پاکستان
سی ڈی اے کی بری امام ہاؤس گرانے کی تیاریاں، سیاسی سرپرستی اور انتظامی اثر و رسوخ کا مبینہ نیٹ ورک بھی زیرِ تفتیش لانے کا مطالبہ
اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بری امام ہاؤس کے خلاف کارروائی کے اگلے مرحلے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ 30 اکتوبر کو سیل کیے جانے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے مقررہ مدت میں تعمیرات ختم نہ کیے جانے پر اب سی ڈی اے خود متنازع عمارتیں مسمار کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے میں مبینہ سیاسی سرپرستی، انتظامی اثر و رسوخ، مقامی پولیس کے معاملات میں مداخلت اور مشتبہ جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ آمدورفت سے متعلق سوالات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
بری امام ہاؤس سے متعلق کئی سال سے جاری تنازع اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ سی ڈی اے نے تقریباً 100 کنال سرکاری اراضی واگزار کرانے کے لیے کارروائی تیز کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے 30 اکتوبر کو بری امام ہاؤس کی عمارتوں اور احاطے کو سیل کرکے کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس کے بعد متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ مقررہ مدت کے اندر اپنی تعمیرات رضاکارانہ طور پر ختم کر دی جائیں، بصورت دیگر سی ڈی اے خود مسماری کی کارروائی کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے سی ڈی اے حکام کے درمیان دفتر میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل اور مسماری کے انتظامات پر غور کیا گیا۔ بری امام ہاؤس کے انتظامی امور سے وابستہ راجہ سرفراز اکرم اور دیگر متعلقہ افراد کو مبینہ طور پر تعمیرات ہٹانے کی مہلت دی گئی تھی، تاہم مقررہ مدت میں عمل درآمد نہ ہونے کے بعد اب سی ڈی اے اپنی مشینری اور انفورسمنٹ ٹیموں کے ذریعے کارروائی کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
تقریباً 100 کنال پر مشتمل بری امام ہاؤس کئی برس تک مذہبی، سماجی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ یہاں بڑے اجتماعات اور اہم شخصیات کی تقریبات منعقد ہوتی رہیں، جبکہ احاطے میں دکانیں اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
مقامی معاملات اور پولیس انتظامیہ میں مبینہ اثر و رسوخ کے الزامات
بری امام ہاؤس کا معاملہ محض سرکاری اراضی اور متنازع تعمیرات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے انتظامی معاملات اور مقامی سطح پر مبینہ اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی کئی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔
مقامی حلقوں میں گردش کرنے والے دعوؤں کے مطابق بری امام کے علاقے میں ہاؤس کی انتظامیہ کا خاصا اثر و رسوخ تھا اور مبینہ طور پر علاقے کی بعض سرگرمیاں بھی اس کی اجازت یا نگرانی سے مشروط سمجھی جاتی تھیں۔
اس کے علاوہ یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ بری امام ہاؤس سے وابستہ بعض افراد سیکرٹریٹ تھانے میں ایس ایچ اوز کی تعیناتی سمیت پولیس کے انتظامی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ مقامی پولیس کی خودمختاری اور ریاستی اداروں کے اختیارات کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
مزید سنگین دعوؤں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مذکورہ احاطہ بعض بااثر شخصیات اور مبینہ جرائم پیشہ عناصر کے قیام یا ملاقاتوں کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ اس حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا انتظامیہ کی جانب سے ایسے افراد کو سہولت یا کسی قسم کی معاونت فراہم کی جاتی تھی۔
تاہم ان تمام الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے پولیس ریکارڈ، متعلقہ سرکاری دستاویزات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کا تعین کیا جا سکے۔
سیاسی سرپرستی اور ماضی میں احتسابی کارروائیوں کے سوالات
بری امام ہاؤس گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد اہم اجتماعات اور تقریبات کا مرکز رہا، جہاں وزرا، سیاست دانوں اور دیگر بااثر شخصیات کی آمدورفت بھی رہی۔
راجہ سرفراز اکرم سمیت اس کمپلیکس کے انتظامی امور سے وابستہ بعض افراد باری امام دربار کی تولیت اور خدمت کے حوالے سے بھی جانے جاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے میں مبینہ سیاسی سرپرستی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ سیاسی شخصیات میں اسحاق ڈار سمیت بعض بااثر ناموں کا تذکرہ بھی سامنے آتا رہا ہے، تاہم ان شخصیات کے ساتھ تعلقات کی نوعیت، مبینہ سرپرستی یا کسی عملی کردار کی تصدیق کے لیے مستند دستاویزی شواہد اور متعلقہ افراد کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
یہ تنازع کوئی نیا نہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھی باری امام ہاؤس سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات اور ریفرنسز کا ذکر بھی مختلف اوقات میں ہوتا رہا۔
تاہم ان ابتدائی اقدامات کے باوجود معاملہ کئی برس تک حل طلب رہا۔ ماضی میں شروع ہونے والی احتسابی کارروائیوں کا حتمی نتیجہ کیا نکلا، مقدمات کس مرحلے پر ختم یا بند ہوئے اور ان کے پیچھے کیا وجوہات تھیں، یہ تمام امور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں واضح کیے جانے کی ضرورت ہے۔
کیا کارروائی صرف مسماری تک محدود رہے گی؟
بری امام ہاؤس کو سیل کرنے اور اب مسماری کی تیاریوں کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا ریاستی کارروائی صرف عمارتوں کو گرانے اور زمین واگزار کرانے تک محدود رہے گی یا اس مبینہ اثر و رسوخ کے پورے نظام کی بھی تحقیقات کی جائیں گی جس کے تحت یہ کمپلیکس کئی برس تک سرکاری اراضی پر قائم رہا۔
متعلقہ اداروں کو یہ معلوم کرنا ہوگا کہ اتنے بڑے رقبے پر مشتمل یہ کمپلیکس سرکاری زمین پر اتنے طویل عرصے تک کیسے قائم رہا، اس کی سرگرمیوں کو کن افراد یا اداروں کی مبینہ حمایت حاصل تھی اور کیا بااثر شخصیات نے مقامی انتظامیہ یا پولیس کے معاملات میں مداخلت کی؟
تحقیقات میں یہ پہلو بھی شامل ہونا چاہیے کہ آیا کسی سرکاری افسر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، تجارتی سرگرمیاں قانونی اجازت کے بغیر جاری رہیں یا سرکاری اراضی پر مبینہ قبضے سے کسی فرد یا گروہ نے مالی یا دیگر فوائد حاصل کیے۔
سرکاری زمین واگزار کرانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن قانون کی بالادستی صرف عمارتیں گرانے سے قائم نہیں ہوتی۔ اگر کسی فرد، گروہ یا سرکاری اہلکار نے مبینہ طور پر غیر قانونی قبضے کو ممکن بنایا، ریاستی اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی یا اس انتظام سے فائدہ اٹھایا تو اس کا بھی قانون کے مطابق احتساب ہونا چاہیے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سی ڈی اے کی یہ کارروائی صرف بری امام ہاؤس کی عمارتوں کے انہدام تک محدود رہتی ہے یا اس کے ساتھ برسوں سے قائم مبینہ سیاسی و انتظامی اثر و رسوخ کے نظام کے حقائق بھی منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

