پاکستان
پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی حمایت کا اعادہ؛ خیبر پختونخوا میں قومی اتفاقِ رائے اور جمہوری عمل کی بحالی کا مطالبہ
اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) کے صدر ڈاکٹر صفدر علی عباسی، سابق رکن قومی اسمبلی ناہید خان، سینئر نائب صدور فیاض علی خان اور ایڈووکیٹ امجد بلوچ، جنرل سیکرٹری کنور زاہد، فرح اسلم، ابراہیم خان، سابق رکن صوبائی اسمبلی ساجدہ میر، ہاشم خان بابر اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کی معطلی، ہنگامی صورت حال اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد کی صورت حال، نیز سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج کی تعیناتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف حتمی اور مؤثر کارروائی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار کامیابی کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام کا اعتماد، تعاون اور فعال شرکت ناگزیر ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی ایک پائیدار حکمتِ عملی کے لیے سول و عسکری قیادت، منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور مقامی برادریوں کے مابین معنی خیز مکالمے اور مشترکہ قومی عزم کی ضرورت ہے۔
ریاست کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کی ذمہ داری کو تسلیم کرتے ہوئے، پی پی پی ڈبلیو نے سابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، اسلمی اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر منتخب نمائندوں کی زیرِ حراست ہونے کی اطلاعات اور پشاور سمیت مختلف اضلاع میں دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماع پر پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام حراست میں لیے گئے افراد کی قانونی وجوہات اور مقامِ حراست کو واضح کریں، قانونی طریقہ کار کی پاسداری، وکلاء اور اہل خانہ تک رسائی یقینی بنائیں اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کے حق کا تحفظ کریں۔
قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کو آئین اور قانون کی حدود کے اندر ہی رہنا چاہیے۔ منتخب صوبائی حکومت کی معطلی اور صوبائی اختیارات کی وفاق کو منتقلی سے جمہوری نمائندگی اور صوبائی خودمختاری پر سنگین سوالات جنم لیتے ہیں، جن کے لیے شفافیت اور آئینی جوابدہی ضروری ہے۔ دہشت گردی میں سیاسی سہولت کاری کے الزامات کو محض سیاسی بیان بازی کے بجائے معتبر شواہد اور قانون کے تقاضوں کے مطابق ثابت کیا جانا چاہیے۔
پی پی پی ڈبلیو نے اس امر پر زور دیا کہ سابق قبائلی اضلاع کی عوام سمیت تمام پشتون، پاکستان کے پروقار اور برابر کے شہری ہیں۔ ان کی عزتِ نفس، حب الوطنی اور قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی برداری کو اجتماعی طور پر ملزم یا مشکوک نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
قیادت نے وفاقی حکومت، صوبائی سیاسی قیادت، منتخب نمائندوں، اور سول و عسکری حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے ازالے، عوام کا اعتماد بحال کرنے اور جمہوری صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے فوری اور معنی خیز مذاکرات شروع کریں۔ پاکستان کی خوشحالی اور سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، اور عوام کے اعتماد اور شرکت کے بغیر دہشت گردی کے خلاف کوئی دائمی فتح ممکن نہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز کا ماننا ہے کہ قومی یگانگت اور اتحاد کی بنیاد باہمی احترام، آئین کی بالادستی، انصاف اور باہمی تعاون پر ہونی چاہیے۔ ہمارا مشترکہ مقصد ایک پرامن، محفوظ اور خوشحال پاکستان ہے جس میں جمہوریت مستحکم ہو، ہر صوبے کا احترام کیا جائے، اور تمام ریاستی ادارے اعلیٰ ترین قومی مفاد میں مل کر کام کریں۔
-
برطانیہ اور یورپ7 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان7 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو12 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان4 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان8 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

