تازہ ترین
دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو آخری سلام
تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
جون کی ایک اداس شام تھی۔
آسمان پر بادل یوں ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی عظیم آواز کے بچھڑ جانے کا سوگ منا رہے ہوں۔ فضا پر ایک پراسرار خاموشی طاری تھی، اور اس خاموشی کی تہوں میں کہیں دور سے ایک مانوس صدا کی بازگشت سنائی دے رہی تھی:
"دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام…”

آج طارق عزیز کی برسی ہے۔ چھ برس پہلے آج ہی کے دن دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سلام کرنے والی وہ دل آویز آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی تھی، مگر اس کی گونج آج بھی دلوں کے دریچوں میں زندہ ہے۔
میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔ سامنے بارش کی بوندیں شیشے پر ننھے ننھے نوحے رقم کر رہی تھیں۔ اچانک دل کے کسی ویران گوشے سے یادوں کا ایک قافلہ اُبھر آیا۔
وہ کتنا دلکش زمانہ تھا جب گھروں میں ٹیلی ویژن کے سامنے پورا خاندان جمع ہوا کرتا تھا۔ بزرگ کرسیوں پر براجمان ہوتے، بچے فرش پر سمٹ آتے، اور مائیں سلائی یا بنائی میں مصروف ہونے کے باوجود اپنی سماعت اسی سمت مرکوز رکھتیں۔ پھر ایک دروازہ کھلتا، روشنیوں کا سیلاب امڈ آتا اور ایک وجیہہ و باوقار شخصیت مسکراتے ہوئے اسٹیج پر نمودار ہوتی۔
وہ محض ایک میزبان نہیں تھا۔
وہ لفظوں کا امین تھا۔
وہ لہجوں کا پاسبان تھا۔
وہ اردو کا عاشق تھا۔
وہ طارق عزیز تھا۔
اس شام مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی ریل الٹی سمت میں دوڑنے لگی ہو۔ میں نے خود کو نیلام گھر کے وسیع ہال میں کھڑا پایا؛
ہزاروں چہرے،
ہزاروں امیدیں،
اور اسٹیج پر وہ شخصیت جس نے ہر دل میں اپنی جگہ بنا رکھی تھی۔
ایک روز کسی نے ان سے پوچھا:
"طارق صاحب! آپ نے ‘دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو سلام’ کہنا کیوں شروع کیا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہے۔ پھر ان کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
آہستہ سے بولے:
"ایک نابینا شخص نے مجھے خط لکھوایا تھا۔ اس خط میں صرف ایک شکوہ تھا:
‘طارق صاحب! میں آپ کا ہر پروگرام بڑے انہماک سےسنتا ہوں، لیکن مجھے آپ سے ایک گلہ ہے، آپ نے کبھی مجھے سلام نہیں کیا۔'”
یہ جملہ سنتے ہی جیسے پورا ہال ساکت ہو گیا تھا۔
شاید اسی لمحے ایک عظیم انسان نے جان لیا تھا کہ مخاطب صرف آنکھیں نہیں ہوتیں، کان بھی ہوتے ہیں۔
تبھی تو اس کے بعد ہر سلام میں بینائی رکھنے والوں کے ساتھ اُن لوگوں کا حصہ بھی شامل ہو گیا جو دنیا کو آنکھوں سے نہیں، احساس سے دیکھتے ہیں۔
میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
بارش اب تیز ہو چکی تھی۔
مجھے یوں لگا جیسے آسمان بھی اُس شخص کو یاد کر رہا ہو جس نے نسلوں کو گفتگو کا قرینہ سکھایا، جس نے اردو کو محض زبان نہیں بلکہ تہذیب کے روپ میں پیش کیا، اور جس نے معلومات کو تفریح اور تفریح کو علم کا درجہ عطا کیا۔
پھر اچانک ایک اور یاد ذہن میں اُبھری۔
اس شخص نے اپنی زندگی بھر کی کمائی، اپنی جائیداد اور اپنے اثاثے بھی اسی پاکستان کے نام کر دیے تھے جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔
کتنے لوگ ہوتے ہیں جو ساری عمر جمع کرتے رہتے ہیں؟
اور کتنے ہوتے ہیں جو رخصت ہوتے وقت اپنی تمام متاع وطن کے قدموں میں نچھاور کر جاتے ہیں؟
طارق عزیز اُن معدودے چند لوگوں میں سے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خون میں نہائی ہوئی شام
رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔
ہوا میں نمی بڑھ رہی تھی۔
میں نے آنکھیں بند کیں تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی ویران راہداری سے ایک مانوس آواز ابھر رہی ہو۔
مدھم…
بہت مدھم…
"دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام…”
اور پھر خاموشی۔
ایسی خاموشی جو کانوں سے نہیں، دل سے سنی جاتی ہے۔
میں نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا۔
لبوں پر دعا تھی، آنکھوں میں نمی، اور دل کے کسی نہاں خانے سے ایک درد بھری سرگوشی اُبھری:
"رَبِّ اَرِنِی…”
پھر یوں محسوس ہوا جیسے روح کی گہرائیوں سے کسی پرانے پنجابی گیت کے بول اُبھر رہے ہوں:
آج دی رات میں کلّا واں،
کوئی نئیں میرے کول۔
آج دی رات تے میریا ربّا،
نیڑے ہو کے بول۔
شاید ۔۔۔۔
آج واقعی وہ اپنے رب کے بہت قریب ہوں گے۔
اور ہم…
ہم اب بھی اُن کے دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کےآخری سلام کی بازگشت سن رہے ہیں۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

