تازہ ترین
بش فارم کی خوشبو، شہد کی مٹھاس
تحریر: نثار حسین
میلبورن کی تیز رفتار زندگی سے دور، آسٹریلیا کے قدرتی مناظر، شہد کی مکھیوں کی حیرت انگیز دنیا
میلبورن کی مصروف شہری زندگی میں وقت یوں گزرتا ہے جیسے کسی نے گھڑی کی سوئیوں کو دوڑنے کا حکم دے رکھا ہو۔ بلند عمارتیں، کشادہ سڑکیں، برقی ٹرامیں، رواں دواں گاڑیاں اور اپنے اپنے کام کی طرف تیزی سے بڑھتے لوگ؛ ہر شخص اپنی منزل کی تلاش میں دکھائی دیتا ہے۔ لیکن اسی آسٹریلیا میں، جہاں بڑے شہروں کی زندگی جدید مشینری اور تیز رفتاری کے تابع ہے، کچھ فاصلے پر قدرت نے اپنے لیے ایک الگ جہان بھی آباد کر رکھا ہے۔ ایسا جہان جہاں درختوں کی سرگوشیاں، جھاڑیوں میں چھپی زندگی کے آثار، پانی کے قدرتی ذخیرے اور خاموشی کی اپنی زبان ہے۔
ہمیں بھی ایک روز اسی جہان کی سیر کا موقع ملا۔ ارادہ تھا کہ شہر کی روزمرہ مصروفیات سے نکل کر کسی بش فارم کی فضا میں چند گھنٹے گزارے جائیں، قدرت کے رنگ دیکھے جائیں اور دیہی زندگی کے اس پہلو سے آشنائی حاصل کی جائے جو بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لیے عموماً خواب سا بن جاتا ہے۔ مگر اس سفر کی ابتدا ہی ایسی آزمائش سے ہوئی جس نے ہمیں یاد دلا دیا کہ زندگی میں منصوبے انسان بناتا ہے، لیکن ان منصوبوں کی تکمیل ہمیشہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتی۔
کہتے ہیں ٹرین کسی کا انتظار نہیں کرتی؛ مسافر کو ہی وقت کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ ہم نے بھی اسی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے رات کو سفر کے اوقات دیکھ لیے تھے۔ صبح مقررہ وقت پر ریلوے اسٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہماری مطلوبہ ٹرین منسوخ ہو چکی ہے اور اگلی سروس تقریباً چالیس منٹ بعد روانہ ہوگی۔ لمحے بھر خیال آیا کہ کہیں بش فارم کی سیر کا پروگرام صرف خواہش بن کر نہ رہ جائے۔ لیکن جب ارادہ پختہ ہو تو راستے کی بندش ہمیشہ سفر کا اختتام نہیں ہوتی۔ اسی روٹ پر میٹرو کی دوسری سروس دستیاب تھی۔ ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا اور چند منٹ بعد آنے والی ٹرین میں سوار ہوگئے۔ یوں قدرت کی طرف ہمارے اس سفر کا پہلا امتحان بھی خوش اسلوبی سے طے ہوگیا۔
بالآخر ہم راکس برگ پارک پہنچ گئے، جہاں ہمارے میزبان میاں منظور منتظر تھے۔ ان کی گاڑی میں بیٹھتے ہی شہری عمارتوں اور سڑکوں کا منظر آہستہ آہستہ پیچھے رہنے لگا اور آسٹریلیا کے کھلے مناظر ہمارے سامنے پھیلتے چلے گئے۔ شہر سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم سڈنی روڈ پر بائیں جانب واقع ان کے بش فارم پہنچ گئے۔
میاں منظور کا تعلق پھالیہ سے ہے پیشے کے لحاظ سے وہ انجینیئر ہیں اور پچھلی تین دہائیوں سے میلبورن میں مقیم ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایسی اپنائیت ہے جو رسمی تعارف کی محتاج نہیں ہوتی۔ خندہ پیشانی، محبت بھرا لہجہ اور مہمان کو عزت دینے کا سلیقہ ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ ان کے ہاں مہمان نوازی صرف کھانے پینے کا اہتمام نہیں دل سے دل تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ انہوں نے جس محبت سے ہمارا استقبال کیا، اس سے سفر کی تھکن بھی جاتی رہی اور یہ احساس بھی تازہ ہوا کہ دیارِ غیر میں آباد پاکستانیوں نے اپنے اندر وطن کی مہمان نواز روایت کو کس خوب صورتی سے زندہ رکھا ہوا ہے۔
فارم میں داخل ہوتے ہی منظر بدل گیا۔ چالیس ایکڑ پر پھیلا قدرتی رقبہ، درختوں کے جھنڈ، جگہ جگہ اگتی جھاڑیاں اور دور تک پھیلا کھلا ماحول؛ شہر کے شور سے دور یہ دنیا اپنے اندر عجیب سکون سموئے ہوئے تھی۔ یہاں فطرت کو دیکھنے کے لیے کسی مصنوعی آرائش کی ضرورت نہ تھی۔ زمین، درخت، پانی اور خاموشی ہی اس منظر کے اصل حسن تھے۔

آسٹریلیا میں بش فارم کی اصطلاح عموماً ایسے دیہی رقبوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں مقامی نباتات، قدرتی جھاڑیاں، درخت اور کھلے میدان نمایاں ہوں۔ بعض مقامات پر مویشی پالے جاتے ہیں، کہیں شہد کی مکھیاں پالی جاتی ہیں، کہیں باغبانی اور کہیں زمین کا بڑا حصہ قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے برقرار رکھا جاتا ہے۔ میاں منظور کا فارم بھی اسی قدرتی تنوع کی دل کش مثال تھا۔
فارم کی نمایاں خصوصیت وہاں موجود دو بڑے آبی ذخیرے تھے، جنہیں مقامی طور پر ڈیم کہا جاتا ہے۔ میزبان کے اندازے کے مطابق ان میں سے ایک میں تقریباً چالیس لاکھ مکعب فٹ پانی ذخیرہ تھا، جب کہ دوسرے میں بھی خاصی مقدار میں پانی موجود تھا۔ یہ ذخائر فارم کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہمارے میزبان نے جنگل کے قدرتی ماحول میں ناشتے کا ایسا اہتمام کر رکھا تھا جس میں مشرقی ذائقوں کی پوری جھلک موجود تھی۔ میز پر مختلف اقسام کی بریڈ، مکھن، پراٹھے، انڈے، جلیبیاں کافی اور دیگر لوازمات سجے تھے۔ آسٹریلیا کی سرزمین، مقامی ماحول اور پاکستانی ناشتے کی خوشبو؛ یہ امتزاج اپنے اندر الگ ہی لطف رکھتا تھا۔شہری زندگی میں ناشتے کی میز اکثر مصروف دن کی ابتدا کا صرف ایک مرحلہ ہوتی ہے، لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔ درختوں کے درمیان بیٹھ کر، کھلی فضا میں، دوستوں کی رفاقت اور میزبان کی محبت کے ساتھ کھانا کھانے میں ایسی آسودگی تھی جو کسی مہنگے ریستوران کے ماحول سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔
ناشتے کے بعد فارم کی سیر کا آغاز ہوا۔ ہم تقریباً دو کلومیٹر پیدل چلے۔ کبھی درختوں کے درمیان سے گزرتے، جھاڑیوں کے قریب ٹھہرتے اور اردگرد پھیلے قدرتی مناظر کو دیکھتے۔ یہاں ہر طرف زندگی کے آثار تھے، لیکن یہ زندگی شہر کی طرح نمایاں اور شوریدہ نہیں تھی۔ قدرت اپنے معمول کے مطابق خاموشی سے کام کر رہی تھی۔
راستے میں بعض مقامات پر کینگروز اور دوسرے جنگلی جانوروں کی باقیات، خصوصاً ہڈیاں اور پرانے ڈھانچے، بھی دکھائی دیے۔ یہ منظر خوش گوار سیر کے دوران ایک سنجیدہ خیال کو جنم دیتا تھا۔ جن جانوروں نے کبھی اسی زمین پر چھلانگیں لگائی ہوں گی، جو کبھی ان درختوں اور جھاڑیوں کے درمیان زندگی کی دوڑ میں شریک رہے ہوں گے، وقت گزرنے کے ساتھ ان کے جسم مٹی میں ملنے کے قریب پہنچ چکے تھے۔
فطرت کا حسن صرف پھولوں، سبزے اور پانی میں نہیں؛ اس کے اندر زندگی اور موت کا مسلسل سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ جنگل کسی ایک مخلوق کی ملکیت نہیں، نہ وہاں زندگی ہمیشہ ایک ہی صورت میں برقرار رہتی ہے۔ یہاں بقا کی جدوجہد بھی ہے، خوراک کی تلاش بھی اور فنا کا وہ قانون بھی جو ہر جاندار کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔یہ سوچتے ہوئے محسوس ہوا کہ انسان خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، فطرت کے اس بنیادی نظام سے باہر نہیں نکل سکتا۔ شہر کی روشنیاں ہمیں بہت کچھ بھلا دیتی ہیں، مگر جنگل کی خاموشی زندگی کی اصل حقیقتوں سے دوبارہ آشنا کر دیتی ہے۔
فارم کی سیر کے بعد واپسی ہوئی تو لنچ ہمارا منتظر تھا۔ میز پر روایتی پاکستانی کھانوں کے بجائے پیزا اور فاسٹ فوڈ رکھا گیا تھا۔ کھانے کے بعد مقامی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ قہوہ پیش کیا گیا، جس نے اس تجربے میں ایک نیا ذائقہ شامل کر دیا۔یہ مہمان نوازی کی خوب صورتی ہے کہ میزبان اپنے مہمانوں کے ذوق، ماحول اور موقع کے مطابق اہتمام کرتا ہے۔ میاں منظور کے ہاں کھانے کی میز ہو یا فارم کی سیر، ہر مرحلے پر یہ احساس نمایاں رہا کہ مہمانوں کو خوش رکھنا ان کے لیے کسی ذمہ داری سے زیادہ دلی مسرت کا معاملہ ہے۔
تاہم اس دن کا سب سے دلچسپ مرحلہ ابھی باقی تھا۔ ہمیں شہد کی مکھیوں کے چھتوں سے شہد نکالنے کا عملی مظاہرہ دیکھنا تھا، بلکہ اس عمل میں حصہ لینے کا موقع بھی ملنے والا تھا۔
شہد کی مکھیوں کے قریب جانے سے پہلے ہمیں خصوصی حفاظتی لباس پہنایا گیا۔ سر پر جالی دار ہیلمٹ، چہرے پر حفاظتی نقاب، ہاتھوں میں دستانے اور جسم پر ایسا لباس جو مکھیوں کے ڈنک سے محفوظ رکھنے میں مدد دے۔ اس اہتمام کے بعد ہم اس مقام کی طرف بڑھے جہاں شہد کی مکھیوں کے چھتے رکھے گئے تھے۔
شہد کی مکھیوں کے چھتوں کو انگریزی میں Beehives اور ایسے چھتوں کے منظم مجموعے کو Apiary کہا جاتا ہے۔ یہ لکڑی کے عام ڈبے نہیں ہوتے مخصوص ساخت کے حامل چھتے ہوتے ہیں۔ ان میں عموماً لینگسٹرَوتھ (Langstroth) نظام استعمال کیا جاتا ہے، جس میں لکڑی کے فریم لگائے جاتے ہیں۔ ان فریموں میں موم کی بنیاد نصب ہوتی ہے، جس پر مکھیاں اپنے مخصوص مسدسی خانے بناتی ہیں۔ شہد ذخیرہ کرنے کے لیے اوپری حصے میں اضافی ڈبے رکھے جاتے ہیں، جنہیں Honey Supers کہا جاتا ہے۔
یہ سارا نظام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ شہد کی تیاری صرف قدرتی عمل نہیں انسان اور مکھیوں کے درمیان منظم اشتراک بھی ہے۔ انسان چھتوں کے لیے مناسب جگہ اور ضروری دیکھ بھال فراہم کرتا ہے، جب کہ مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرکے اسے شہد میں تبدیل کرنے کا اپنا قدرتی عمل جاری رکھتی ہیں۔
چھتے کھولنے سے پہلے ایک خاص آلہ استعمال کیا گیا جسے Bee Smoker کہا جاتا ہے۔ اس میں خشک ایندھن جلا کر دھواں پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ دھواں مکھیوں کو بے ہوش نہیں کرتا، عموماً ان کے دفاعی ردعمل کو عارضی طور پر کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دھوئیں کے اثر سے مکھیاں خوراک جمع کرنے اور اپنے دفاعی رویے میں تبدیلی کے باعث نسبتاً کم جارحانہ ہوسکتی ہیں، جس سے چھتے کو احتیاط کے ساتھ کھولنا آسان ہو جاتا ہے۔اس کے بعد فریم ایک ایک کرکے باہر نکالے گئے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے موم کے خانے تھے جن میں سنہری شہد بھرا ہوا تھا۔ قدرت کی کاری گری کا یہ نمونہ ایسا تھا کہ آدمی کچھ دیر اسے دیکھتا ہی رہ جائے۔ ہر خانے کی ساخت، شہد کی چمک اور فریموں کی ترتیب میں حیرت انگیز تناسب دکھائی دیتا تھا۔
مکھیوں کی دنیا اپنے اندر مکمل سماجی نظام رکھتی ہے۔ ملکہ مکھی (Queen Bee) کا بنیادی کردار انڈے دینا اور کالونی کی افزائش کو برقرار رکھنا ہے، جب کہ کارکن مکھیاں (Worker Bees) خوراک جمع کرنے، بچوں کی نگہداشت، چھتے کی صفائی اور دیگر ضروری کام انجام دیتی ہیں۔ خوراک کی تلاش میں نکلنے والی کارکن مکھیاں پھولوں سے رس اور زرِگل جمع کرتی ہیں اور مخصوص اشاروں، سمت شناسی اور سورج کی پوزیشن سے مدد لیتے ہوئے اپنے چھتے تک واپس پہنچتی ہیں۔یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کارکن مکھیاں ہر سفر میں ملکہ کے پیچھے چلتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے قدرتی حسی نظام اور چھتے میں ساتھی مکھیوں تک معلومات پہنچانے کے مخصوص طریقوں کی مدد سے راستہ تلاش کرتی ہیں۔ ان کی اجتماعی زندگی کا یہ نظم سائنس دانوں کے لیے بھی طویل عرصے سے دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔

شہد کے چھتوں کی جگہ کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چھتے کو بلاوجہ منتقل کرنا مکھیوں کی سمت شناسی اور کالونی کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے ان کی دیکھ بھال کرنے والے افراد مقام، موسم، پانی اور خوراک کی دستیابی جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں۔
میزبان کے مطابق ان کے 8 چھتوں سے تقریباً سولہ سے بیس کلوگرام تک شہد حاصل ہو جاتا ہے، تاہم یہ مقدار موسم، پھولوں کی دستیابی، کالونی کی قوت اور دیگر حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔
شہد نکالنے کا اگلا مرحلہ بھی اتنا ہی دلچسپ تھا۔ شہد سے بھرے فریموں کو پروسیسنگ کے لیے لے جایا جاتا ہے، جہاں سب سے پہلے موم کی باریک تہہ اتاری جاتی ہے۔ اس عمل کو Uncapping کہتے ہیں۔ اس کے بعد فریم ایک خاص مشین، Honey Extractor، میں رکھے جاتے ہیں۔ مشین کی گردش سے شہد مومی خانوں سے باہر نکل آتا ہے۔ بعدازاں اسے چھاننے اور ذخیرہ کرنے کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔
اس سارے عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد جب ہمیں تازہ شہد چکھنے کا موقع ملا تو یوں محسوس ہوا جیسے اس کی مٹھاس میں اس دن کے پورے تجربے کا لطف سمٹ آیا ہو۔ شہد کا ذائقہ اپنی جگہ، لیکن اسے چھتے سے نکلتے دیکھنے کے بعد چکھنے کی کیفیت ہی کچھ اور تھی۔ اب وہ صرف بازار سے خریدی جانے والی شے نہیں رہا تھا؛ اس کے پیچھے پھولوں، مکھیوں، محنت، وقت اور قدرت کے ایک پیچیدہ نظام کی پوری کہانی موجود تھی۔
شہد کی مکھیوں کے بعد اب باری تھی ایک ایسی سرگرمی کی جس نے ہمیں ماضی کی یادوں میں پہنچا دیا۔ فارم میں نشانہ بازی کا انتظام بھی موجود تھا۔ جاپانی ساختہ .308 رائفل ہمارے ہاتھ میں دی گئی تو اس کے وزن اور گولی کے حجم نے ابتدا میں کچھ جھجک ضرور پیدا کی۔ لیکن چند لمحوں بعد کالج کے زمانے کی نیشنل کیڈٹ کور (NCC) کی تربیت یاد آگئی۔مناسب نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے تحت ہدف سامنے رکھا گیا۔ نشانہ لیا اور گولی ہدف پر جا لگی۔ برسوں پہلے حاصل کی گئی تربیت کا یوں اچانک یاد آ جانا خوش گوار حیرت سے کم نہ تھا۔ بعض تجربات وقت کی تہوں میں دب تو جاتے ہیں، لیکن مکمل طور پر مٹتے نہیں؛ موقع ملے تو پھر سے یاد آ جاتے ہیں۔
البتہ جس جنگلی بکرے یا ہرن کو دیکھنے کی امید تھی، وہ اس روز دکھائی نہ دیا۔ شاید جنگل کی اپنی مصروفیات تھیں، یا پھر ہمارے ارادوں سے بے خبر وہ کہیں اور اپنی دنیا میں مگن تھا۔ میزبان کے مطابق فارم میں کبھی کبھار ہرن بھی نظر آ جاتے ہیں، لیکن اس روز ہمیں ان کا دیدار نصیب نہ ہوا۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آسٹریلیا میں آتشیں اسلحے کی ملکیت اور استعمال قانون کے تابع ہیں۔ ۔
شام ڈھلنے سے پہلے ہم نے فارم کے بڑے ڈیم کا رخ کیا۔ دن بھر کی سرگرمیوں کے بعد پانی کے کنارے پہنچنا الگ ہی تجربہ تھا۔ شفاف پانی، اطراف میں پھیلے درخت، کھلی فضا اور فطرت کی خاموشی؛ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دن بھر کی تھکن آہستہ آہستہ پانی کی سطح میں اتر رہی ہو۔
ایک ساتھی نے کشتی رانی کا لطف بھی اٹھایا، البتہ ہم اس سرگرمی سے محروم رہے۔ موسم خوش گوار تھا اور ہم تقریباً پانچ بجے تک ان مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کبھی پانی کی سطح کو دیکھتے، کبھی درختوں کے عکس پر نگاہ ٹھہرتی اور کبھی خیال آتا کہ شہر کی زندگی میں انسان کتنی آسانی سے اپنے اردگرد موجود قدرتی نعمتوں سے غافل ہو جاتا ہے۔شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو واپسی کی تیاری ہوئی۔ میاں منظور نے رخصت ہوتے وقت ہمیں شہد کا تحفہ دیا۔ یہ تحفہ اپنی جگہ قیمتی تھا، لیکن اس کے ساتھ جڑی محبت اور خلوص کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ تھی۔
واپسی کے سفر میں صبح کی منسوخ شدہ ٹرین یاد آئی تو بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔ جس دن کا آغاز ایک رکاوٹ سے ہوا تھا، وہ دن کتنے مختلف تجربات، کتنی معلومات اورخوش گوار یادیں سمیٹ کر اختتام کو پہنچ رہا تھا۔اس سفر نے ایک بار پھر احساس دلایا کہ آسٹریلیا کا بش فارم تفریح کی جگہ ہی نہیں۔ یہ قدرت، زراعت، ماحولیات، جنگلی حیات اور دیہی خود کفالت کا ایسا امتزاج ہے جہاں انسان زمین کے ساتھ اپنے تعلق کو نئے سرے سے سمجھ سکتا ہے۔ یہاں درختوں کی خاموشی میں سکون ہے، پانی کے ذخائر میں مستقبل کی ضرورتوں کا شعور، شہد کی مکھیوں میں محنت اور نظم کی مثال، اور ایک پاکستانی میزبان کی محبت میں وطن کی خوشبو۔
ہم اپنے ساتھ شہد کا تحفہ ضرور لے کر لوٹے، لیکن اصل حاصل وہ چند گھنٹے تھے جو شہر کی تیز رفتار زندگی سے دور، فطرت کے قریب گزارے گئے۔ ایسے لمحات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کی خوب صورتی صرف بڑی کامیابیوں، مصروف معمولات اور بلند عمارتوں میں نہیں، ان چھوٹے تجربات میں بھی پوشیدہ ہے جو دل کو سکون، ذہن کو تازگی اور نگاہ کو نیا زاویہ عطا کرتے ہیں۔اس روز ہمیں آسٹریلیا کے ایک بش فارم میں قدرت کی وسعت بھی ملی، شہد کی مٹھاس بھی اور میاں منظور جیسے محبت کرنے والے میزبان کی رفاقت بھی۔ ٹرین نے ہمارا انتظار نہیں کیا تھا، مگر اس سفر نے ہمیں ایسی یادیں ضرور دے دیں جن کا لطف مدتوں باقی رہے گا۔
-
برطانیہ اور یورپ8 مہینے agoاو پی ایف چیئرمین سید قمر رضا کے اعزاز میں پرتکلف افطار ڈنر، اوورسیز کمیونٹی کو اتحاد کا پیغام
-
پاکستان8 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان10 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان1 سال agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو1 سال agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان9 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان

