Connect with us

تازہ ترین

سرحدوں کے اس پار بھی انسان بستے ہیں

Muhammad Maqsood Khan

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

انسان جب اپنا گھر چھوڑتا ہے تو وہ صرف ایک مکان سے محروم نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ اس کی گلی، اس کے بچپن کی یادیں، درختوں کی چھاؤں، ماں کی دعائیں اور اپنے لوگوں کی آوازیں بھی کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ وہ اپنے ساتھ چند کپڑے، کچھ ضروری کاغذات اور ایک ایسی امید لے کر نکلتا ہے جسے حالات نے بار بار زخمی کیا ہوتا ہے۔ اس کے لیے راستہ آسان نہیں ہوتا۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی منزل پر اسے چھت ملے گی یا سرد آسمان کے نیچے ایک اور رات گزارنا پڑے گی۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے زندہ رہیں، اس کے گھر میں خوف کی جگہ سکون لے لے اور اس کی زندگی کا کوئی ایسا دن بھی آئے جب اسے اپنے دروازے پر دستک سے ڈر نہ لگے۔

لیکن —–
دنیا میں کچھ دروازے ایسے بھی ہیں جن کے سامنے پہنچ کر انسان کو اپنی بے بسی کا احساس اور زیادہ شدت سے ہوتا ہے۔ ان دروازوں کے پیچھے آباد لوگ محفوظ ہوتے ہیں۔ ان کے گھروں میں چراغ جلتے ہیں، ان کے بچوں کے لیے اسکول ہوتے ہیں اور ان کے بزرگ اپنے آخری دنوں میں کسی محفوظ چھت کے نیچے بیٹھ سکتے ہیں۔ ان دروازوں پر پہرے بھی ہوتے ہیں، قوانین بھی اور ضابطے بھی۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہیں،
مگر —–
سوال یہ ہے کہ کیا ان دروازوں کے پیچھے رہنے والے انسان اپنی حفاظت کے ساتھ کسی دوسرے انسان کی بے بسی کو بھی دیکھ سکتے ہیں؟

برطانیہ میں مبینہ نسل پرست جماعت ریفارم کے سربراہ نائجل فراج کی جانب سے پناہ گزینی کے نظام کو پانچ سال کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز نے اسی سوال کو ایک مرتبہ پھر زندہ کردیا ہے۔

فراج کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں وہ پناہ کی نئی درخواستیں مسترد کردیں گے، زیرِ التوا درخواستوں کو ختم کرنے اور درخواست گزاروں کو ملک بدر کرنے کے اقدامات کریں گے۔ ان کے مجوزہ منصوبے میں یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق سے برطانیہ کی علیحدگی، ہیومن رائٹس ایکٹ 1998 کی منسوخی اور بین الاقوامی پناہ گزین معاہدوں سے متعلق ذمہ داریوں کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

ان اقدامات کا مقصد، ان کے مطابق، برطانیہ کو دوبارہ ایک معمول کا ملک بنانا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ معمول کا ملک کسے کہتے ہیں؟ کیا وہ ملک معمول کا ہوتا ہے جہاں سرحدوں کی نگرانی ہوتی ہے، قوانین نافذ کیے جاتے ہیں اور قومی وسائل کے استعمال میں نظم و ضبط قائم رکھا جاتا ہے؟ یقیناً ایسا ملک اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے۔ لیکن کیا وہ ملک بھی معمول کا کہلا سکتا ہے جہاں کسی ایسے شخص کے لیے بھی انصاف کے دروازے بند کردیے جائیں جس کی زندگی واقعی خطرے میں ہو؟

ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرے۔ اس کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کی حکومت ملک میں داخلے کے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر پناہ کی درخواستوں کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے، اگر مسترد ہونے والی درخواستوں کے باوجود ملک بدری ممکن نہیں ہو پاتی، یا اگر غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے، تو ان مسائل کا حل تلاش کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

لیکن ہر مسئلے کا حل ایک ہی دروازہ بند کردینے میں نہیں ہوتا۔

انسانی زندگی کے معاملات میں بعض اوقات ایک ہی نوعیت کے دکھ کے پیچھے مختلف کہانیاں ہوتی ہیں۔ ایک شخص بہتر روزگار کے لیے اپنا وطن چھوڑتا ہے، دوسرا تعلیم کے لیے کسی دوسرے ملک کا رخ کرتا ہے، اور تیسرا اپنی جان بچانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ ان سب کے سفر کی منزل شاید ایک ہی ملک ہو، مگر ان کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اسی لیے پناہ گزینی کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ ہر درخواست کا جائزہ لیا جائے اور یہ طے کیا جاسکے کہ کس شخص کو قانونی طور پر تحفظ ملنا چاہیے۔

اگر کسی ملک نے اپنے دروازے پر دستک دینے والے ہر شخص کو ایک ہی نظر سے دیکھنا شروع کردیا تو انصاف اور بے انصافی کے درمیان فرق کیسے قائم رہے گا؟

فرض کیجیے، کسی دور افتادہ بستی میں آگ لگ جائے۔ لوگ اپنے بچوں کو اٹھا کر گھروں سے نکلیں اور جان بچانے کے لیے کسی دوسرے گاؤں کا رخ کریں۔ وہاں کے لوگ اپنی فصلوں، اپنے گھروں اور اپنے محدود وسائل کے بارے میں فکرمند ہوں تو ان کی تشویش کو سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ آگ سے بھاگنے والوں سے یہ کہیں کہ ہمارے پاس تمہاری داستان سننے کا وقت نہیں، تم سب واپس جاؤ، تو کیا ان کی مشکل حل ہوجائے گی؟ ممکن ہے ان کے گاؤں کی آبادی میں اضافہ نہ ہو، لیکن آگ میں گھرے ہوئے لوگوں کا مسئلہ تو اپنی جگہ باقی رہے گا۔

یہی فرق انتظامی مسئلے کو حل کرنے اور اسے نظروں سے اوجھل کردینے میں ہے۔

نائجل فراج کی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ عوام کے ان خدشات کو اپنی سیاسی مہم کا مرکز بناتے ہیں جو امیگریشن اور سرحدی انتظام کے بارے میں پائے جاتے ہیں۔ انگلش چینل کے ذریعے چھوٹی کشتیوں پر آنے والے افراد کا معاملہ برطانوی سیاست میں خاص اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا کررہی ہے، پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیوں تاخیر سے ہوتے ہیں اور ملک بدر کیے جانے والے افراد کو واپس بھیجنے میں کیا رکاوٹیں ہیں۔

یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

تاہم سیاسی قیادت کا امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ عوام کے خدشات کو کتنی قوت سے بیان کرتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ ان خدشات کو کس طرح قابلِ عمل پالیسی میں تبدیل کرتی ہے۔ کسی مسئلے کے بارے میں خوف پیدا کرنا آسان ہے، لیکن اس خوف کو انصاف اور حکمت کے ساتھ دور کرنا مشکل کام ہے۔

برطانیہ میں جولائی 2024 کے عام انتخابات کے بعد لیبر پارٹی اقتدار میں آئی، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کو نمایاں انتخابی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس صورت حال میں ریفارم یو کے کے لیے یہ موقع پیدا ہوا کہ وہ روایتی دائیں بازو کے ان ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرے جو کنزرویٹو قیادت سے مایوس ہوچکے ہیں۔ فراج کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کو اسی سیاسی پس منظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔

جب کسی ملک میں مہنگائی بڑھتی ہے، رہائش مہنگی ہوتی ہے، صحت کے نظام پر دباؤ پڑتا ہے اور عام آدمی کو اپنی زندگی بہتر بنانے کے مواقع کم دکھائی دیتے ہیں تو اس کی بے چینی فطری ہوتی ہے۔ لیکن یہ بے چینی کس طرف جائے گی، اس کا انحصار سیاسی قیادت پر بھی ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو معاشی مسائل کی وجوہات تلاش کرے، انتظامی کمزوریوں کی نشان دہی کرے اور اصلاحات کی راہ دکھائے۔ وہ چاہے تو ان مسائل کو کسی ایک طبقے سے جوڑ کر لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لے۔

پہلا راستہ محنت مانگتا ہے، دوسرا راستہ بلند آواز۔

اور ہماری دنیا میں بلند آواز اکثر دلیل سے پہلے سنائی دیتی ہے۔

مگر انسانوں کے مسائل صرف نعروں سے حل نہیں ہوتے۔ اگر کسی شہر میں مکانات کی کمی ہے تو رہائش کی پالیسی بہتر بنانا ہوگی۔ اگر ہسپتالوں میں مریضوں کو انتظار کرنا پڑتا ہے تو طبی سہولتوں اور وسائل کا جائزہ لینا ہوگا۔ اگر سرحدی انتظام کمزور ہے تو اسے بہتر کرنا ہوگا۔ ان مسائل کے اسباب ایک دوسرے سے جڑے ہوسکتے ہیں، لیکن کسی ایک گروہ کو ہر مشکل کی وجہ قرار دے دینا ان اسباب کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ انسانی ہمدردی کو قانون سے متصادم تصور نہ کیا جائے۔ ایک منظم پناہ گزینی کا نظام غیر قانونی ہجرت کی روک تھام، درخواستوں کی بروقت جانچ اور مسترد ہونے والے دعووں پر قانون کے مطابق عمل درآمد میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن ایسا نظام اسی وقت منصفانہ ہوگا جب اس میں ان لوگوں کے دعووں کو بھی سنا جائے جنہیں اپنے وطن واپس جانے پر ظلم یا جان کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ہر درخواست درست نہیں ہوتی، مگر ہر درخواست کو سنے بغیر مسترد کردینا بھی درست نہیں۔

فراج کے منصوبے میں انسانی حقوق کے تحفظات کو ختم کرنے کی تجاویز اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان کے اثرات صرف پناہ گزینوں تک محدود نہیں رہ سکتے۔ یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق سے علیحدگی اور برطانوی ہیومن رائٹس ایکٹ کی منسوخی جیسے اقدامات وسیع قانونی اور آئینی سوالات پیدا کریں گے۔ ان سے متعلق فیصلوں کو پارلیمانی عمل، عدالتی نگرانی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔

قانون کی حکمرانی کا مفہوم یہ نہیں کہ حکومت جب چاہے کسی طبقے کے لیے قانون کے تحفظات ختم کردے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ریاستی طاقت بھی قانون کے تابع رہے۔ عدالتوں کا وجود اسی لیے ہے کہ حکومتی فیصلوں کا جائزہ لیا جاسکے اور اگر کسی فیصلے سے قانونی حقوق متاثر ہوں تو اس کی اصلاح کا راستہ موجود رہے۔

انسانی حقوق کی اہمیت شاید اس وقت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے کمزور پوزیشن میں ہو۔ ایک صاحبِ اختیار شخص کے لیے اپنی آواز بلند کرنا آسان ہے۔ ایک بے گھر، بے وطن اور غیر یقینی مستقبل کا سامنا کرنے والے شخص کے لیے اپنی بات منوانا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ قانون اگر ایسے ہی لوگوں کے لیے کوئی راستہ نہ چھوڑے تو اس کی موجودگی کا فائدہ کس کو پہنچے گا؟

دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے مواقع آئے ہیں جب لوگ جنگوں، سیاسی جبر، مذہبی تعصب اور معاشی تباہی کے باعث اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہر زمانے نے ان کے بارے میں اپنے فیصلے کیے، اور ہر فیصلے کے پیچھے اس دور کی سیاست، معاشرت اور اخلاقی سوچ کارفرما رہی۔ بعض معاشروں نے اپنے وسائل کی حدود کو سامنے رکھا، بعض نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کو ترجیح دی، اور بعض نے انسانی ضرورت کو دیکھتے ہوئے پناہ کے راستے کھولے۔

لیکن ان تمام فیصلوں میں ایک سوال ہمیشہ باقی رہا: کیا انسان کی تکلیف کو صرف اس لیے نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہماری سرحد کے اس پار پیدا ہوا تھا؟

اس سوال کا کوئی آسان جواب نہیں۔ کسی بھی ملک کے وسائل لامحدود نہیں ہوتے۔ آبادی، رہائش، روزگار اور عوامی خدمات سے متعلق حقیقی مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح یہ توقع بھی غیر حقیقی ہوگی کہ ہر ملک ہر شخص کو غیر معینہ مدت تک اپنے ہاں رہنے کی اجازت دے دے۔ لیکن ان حقائق سے یہ نتیجہ بھی نہیں نکلتا کہ پناہ کی ہر درخواست پر پابندی لگانا ہی واحد راستہ ہے۔

حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے حقوق اور ان لوگوں کی ضروریات کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جو قانون، انصاف اور عملی امکانات کے مطابق ہو۔

یہی توازن سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش سے نکال کر انسانی خدمت کے دائرے میں لاتا ہے۔

نائجل فراج اگر برطانیہ کو ایک مضبوط اور منظم ملک بنانا چاہتے ہیں تو ان کے منصوبے کو انہی پیمانوں پر پرکھا جائے گا۔ کیا اس سے سرحدی انتظام بہتر ہوگا؟ کیا قانونی درخواستوں کے فیصلے زیادہ مؤثر انداز میں ہوں گے؟ کیا غیر قانونی ہجرت کے مسئلے کو پائیدار بنیادوں پر حل کیا جاسکے گا؟ اور کیا ان تمام اقدامات کے دوران ان لوگوں کے حقوق محفوظ رہیں گے جنہیں واقعی پناہ کی ضرورت ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سیاسی مقبولیت سے زیادہ اہم ہیں۔

ایک سیاست دان کے لیے اگلا انتخاب جیتنا بڑی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن ایک ریاست کے لیے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے اخلاقی اور قانونی نتائج کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انتخابات آتے ہیں، گزر جاتے ہیں، جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں اور پھر اپوزیشن میں چلی جاتی ہیں، مگر ان کے بنائے ہوئے قوانین اور فیصلوں کے اثرات لوگوں کی زندگیوں میں بہت دیر تک باقی رہتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ پناہ گزینی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نہ تو سرحدوں کی اہمیت کو فراموش کریں اور نہ انسان کی حرمت کو۔

آخر میں مجھے ایک ایسے گھر کا خیال آتا ہے جس کے باہر ایک اجنبی کھڑا ہے۔ گھر کا مالک اس سے پوچھتا ہے کہ تم کون ہو، کہاں سے آئے ہو اور تمہیں کیا ضرورت ہے۔ یہ سوالات بالکل جائز ہیں۔ گھر کا مالک اپنے گھر کی حفاظت کا حق رکھتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس اجنبی کی بات سنے بغیر دروازہ بند کردے تو ممکن ہے اس نے اپنے گھر کو تو محفوظ کرلیا ہو، مگر اپنے فیصلے کو انصاف کے تقاضوں سے محروم کردیا ہو۔

ریاست اور گھر میں فرق ضرور ہے، لیکن انسان کی بے بسی دونوں جگہ ایک ہی سوال پیدا کرتی ہے۔

کسی دروازے کو بند کرنے کا اختیار ہونا اور اس دروازے کو بند کرنا درست ہونا، دو الگ باتیں ہیں۔

برطانیہ کو اپنے قوانین نافذ کرنے، اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور عوام کے مسائل حل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو اپنے ہاں آنے سے روک سکتا ہے۔ اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے انصاف کے اصولوں کو کس حد تک قائم رکھتا ہے۔

کیونکہ قوموں کی عظمت صرف ان کے بڑے شہروں، مضبوط معیشتوں اور محفوظ سرحدوں سے نہیں پہچانی جاتی۔ ان کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتی ہیں، اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں اور ان اجنبیوں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہیں جو کسی مجبوری کے تحت ان کے دروازے پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔

انسان کو انسان سمجھنا کسی سیاسی جماعت کا انتخابی نعرہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وہ بنیادی قدر ہے جس کے بغیر قانون بھی محض الفاظ رہ جاتا ہے اور سیاست بھی اقتدار حاصل کرنے کا ایک طریقہ۔

نائجل فراج کے پانچ سالہ منصوبے پر بحث جاری رہے گی۔ اس کے حامی اسے سرحدی تحفظ کی ضرورت قرار دیں گے اور مخالفین انسانی حقوق کے لیے خطرہ سمجھیں گے۔ لیکن اس شور میں ایک سوال کو خاموش نہیں ہونا چاہیے:
کیا ہم ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں جو اپنی حفاظت کے ساتھ دوسروں کی بے بسی کو بھی سمجھ سکے، یا ایسا معاشرہ جس میں ہر اجنبی پہلے ایک مسئلہ ہو اور بعد میں کہیں جاکر انسان؟

اس سوال کا جواب صرف برطانیہ کے مستقبل کا تعین نہیں کرے گا۔ یہ ہماری اپنی تہذیبی ترجیحات کا آئینہ بھی ہوگا۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

petroleum-products-price (1) petroleum-products-price (1)
پاکستان1 گھنٹہ ago

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول مہنگا اور ڈیزل سستا ہوگیا

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ تعین کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ...

Strait of Hormuz Strait of Hormuz
تازہ ترین2 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز کے قریب پروجیکٹائل ٹکرانے سے متاثرہ بحری جہاز ڈوب گیا

آبنائے ہرمز کے قریب 23 ستمبر کو پروجیکٹائل ٹکرانے سے متاثرہ بحری جہاز ڈوب گیا۔ لندن سے بین الاقوامی جہاز...

Russia Russia
تازہ ترین2 گھنٹے ago

روس کا یوکرین کی جانب سے آئل ریفائنری پر حملے کا دعویٰ، یوکرین نے الزام مسترد کردیا

ماسکو (صداۓ سچ نیوز) روس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی ڈرونز نے اس کی 2 آئل...

Muhammad Maqsood Khan Muhammad Maqsood Khan
تازہ ترین3 گھنٹے ago

سرحدوں کے اس پار بھی انسان بستے ہیں

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ انسان جب اپنا گھر چھوڑتا ہے تو وہ صرف ایک مکان سے محروم...

kpk-police kpk-police
پاکستان3 گھنٹے ago

کے پی پولیس کے 54 شہدا کے اہلخانہ میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم

پشاور (صداۓ سچ نیوز) خیبر پختونخوا پولیس کے 54 شہدا کے خاندانوں میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کیے گئے...

Ballistic Missiles Ballistic Missiles
تازہ ترین4 گھنٹے ago

یمنی حوثی چینی پرزوں کی مدد سے جدید بیلسٹک میزائل تیار کررہے ہیں، امریکی اخبار کا انکشاف

صنعا (صداۓ سچ نیوز) یمن کے حوثیوں کی جانب سے چین سے درآمد کردہ پرزوں کی مدد سے اپنے جدید...

Rana Sanaullah Rana Sanaullah
پاکستان4 گھنٹے ago

مراد سعید افغانستان میں بیٹھ کر خیبر پختونخوا کی حکومت کنٹرول کر رہے ہیں، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی  امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مراد سعید افغانستان...

Laiba’s Initial Postmortem Laiba’s Initial Postmortem
پاکستان4 گھنٹے ago

اسلام آباد، گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ تفتیشی ٹیم کو موصول

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کی تفتیشی...

Modi Government Modi Government
تازہ ترین4 گھنٹے ago

مودی حکومت نے مسلم بستی کی واٹر سپلائی بند کر دی، معاملہ اقوامِ متحدہ تک  جا پہنچا، بی بی سی

نیو دہلی (صداۓ سچ نیوز) بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور انتقامی کارروائیوں کا ایک اور ہولناک واقعہ سامنے...

oil oil
تازہ ترین4 گھنٹے ago

امریکا میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ریکارڈ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی محکمہ محنت کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق توانائی...

Trending