Connect with us

تازہ ترین

ویسٹ منسٹر کے ایوانوں میں اترتی بغاوت

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

لندن کی سرد شام میں ویسٹ منسٹر کی عمارت غیرمعمولی خاموشی اوڑھے کھڑی ہے۔ راہداریوں میں قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے مگر گفتگو دبے لہجوں میں ہورہی ہے۔ حکمران جماعت لیبر پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے۔

7 مئی کے بلدیاتی انتخابات میں واضح ناکامی کے بعد وزیراعظم کئیر اسٹارمر کی قیادت پر سوالات شدت اختیار کررہے ہیں۔ ایک ایک کرکے ساتھی دور ہورہے ہیں، استعفوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اور اقتدار کی دیواروں میں باریک دراڑیں واضح ہونے لگی ہیں۔

57 اراکینِ پارلیمان کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ معمولی بات نہیں۔ تین اراکین اپنی نشستیں چھوڑ چکے ہیں، جب کہ کئی اہم شخصیات کھل کر قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہیں۔ نوشابہ خان کابینہ آفس کی پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیتی ہیں تو ان کے الفاظ صرف ذاتی فیصلے کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ پارٹی کے اندر پھیلتی ہوئی بے یقینی کو بھی آشکار کرتے ہیں۔

وزیرِ صحت کے پارلیمانی معاون جوئے مورس بھی الگ راستہ اختیار کرتے ہیں اور نئی قیادت کے لیے “واضح ٹائم ٹیبل” کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک سیاسی طوفان کی ابتدائی گرج محسوس ہوتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس شکست کا سارا بوجھ صرف وزیراعظم کے کندھوں پر ڈال دینا انصاف ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے مقامی انتخابات، 7 مئی — ایک خاموش سیاسی زلزلہ

جمہوری سیاست میں لیڈر یقیناً جماعت کا چہرہ ہوتا ہے، مگر چہرہ اکیلا جنگ نہیں جیتتا۔ انتخابی حکمتِ عملی کون بناتا ہے؟ منشور کون ترتیب دیتا ہے؟ عوامی مہم کون چلاتا ہے؟ مقامی سطح پر کارکنوں کو متحرک کون کرتا ہے؟ یہ سب اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر بلدیاتی انتخابات میں عوام نے لیبر پارٹی کو مسترد کیا ہے تو یہ صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ پوری جماعت کی ناکامی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ لیبر پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد عوامی توقعات پر پوری طرح قابو نہیں پاسکی۔ مہنگائی، توانائی بحران، عوامی خدمات کی کمزوری اور متوسطاقتدار کی دیواروں میں دراڑیں

لندن کی سرد شام میں ویسٹ منسٹر کی عمارت غیرمعمولی خاموشی اوڑھے کھڑی ہے۔ راہداریوں میں قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے مگر گفتگو دبے لہجوں میں ہورہی ہے۔ حکمران جماعت لیبر پارٹی کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے بعد وزیراعظم Keir Starmer کی قیادت پر سوالات شدت اختیار کررہے ہیں۔

ایک ایک کرکے ساتھی دور ہورہے ہیں، استعفوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اور اقتدار کی دیواروں میں باریک دراڑیں واضح ہونے لگی ہیں۔

57 اراکینِ پارلیمان کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ معمولی بات نہیں۔ تین اراکین اپنی نشستیں چھوڑ چکے ہیں، جب کہ کئی اہم شخصیات کھل کر قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کررہی ہیں۔ نوشابہ خان کابینہ آفس کی پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیتی ہیں تو ان کے الفاظ صرف ذاتی فیصلے کی وضاحت نہیں کرتے بلکہ پارٹی کے اندر پھیلتی ہوئی بے یقینی کو بھی آشکار کرتے ہیں۔

وزیرِ صحت کے پارلیمانی معاون جوئے مورس بھی الگ راستہ اختیار کرتے ہیں اور نئی قیادت کے لیے “واضح ٹائم ٹیبل” کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک سیاسی طوفان کی ابتدائی گرج محسوس ہوتی ہے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس شکست کا سارا بوجھ صرف وزیراعظم کے کندھوں پر ڈال دینا انصاف ہوگا؟

جمہوری سیاست میں لیڈر یقیناً جماعت کا چہرہ ہوتا ہے، مگر چہرہ اکیلا جنگ نہیں جیتتا۔ انتخابی حکمتِ عملی کون بناتا ہے؟ منشور کون ترتیب دیتا ہے؟ عوامی مہم کون چلاتا ہے؟ مقامی سطح پر کارکنوں کو متحرک کون کرتا ہے؟ یہ سب اجتماعی فیصلے ہوتے ہیں۔ اگر بلدیاتی انتخابات میں عوام نے لیبر پارٹی کو مسترد کیا ہے تو یہ صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ پوری جماعت کی ناکامی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مقامی بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو بڑا دھچکا، ریفارم یو کے کی حیران کن کامیابی، وزیراعظم اسٹارمر کے مستقبل پر سوالات

حقیقت یہ ہے کہ لیبر پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد عوامی توقعات پر پوری طرح قابو نہیں پاسکی۔ مہنگائی، توانائی بحران، عوامی خدمات کی کمزوری اور متوسط طبقے کی بے چینی مسلسل بڑھتی رہی۔ عوام نے تبدیلی کے خواب دیکھے تھے مگر انہیں وہ رفتار محسوس نہیں ہوئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹر نے خاموش غصے کا اظہار بیلٹ بکس کے ذریعے کردیا۔

اب پارٹی کے اندر وہ اراکین بھی بولنے لگے ہیں جو کل تک خاموش تھے۔ برطانوی سیاست میں اقتدار ہمیشہ وفاداری پیدا کرتا ہے، مگر کمزوری سامنے آئے تو یہی وفادار سب سے پہلے فاصلہ بناتے ہیں۔ آج لیبر پارٹی اسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ کچھ رہنما اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کے لیے قیادت سے دور ہورہے ہیں، کچھ واقعی سمجھتے ہیں کہ پارٹی نئی توانائی کے بغیر اگلا عام انتخاب نہیں جیت سکتی، اور کچھ صرف سیاسی ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں۔

مگر —- سوال پھر وہی کھڑا ہوتا ہے: اگر ناکامی اجتماعی ہے تو کیا استعفے بھی اجتماعی نہیں ہونے چاہئیں؟
اگر وزیراعظم ذمہ دار ہیں تو انتخابی مہم کے نگران بھی ذمہ دار ہیں۔ اگر قیادت ناکام ہوئی ہے تو کابینہ بھی اس ناکامی میں شریک ہے۔ اگر عوام ناراض ہیں تو صرف ایک شخص سے نہیں بلکہ پورے حکومتی نظام سے ناراض ہیں۔ ایسے میں صرف وزیراعظم کو قربانی کا بکرا بنانا سیاسی اخلاقیات کا مکمل تقاضا نہیں بنتا۔

لندن کی سیاسی فضا اس وقت کسی ٹوٹتے ہوئے محل کا منظر پیش کررہی ہے۔ باہر سے عمارت اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے مگر اندر ستون ہلنے لگے ہیں۔ پارٹی اجلاسوں میں چہروں پر مصنوعی اطمینان ہے مگر آنکھوں میں خوف تیر رہا ہے۔ ہر شخص اگلے دن کی سرخیوں سے ڈر رہا ہے۔ ہر راہداری میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہے:

“کیا وزیراعظم اپنی مدت پوری کرپائیں گے؟”
یہ سوال اب صرف ایک فرد کی سیاسی بقا کا نہیں رہا، بلکہ برطانیہ کی حکمران جماعت کے مستقبل، اس کی ساکھ، اور اس کے اندرونی اتحاد کا امتحان بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دل کے شہر میں اترتی روشنی

عوسم کی بے چینی مسلسل بڑھتی رہی رہی ہے۔ انہوں نے تبدیلی کے خواب دیکھے تھے مگر انہیں وہ رفتار محسوس نہیں ہوئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹر نے خاموش غصے کا اظہار بیلٹ بکس کے ذریعے کردیا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اب پارٹی کے اندر وہ لوگ بھی بولنے لگے ہیں جو کل تک خاموش تھے اور اقتدار اور سہولیات کے مزے لوٹتے رہے ہیں-

سیاست میں اقتدار ہمیشہ وفاداری پیدا کرتا ہے، مگر کمزوری سامنے آئے تو یہی وفادار سب سے پہلے فاصلہ بناتے ہیں۔ آج لیبر پارٹی اسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ کچھ رہنما اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کے لیے قیادت سے دور ہورہے ہیں، کچھ واقعی سمجھتے ہیں کہ پارٹی نئی توانائی کے بغیر اگلا عام انتخاب نہیں جیت سکتی، اور کچھ صرف سیاسی ہوا کا رخ دیکھ رہے ہیں۔

مگر سوال پھر وہی کھڑا ہوتا ہے: اگر ناکامی اجتماعی ہے تو کیا استعفے بھی اجتماعی نہیں ہونے چاہئیں؟

اگر وزیراعظم ذمہ دار ہیں تو انتخابی مہم کے نگران بھی ذمہ دار ہیں۔ اگر قیادت ناکام ہوئی ہے تو کابینہ بھی اس ناکامی میں شریک ہے۔ اگر عوام ناراض ہیں تو صرف ایک شخص سے نہیں بلکہ پورے حکومتی نظام سے ناراض ہیں۔ ایسے میں صرف وزیراعظم کو قربانی کا بکرا بنانا سیاسی اخلاقیات کا مکمل تقاضا نہیں بنتا۔

لندن کی سیاسی فضا اس وقت کسی ٹوٹتے ہوئے محل کا منظر پیش کررہی ہے۔ باہر سے عمارت اب بھی مضبوط دکھائی دیتی ہے مگر اندر ستون ہلنے لگے ہیں۔ پارٹی اجلاسوں میں چہروں پر مصنوعی اطمینان ہے مگر آنکھوں میں خوف تیر رہا ہے۔ ہر شخص اگلے دن کی سرخیوں سے ڈر رہا ہے۔ ہر راہداری میں ایک ہی سوال گردش کررہا ہے:

“کیا وزیراعظم اپنی مدت پوری کرپائیں گے؟”

یہ سوال اب صرف ایک فرد کی سیاسی بقا کا نہیں رہا، بلکہ برطانیہ کی حکمران جماعت کے مستقبل، اس کی ساکھ، اور اس کے اندرونی اتحاد کا امتحان بن چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

DD PID Peshawar Visited Peshawar Press Club DD PID Peshawar Visited Peshawar Press Club
پاکستان13 گھنٹے ago

ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی پشاور رومانہ اسد خان کا پریس کلب پشاور کا دورہ

​پشاور(صدائے سچ نیوز) پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور کی ڈپٹی ڈائریکٹر رومانہ اسد خان نے پی آئی ڈی وفد کے ہمراہ...

Syed Waji Ul Hassan Shah Syed Waji Ul Hassan Shah
پاکستان14 گھنٹے ago

اخلاقیات کا فقدان کیوں؟

تحریر: وجیہہ کاظمی پاکستان کا قیام ایک ایسے تصور کے تحت عمل میں آیا تھا جہاں ہر انسان کو دین،...

gold gold
پاکستان15 گھنٹے ago

عالمی و مقامی منڈیوں میں سونے کی قیمت میں آج بھی کمی

عالمی و مقامی منڈیوں میں سونا آج پھر سستا ہوگیا۔ آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کےمطابق ملک بھر میں 24...

Yemen Yemen
تازہ ترین15 گھنٹے ago

یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا

صنعاء (صداۓ سچ نیوز) یمنی سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں نے کہا ہے کہ حوثی کی مسلسل کارروائیوں اور سنگین...

Ship Ship
تازہ ترین15 گھنٹے ago

صومالیہ کی پنٹ لینڈ فورس نے بحری قزاقوں سے جہاز بازیاب کرا لیا، تین پاکستانیوں سمیت 5 افراد جاں بحق

صومالیہ کی پنٹ لینڈ سیکیورٹی فورس نے  کارروائی کے دوران قزاقوں کے قبضہ سے ہائی جیک کیئے گئے بحری جہاز...

iranus iranus
تازہ ترین16 گھنٹے ago

ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکی عوام کو خط، خودکو اسرائیل سے الگ کرنےکی اپیل

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی عوام کے نام خط میں...

Petrol Petrol
پاکستان2 دن ago

پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) وفاقی حکومت نے اگلے ایک روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل...

Govt of Pakistan & Asian Development Bank Govt of Pakistan & Asian Development Bank
پاکستان2 دن ago

حکومت کا پنشن اصلاحات کیلیے ایشیائی بینک سے 50 کروڑ ڈالر قرض لینے کا منصوبہ

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) حکومت کا پنشن اصلاحات کیلیے مزید 50 کروڑ ڈالر قرض لینے کا پلان ہے، اس...

IIUI Lecture on Public Policy IIUI Lecture on Public Policy
پاکستان2 دن ago

مؤثر عالمی کردار کے لیے پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی قانون کی تفہیم ناگزیر ہے، احمر بلال صوفی

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) پاکستان کی آئینی شناخت، بین الاقوامی قانون سے وابستگی اور عالمی سطح پر اس کی...

Gold Prices Update Gold Prices Update
پاکستان2 دن ago

پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں بڑی گراوٹ آگئی

کراچی (صدائے سچ نیوز) امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات پر سونے کی قیمت  میں مزید کمی آگئی۔ آل...

Trending