تازہ ترین
خون میں نہائی ہوئی شام
تحریر:محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ
رات کربلا کے سینے پر آہستہ آہستہ اتر رہی ہے۔
دریائےفرات کے کنارے خاموش کھڑے ہیں، مگر اس خاموشی میں بھی ایک دبی ہوئی فریاد سنائی دے رہی ہے۔ ریت دن بھر کی تپش اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ آسمان پر بے شمار ستارے جگمگا رہے ہیں، لیکن ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
زمین پر کچھ ایسے ستارے بھی موجود ہیں جن کی روشنی چند گھنٹوں بعد ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بننے والی ہے۔
خیموں کے درمیان مدھم چراغ جل رہے ہیں۔
کہیں بچوں کی پیاس سے بھری سسکیاں سنائی دیتی ہیں،
کہیں ماؤں کی لرزتی دعائیں فضا میں بکھرتی ہیں،
اور کہیں باپ اپنے جوان بیٹوں کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔
امام حسینؑ ابنِ علیؑ اپنے خیمے سے باہر تشریف لاتے ہیں۔
چہرۂ اقدس پر عجیب سا سکون اور طمانیت ہے۔ آپؑ اپنے اصحاب کو جمع فرماتے ہیں۔ وفا کے پیکر جانتے ہیں کہ یہ رات وفا کے امتحان کی رات ہے، اور صبح قربانی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔
امامؑ کی نگاہ ایک ایک چہرے پر ٹھہرتی ہے۔
یہ وہ جانثار ہیں جو دنیا حاصل کرنے نہیں آئے، بلکہ حق کو زندہ رکھنے آئے ہیں۔
امامؑ فرماتے ہیں:
"میں اور میرا رب جانتا ہے کہ تم سب اصحاب سے بہتر اور زیادہ وفادار ساتھی ہو نہیں سکتا۔ دشمن کو صرف میری سر چاہیئے ۔ رات گہری اور تاریک ہے، اس گھمبیر اندھیرے میں کوئی کسی کو دیکھ نہیں پا رہا- آپ میں سے جو جانا چاہے چلا جائے، میں اپنی بیعت تم سب سے اٹھاتا ہوں۔”
یہ الفاظ سنتے ہی دل لرز اٹھتے ہیں۔
امامؑ چراغ بجھانے کا حکم دیتے ہیں۔
خیمہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔
چند لمحوں تک مکمل سکوت چھا جاتا ہے۔
پھر اندھیرے میں وفا بولنے لگتی ہے۔
حضرت عباسؑ کی پُرعزم آواز بلند ہوتی ہے:
"مولا! آپؑ کے بعد زندگی کا کیا مطلب رہ جاتا ہے؟ عباسؑ آپؑ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”
پھر حبیب ابنِ مظاہرؓ کی آواز گونجتی ہے:
"فرزندِ رسولؐ! اگر مجھے بار بار قتل کیا جائے اور بار بار زندہ کیا جائے، تب بھی میں آپؑ کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔”
مسلم بن عوسجہؓ آگے بڑھتے ہیں:
"ہم قیامت کے دن رسولِ خدا ﷺ کو کیا جواب دیں گے اگر آج آپؑ کو تنہا چھوڑ دیں؟”
یہ بھی پڑھیں: رینگتا ہوا انصاف
تاریکی اب تاریکی نہیں رہتی۔
یہ وفا، عشق اور ایمان کی روشنی سے بھر جاتی ہے۔
جب چراغ دوبارہ روشن ہوتے ہیں تو کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔
ہر چہرہ پہلے سے زیادہ روشن اور پُرعزم نظر آتا ہے۔
گویا ہر شخص موت نہیں، جنت کا استقبال کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔
صبحِ عاشورا طلوع ہوتی ہے۔
سرخ سورج افق سے ابھرتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان خود غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
گرم ریت پر چلتی ہوا نوحہ کرتی محسوس ہوتی ہے۔
خیموں سے معصوم آوازیں بلند ہوتی ہیں:
"العطش… العطش…”
"بابا، پانی…”
فرات قریب بہتا ہے مگر پیاسے لبوں سے بہت دور ہے۔
ایک طرف ہزاروں کا لشکر کھڑا ہے۔
دوسری طرف حق کے بہتر جان نثار۔
مگر حق کبھی تعداد سے نہیں پہچانا جاتا۔۔۔۔۔۔
جنگ شروع ہوتی ہے۔
ایک ایک کر کے اصحاب میدان میں اترتے ہیں۔
ہر جانب تکبیر کی صدائیں گونجتی ہیں۔
ہر شہید امامؑ سے رخصت لیتا ہے، اور امامؑ اسے سینے سے لگا کر دعا دیتے ہیں۔
کربلا کی ریت آہستہ آہستہ خون سے سرخ ہوتی جاتی ہے۔
دوپہر ڈھلتی ہے۔
وفا کے چراغ ایک ایک کر کے بجھتے جاتے ہیں۔
آخرکار میدان میں صرف حسینؑ باقی رہ جاتے ہیں۔
امامؑ آخری بار خیموں کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں۔
بہن زینبؑ کی بے قرار آنکھیں، سکینہؑ کا معصوم چہرہ،
بچوں کے خشک لب
اور ۔۔۔ اہلِ حرم کی سسکیاں آپؑ کی نگاہوں میں سمٹ آتی ہیں۔
پھر آپؑ میدان کی طرف بڑھتے ہیں۔
کربلا کی ریت آپؑ کے قدموں کو چومتی محسوس ہوتی ہے۔
فضا پر ایک عجیب سکوت طاری ہو جاتا ہے۔
تیر برستے ہیں۔
تلواریں چلتی ہیں۔
زخم بڑھتے جاتے ہیں۔
مگر زبانِ حسینؑ پر خدا کا ذکر جاری رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات
آخر وہ لمحہ آتا ہے جس پر زمین و آسمان کی نگاہیں جمی ہوئی ہیں۔
زخموں سے چور جسمِ مبارک خاکِ کربلا پر قرار پاتا ہے۔
امامؑ کا سر سجدۂ رضا میں جھک جاتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سورج کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔
ہوا رک جاتی ہے۔
صحرا خاموش ہو جاتا ہے۔
فرات کی لہریں بھی غم میں ڈوب جاتی ہیں۔
مگر اسی لمحے ایک ابدی حقیقت جنم لیتی ہے۔
حسینؑ زمین پر سجدہ ریز ہوتے ہیں، لیکن ان کا پیغام زمانوں کے سینوں میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
تلواریں جسم کو زخمی کرتی ہیں، سچائی کو نہیں۔
شہادت جسم کو مٹاتی ہے، کردار کو نہیں۔
شام اپنے سائے پھیلاتی ہے۔
کربلا کی ریت پر خون کے سرخ پھول کھلے ہوئے ہیں۔
صدیاں گزر جاتی ہیں، مگر ان پھولوں کی خوشبو ختم نہیں ہوتی۔
آج بھی محرم آتا ہے تو کربلا کی ریت انسانیت کے کانوں میں سرگوشی کرتی ہے:
"وفا جھکتی نہیں،
حق مرتا نہیں،
اور حسینؑ کا نام وقت کی ہر گرد سے بلند رہتا ہے۔”
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

