تازہ ترین
امریکی بحری حملے انسانیت کیخلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں، اقوامِ متحدہ
اقوامِ متحدہ (صداۓ سچ نیوز) اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہر نے منشیات اسمگلنگ کے شبے میں کیریبیئن سمندر اور بحرالکاہل میں امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی اور انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے بین سول کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025ء سے اگست 2026ء کے دوران امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں 68 کشتیوں کو نشانہ بنایا، جن میں کم از کم 223 افراد ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے ان حملوں کو ’منشیات کے دہشت گردوں‘ کے خلاف دفاعی کارروائی قرار دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ یہ کارروائیاں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کے ساتھ مسلح تنازع کی عکاسی کرتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوجی حملے بین الاقوامی قوانین اور زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہیں اور ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ مبینہ طور پر مسلح حملے کی قانونی تعریف پر پورا نہیں اترتی، اس لیے امریکا کو اس بنیاد پر طاقت کے استعمال اور دفاع کا حق حاصل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق کشتیوں کو روکنے سمیت کم مہلک متبادل طریقے بھی دستیاب تھے، جبکہ امریکی حملے شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں، جس کے تحت مہلک طاقت کا استعمال صرف کسی فوری خطرے کی صورت میں آخری اقدام کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہر نے امریکی حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات، ذمے دار افراد، سیاسی و عسکری قیادت کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
رپورٹ میں امریکی کارروائیوں کی منشیات اسمگلنگ روکنے میں افادیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سرحد پر کوکین کی ضبطی میں نمایاں کمی نہیں آئی، جبکہ خطے میں بڑی مقدار میں کوکین چھوٹی کشتیوں کے بجائے کنٹینر بردار بحری جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں سے فینٹانائل اور دیگر اوپیئڈز کی اسمگلنگ پر بھی کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا، جبکہ یہ امریکا میں منشیات سے ہونے والی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماہر کے مطابق کم سطح کے مشتبہ افراد کو ہلاک کرنے سے منشیات کے بڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور ان کے سرغناؤں کے خلاف کارروائی کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026ء کے وسط تک ان فوجی کارروائیوں پر تقریباً 4.7 ارب ڈالرز خرچ ہو چکے تھے۔
-
برطانیہ اور یورپ6 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان6 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان9 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان7 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان12 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو11 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان7 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان6 دن agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

