Connect with us

تازہ ترین

واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!

Syed Arshad Ali Naqvi

ایک تحقیقی جائزہ سلسلہ نمبر 6

تحریر : سید ارشد علی نقوی

سبط پیغمبر امام حسین علیہ السلام کوفہ کی جانب عازمِ سفر ہیں اور حکومت آپ کو کوفہ جانے سے روکنے پر بضد ہے اور یہ تضاد تاریخ کے اسی پیچیدہ مقام پر کھڑا ہے، جہاں امامؑ کی مرضی اور دشمن کی فوجی طاقت آپس میں ٹکراتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا کوفہ جانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن دشمن کی فوج نے انہیں زبردستی روک کر قریبی سر زمین کربلا پر ٹھہرنے کے لئے مجبور کر دیا۔ یہ تضاد صرف ظاہری ہے، جبکہ حقیقت میں دونوں باتیں ایک ہی سچائی کے دو رخ ہیں۔

ہماری نظر میں61 ہجری کو ظالم و مظلوم اور حق و باطل کے تصادم کی تاریخ آخری سانسیں لے رہی تھی جسے دو محرم کو امام عالی مقام کے کربلا میں قیام کے فیصلے نے عالم نزع میں پہنچایا اور آخر کار عصر عاشور ظالم کو اس کے باطل ہتھکنڈوں سمیت دفن کر دیا

آئیے، 2 محرم الحرام 61 ہجری کے اس دن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کوفہ سے چند منزلوں کے فاصلے پر تھا کہ اچانک حر بن یزید ریاحی کی ایک ہزار افراد پر مشتمل فوج نے ان کا راستہ روکا۔ حر نے واضح کر دیا کہ اسے امام عالی مقام کو کوفہ جانے سے روکنے اور انہیں کسی اور راستے پر جانے سے بھی باز رکھنے کا حکم ہے۔

یہ فوجی پابندی پر جذبات یا بصیرت کے فیصلے کا مرحلہ تھا۔

اس صورت حال میں امام حسین علیہ السلام نے دو کام کیے:

فوجی پابندی کے مقابل ٹکراؤ نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ حر نے کوفہ جانے کی ہر کوشش روک دی تھی، اس لیے امام عالی مقام نے اپنے قافلے کو روک کر کربلا کے میدان میں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔

تاریخی روایات کے مطابق، امام حسین علیہ السلام کا گھوڑا خود بھی اسی مقام پر رک گیا، جس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "یہ وہ زمین ہے جہاں ہمارا خون بہایا جائے گا، یہ غم اور مصیبت کی زمین ہے” اور اسی مقام پر خیمے نصب کرنے کا حکم دیا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے حکمت عملی سے اس رکاوٹ کو تصادم کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس کا استقبال فرمایا یہاں امام علیہ السلام کی بصیرت کارفرما تھی کہ قرب و جوار کی آبادیوں کو چھوڑ کر کربلا کو ایک غیر جانبدار میدان کے طور پر منتخب کیا تاکہ:
آپ پر جنگ کے آغاز کرنے والے کا الزام نہ آئے کیوں کہ اگر آپ کوفہ جاتے تو الزام لگ سکتا تھا کہ ابن زیاد کی فوج سے ٹکرانے کے لئے کوفہ گئے۔ کربلا میں ٹھہر کر فرزند رسول نے ابن زیاد کو مجبور کیا کہ وہ اپنی فوج ان کے پیچھے بھیجے، جس سے یہ واضح ہو کہ اصل جارح کون ہے۔

آپ نمائندہ حق ہونے کے ناطے قیامت تک کے لئے یہ پالیسی دینا چاہتے تھے کہ دشمن سے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا جائے پس آپ نے کربلا جیسے مقام پر بیٹھ کر بھی جنگ سے بچنے کے لیے متعدد بار مختلف تجاویز دیں، عمر ابن سعد سے کئی بار مذاکرات فرمائے وغیرہ

2 محرم کو نہ صرف قافلہ روکا گیا، بلکہ ایک نئی سیاسی اور معاشرتی صورتحال نے جنم لیا جس نے فوری ردعمل بھی دکھایا کہ روز عاشورا قبیلہ بنی اسد و دیگر کے افراد آپ کی مدد کے لئے آئے تاہم مخالف فوج کی کثرت کے سبب ایسا نہ کر پائے اور بعد از شہادت ندامت کے ساتھ شہداء کے لاشوں کو دفن کیا

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!سلسلہ پنجم

جب حر کی فوج نے امام علیہ السلام کو روکا، تو یہ کوفیوں کی بے وفائی کا عملی مظاہرہ تھا کہ ایک طرف بارہ ہزار کی تعداد میں لکھے گئے خطوط اور دوسری طرف تیس ہزار کا لشکر مقابلے کے لئے۔ یہ وہ اقدام تھا جس نے محققین کو کوفہ کے بارے اموی حکمٹ عملی کا تجزیہ و تحلیل کرنے کی طرف متوجہ کیا کہ جس شہر کے لوگوں نے ہزاروں خطوط لکھ کر بلایا تھا، اسی شہر سے بھیجی گئی فوج نے راستہ روک دیا، اسی شہر کے اکثر لوگ قید کر دیئے گئے اور وہاں اچھی خاصی تعداد کو قتل کیا گیا پھر بھی خاصی تعداد میں اہل کوفہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ شہید ہوئے ۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟

ان حالات نے معمولی سی عقل رکھنے والے شخص پر یہ واضح کر دیا کہ ابن زیاد کی سفاکیت و بربریت نے کوفہ میں دہشت کا ایسا ماحول بنا دیا تھا کہ کوئی بھی شخص فرزند رسول کی حمایت کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔

امام علیہ السلام نے ایسے میں اپنی حکمت عملی کا اعلان فرمایا ، اسی دن امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے ایک خطبہ دیا اور حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ لوگ دنیا کے غلام ہیں اور آزمائش کے وقت بے وفا ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ اور اصحاب کو موقع دیا کہ جو چاہے چلا جائے، لیکن سب نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔

حر کی جانب سے راستہ روکنے پر راہ کوفہ کے علاقے نینوا و غاضریہ حق و باطل کا سنگم بن گئے تھے جس سے حق و باطل کی شناخت مشکل ہو رہی تھی پس امام عالی مقام نے کوفہ جانے کی بجائے کربلا میں قیام کیا اور اس مشکل صورت حال میں بھی اپنی حکمت عملی اور سیاسی بصیرت سے کام لیا اور ایک فوجی پابندی کو قبول کرتے ہوئے اسے ایک ایسے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا جہاں سے انہوں نے تاریخ کو بدل کر رکھ دیا تاکہ آئندہ را قیامت "حق جُداگانہ رہے باطل جدا گانہ رہے” اس اعتبار سے دیکھا جائے تو، یہ دونوں باتیں متضاد نہیں، بلکہ اس تاریخی مقام پر حق و باطل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں: ایک طرف اموی فوج کی ظالمانہ پابندی، اور دوسری طرف امام حسین علیہ السلام کی وہ بابصیرت اور بامقصد حکمت عملی جس نے پوری انسانیت کے لیے قیامت تک حق کا راستہ روشن کر دیا۔

صاحبانِ علم و تحقیق کے لیے اک اور پہلو واگزار کرنے کی ضرورت ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کن وجوہات کی بنا پر کوفہ نہ جا سکے اور دو محرم کو انہوں نے کربلا میں قیام کیوں اختیار کیا؟

بادی النظر میں دیکھا جائے تو یہ واقعات محض فوجی چالوں کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے گہرے سیاسی اور معاشرتی عوامل کارفرما تھے، جنہیں سمجھنا کی اشد ضرورت ہے

یہ بھی پڑھیں: واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!سلسلہ چہارم

امام حسین علیہ السلام کے کربلا میں قیام اور کوفہ جانے سے گریز اختیار کرنے کے منظر اور پیش منظر کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت ہے

اکثر تاریخی مصادر کے مطابق، امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب دو محرم الحرام 61 ہجری قریب قریب 2 اکتوبر 680 عیسوی کو کربلا کی قریبی زمین پر پہنچے اور اسی دن حر بن یزید ریاحی نے اپنی فوج کے ساتھ امام کے قافلے کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پڑاؤ ڈال لیا۔

فوجی اعتبار سے دیکھا جائے تو حر کی فوج دراصل کوفہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر روانہ کی گئی تھی جس نے حکم دیا تھا کہ وہ امام کو کوفہ میں داخل ہونے سے روکے اور کسی حال میں کوفہ نہ آنے دے اور یہ اسی عائد کی جانے والی فوجی پابندی کا نتیجہ تھا کہ امام علیہ السلام کوفہ نہ جا سکے مگر آپ نے اپنی سیاسی حکمت عملی سے اس پابندی کو مستقبل کی آزادی میں بدل دیا اور بعد از کربلا توابین و مختار ثقفی و دیگر کے قیام اس بات پر گواہ ہیں

کربلا میں قیام کی یہ باریکیاں اہل فکر و دانش کے لئے تحقیق کے نئے باب کھولتی ہیں۔

اس تحریک کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے یہ واضح کر دیا کہ جب حق اور باطل کے درمیان جنگ ہو تو حق کو چاہیے کہ وہ اپنی بقا کے لیے ہر قیمت ادا کرے، چاہے وہ قیمت اس کی جان ہی کیوں نہ ہو۔

یہی وہ پیغامِ نجات ہے جو آج بھی انسانیت کو ظلم کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

naheed khandand safdar abbasi naheed khandand safdar abbasi
پاکستان9 گھنٹے ago

​پی پی پی ورکرز کا قائدِ اعظم کے پاکستان، ۱۹۷۳ء کے آئین اور جمہوریت سے وابستگی کا اعادہ

پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی ورکرز (پی پی پی ڈبلیو) کے صدر ڈاکٹر صفدر علی...

Iran Pakistan Iran Pakistan
تازہ ترین9 گھنٹے ago

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران  ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل...

Southern Lebanon Southern Lebanon
تازہ ترین9 گھنٹے ago

اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے، لبنانی فائر فائٹرز

لبنانی فائر فائٹرز نے کہا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے۔ ...

IG-SINDH IG-SINDH
پاکستان9 گھنٹے ago

میر رضا کیس میں غلطیاں ہوئیں،آئی جی سندھ کا بڑا اعتراف

آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ میررضا کیس میں غلطیاں ہوئیں اب ہم نے ازالہ کردیا ہے،نئی...

Trump Trump
تازہ ترین9 گھنٹے ago

ہم نے پاسداران انقلاب کو ختم کردیا ہے اور وہ فرار ہو رہے ہیں، امریکی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر...

rain-karachi rain-karachi
پاکستان9 گھنٹے ago

بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، بادل کہاں کہاں برسیں گے؟

پی ڈی ایم اے  نے صوبہ بھر میں مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا۔ اعلامیے کے...

Mir-Raza-New Mir-Raza-New
پاکستان10 گھنٹے ago

میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

کراچی (صداۓ سچ نیوز) مقتول میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر...

Mohsin Naqvi and Iranian President Mohsin Naqvi and Iranian President
پاکستان18 گھنٹے ago

محسن نقوی اور ایرانی صدر کی ملاقات، بات چیت کی تفصیلات سامنے آگئیں

تہران (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اندرونی...

Red Sea Red Sea
پاکستان19 گھنٹے ago

بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، وزیر خارجہ کی شدید مذمت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں...

trump-iran-deal trump-iran-deal
تازہ ترین19 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے،ہم بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، امریکی صدر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر صورتِ حال ’اچھی سمت...

Trending