکار ہوتی ہیں وہیں ڈسٹلیشن کے ذریعے تیار کیے گئے ماڈلز نسبتاً کم طاقت والے کمپیوٹرز، موبائل ڈیوائسز، گاڑیوں، فیکٹریوں اور نجی نیٹ ورکس پر بھی مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل اختلاف ماڈل ڈسٹلیشن پر نہیں بلکہ بغیر اجازت جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کرنے پر ہے۔
امریکی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ تحقیق کے لیے ڈسٹلیشن کا استعمال اور تجارتی فائدے کے لیے بند اے آئی ماڈلز سے بڑے پیمانے پر معلومات حاصل کرنا دو الگ معاملات ہیں۔
امریکی کمپنی اینتھروپک نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی اداروں ڈیپ سیک، مون شاٹ اور منی میکس نے اس کے کلاڈ ماڈلز کی جدید صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی کے مطابق ان کوششوں کا مقصد سافٹ ویئر انجینیئرنگ اور پیچیدہ منطقی صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
اسی طرح اوپن اے آئی کا بھی کہنا ہے کہ اس نے بعض چینی عناصر کی جانب سے اپنے ماڈلز کو ماڈل ڈسٹلیشن کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کا سراغ لگایا ہے۔
ماہرین کے مطابق ماڈل ڈسٹلیشن بذات خود کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی طریقہ نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی تحقیق میں کئی برسوں سے استعمال ہونے والی ایک معروف تکنیک ہے۔
امریکی جامعات اور کمپنیاں بھی ماضی میں اس طریقے کو استعمال کرتی رہی ہیں تاہم موجودہ تنازع اس بات پر ہے کہ آیا کسی کمپنی کے ملکیتی اے آئی ماڈل سے اس کی اجازت کے بغیر صلاحیتیں حاصل کرنا درست ہے یا نہیں۔
امریکا اور اس کی بڑی اے آئی کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ اگر چینی کمپنیاں ماڈل ڈسٹلیشن کے ذریعے اوپن اے آئی، اینتھروپک یا دیگر امریکی کمپنیوں کے جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں حاصل کر لیں تو وہ اربوں ڈالر کی تحقیق، مہنگے کمپیوٹنگ وسائل اور کئی برس کی محنت کے بغیر کم لاگت میں طاقتور اے آئی سسٹمز تیار کر سکتی ہیں۔
امریکا کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر جدید امریکی اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں ڈسٹلیشن کے ذریعے چینی کمپنیوں یا سرکاری اداروں تک منتقل ہو گئیں تو انہیں دفاعی، سائبر سیکیورٹی اور دیگر حساس شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے امریکا اس معاملے کو صرف تجارتی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور ٹیکنالوجی کی عالمی برتری سے بھی جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
-
برطانیہ اور یورپ4 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان5 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان7 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان10 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان6 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
ایکسکلوسِو10 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان5 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا

