تازہ ترین
نامنصفانہ جنگ (صیہونی استکبار اور تنہا ایرانی استقامت)
تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ
تاریخ کے دھندلکوں میں جب بھی انسانیت نے عدل و انصاف کی شمع روشن کی، ظلمت کدوں کے فرعونی اس شمع کو گل کرنے کے لیے اکھٹے ہو گئے۔ زمانہ قدیم سے یہ دستور چلا آ رہا ہے کہ باطل ہمیشہ تعداد، سازوسامان اور دنیا جاہ و مال کے سہارے ڈٹا رہا، جبکہ حق اپنے ایمان، یقین اور استقامت کی پونجی کے ساتھ تنہا میدان میں ڈٹ گیا۔
آج مشرقِ وسطیٰ کا خونچکاں مرصع زمین اس ابدی تصادم کا نیا باب ہے۔ جہاں ایک طرف استکباری قوتوں اور صیہونیت کا شیطانی اتحاد ہے، تو دوسری طرف اقتصادی پابندیوں کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا مگر عزم و استقلال کی چٹان بن کر کھڑا ایران ہے۔
اگر انصاف کے معیاروں پر اس جنگ کو پرکھا جائے تو یہ محض دو فریقوں کے درمیان مسلح تصادم نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کے سینے پر سلگتا ہوا ایک کالا دھبہ ہے۔ ایک شطرنج کی بساط ہے، جس کے ایک طرف صیہونی ریاست ہے، جس کے ہاتھ میں امریکہ کی لازوال فوجی امداد کی شہہ، برطانیہ کی مکاری، یورپی یونین کی منافقت اور خلیجی ریاستوں سمیت اردن کی سہولت کاری کی چال اور ہندوستان کی چھپی حمایت ہے۔ پردۂ خفا میں بیٹھے کچھ ممالک اس شیطانی بساط پر مہروں کی طرح بے حرکت بیٹھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق کا افق اور ظہورِ سحر
دوسری طرف ایران ہے، وہ ملک جسے دہائیوں سے معاشی پابندیوں کی دیوار میں قید کر رکھا ہے۔ اسے ایٹمی توانائی جیسے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے لیے عالمی قوانین کو ڈھال بنایا گیا، اس کی دفاعی صلاحیتوں پر قدغن لگائی گئی اور اس کی معیشت کا محاصرہ کیا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر صیہونی ریاست اتنی "ناقابلِ تسخیر” ہے، اتنی "بے مثال” ہے، تو اسے ایران جیسے محصور اور محدود ملک کے مقابلے میں نصف دنیا کی حمایت کیوں درکار ہے؟ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ صیہونی ریاست ان تمام سہاروں سے پاک ہو کر، برہنہ ہو کر ایران کے سامنے کھڑی ہوتی۔ لیکن یہ ممکن نہیں، کیونکہ باطل کی طاقت اس کی اپنی ذات سے نہیں، بلکہ اس کے سہاروں سے ہے۔
حالیہ دنوں میں ایران کے عظیم قائدین، سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای، ڈاکٹر علی لاریجانی جیسی جلیل القدر شخصیات کی شہادت کے بعد جعلی میڈیا پروپیگنڈہ کرنے میں صیہونی اور امریکی مصروف ہیں اور خوش ہو رہے ہیں کہ معرکہ سر ہوگیا ہے۔ یہ صیہونی ذہنیت کی بوکھلاہٹ کی انتہا ہے۔
یہ لوگ میڈیا کی قوت سے وہ کام لینا چاہتے ہیں جو میدان جنگ میں نہ لے سکے۔ وہ یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ ایرانی قیادت کو چن چن کر نشانہ بنا رہے ہیں اور بدلے میں ایران کچھ نہیں کر پا رہا۔ لیکن اے صیہونیو! ذرا عقل سے تو کام لو۔ اگر تم اتنے ہی طاقتور ہو تو نیٹو، امریکہ، یورپ اور مشرق بعید کے ممالک کے آگے کیوں دستِ سوال دراز کر رہے ہو؟
یہ بھی پڑھیں: میں ایک امریکہ مخالف جوان ہوں
طاقتور وہ ہے جو کھلے میدان میں سامنے آئے، جسے پشت پناہی کی ضرورت نہ ہو۔ تمہاری طاقت تمہارے اپنے بازوؤں میں نہیں، بلکہ تمہارے مکارانہ اتحادوں اور سفارتی دھاندلیوں میں پوشیدہ ہے۔ ایران کے ہاتھ تو پابندیوں کی زنجیروں سے جکڑے جا چکے، لیکن اس کے باوجود اس نے تمہیں وہ سبق یاد دلایا ہے کہ تم خوف سے کانپ رہے ہو۔
صیہونیوں کی پریشانی کا عالم یہ ہے کہ وہ میڈیا پر بدترین سنسرشپ مسلط کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے نقصانات کو چھپانے کے لیے ہر ممکن جھوٹ بول رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اگر ایران کے جوابی حملوں نے کوئی خاص نقصان نہیں پہنچایا، تو پھر صیہونی ریاست آزاد میڈیا کو محاذ کی سچی تصاویر دکھانے سے کیوں روک رہی ہے؟ کیوں دنیا یہ منظر نہیں دیکھ سکتی کہ ایرانی میزائلوں نے "آئرن ڈوم” کے دعوؤں کو خاک میں ملا دیا؟
حقیقت یہ ہے کہ تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود ایران نے وہ کاری ضرب لگائی ہے کہ اس کی گونج واشنگٹن سے لندن تک سنی جا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی استکبار اب اپنی بچی کھچی ساکھ بچانے کے لیے ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایران کو ذرا سی بھی آزادی مل گئی، اگر اس کی معیشت پر سے پابندیاں اٹھ گئیں، تو ان کا بنایا ہوا پورا نظامِ ظلم ایک ہی وار میں مٹی میں مل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:سوڈان کا ماتم: مسلم آبادی پر تباہی، بیرونی مفادات اور مستقبل کا ممکنہ منظرنامہ
ایران آج محصور ہے، مگر اس کا عزم محصور نہیں۔ تاریخ کا قاعدہ ہے کہ جب کسی قوم کو دیوار سے لگا دیا جاتا ہے، تو اس کے اندر ایک ایسی قوت پیدا ہوتی ہے جو عظیم سے عظیم سلطنتیں نگل جاتی ہے۔ صیہونی ریاست اور اس کے اتحادیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایرانی قیادت کے جسم کو تو زخمی کر سکتے ہیں، مگر اس روح کو نہیں مار سکتے جو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا درس دیتی ہے۔
یہ جنگ دراصل عالمی نظام کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے بیٹھے ہیں، تو دوسری طرف ایک پوری قوم کا اجتماعی قتل عام کرنے والا گروہ۔ لیکن وقت بدل رہا ہے۔ یہ اندھیری رات ہمیشہ نہیں رہے گی۔ وہ وقت دور نہیں جب یہی محصور ایران تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم کرے گا، جسے رہتی دنیا تک عدل و انصاف کی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
صیہونیو اور تمہارے مکار ساتھیو! سن لو، سہاروں پر لڑی جانے والی جنگیں کبھی جیتی نہیں جاتیں۔ اگر تم میں دم ہے تو اکیلے میدان میں آؤ، بغیر کسی عالمی حمایت کے۔ لیکن تم کبھی نہیں آؤ گے، کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہاری طاقت تمہارا اسلحہ نہیں، بلکہ تمہارے مکر اور فراڈ ہیں۔
یاد رکھو، جب مظلوم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے، تو اسے کسی ایٹم بم کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایران کی استقامت، اس کی عظیم شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ یہ اس تابناک سورج کی نوید ہیں جو صیہونی استکبار کی تاریک رات کا خاتمہ کرے گا۔
-
پاکستان4 دن agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 ہفتے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 مہینہ agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان3 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان5 دن agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
ایکسکلوسِو5 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان6 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع

