تازہ ترین
میلبورن میں محبت کا ذائقہ، چنیوٹی کنہ
تحریر: نثار حسین
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السّلام کا حکمت بھرا فرمان ہے "کھانے کیلئے زندہ نہیں بس زندہ رہنے کے لیے کھانا چاہیے”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو صرف معدے کی نہیں، انسان کے نفس کی تربیت بھی کرتا ہے۔ اگر آدمی واقعی اس فلسفے کو سمجھ لے تو شاید دنیا کی آدھی بے چینی ختم ہو جائے۔ کیونکہ بھوک اکثر پیٹ سے زیادہ خواہشات کی ہوتی ہے۔ انسان روٹی کم اور ذائقے زیادہ کھاتا ہے ۔
دنیا بھر کے کھانوں کی اپنی اپنی شناخت ہے۔ چائنیز کی خوشبو، عربی مصالحوں کی لطافت، لبنانی ذائقوں کی نفاست، پاکستانی دیسی کھانوں کی دھواں دار تاثیر۔ لیکن بعض علاقائی کھانے اپنے مزاج اور روایت کی وجہ سے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ چنیوٹی“کنہ” بھی ان میں شامل ہے۔
“کنہ” دراصل اس مٹی کے برتن کو کہتے ہیں جس میں یہ سالن پکایا جاتا ہے۔ آہستہ آنچ، دیسی گھی، دہی، ادرک، لہسن، گرم مصالحہ، مٹن اور ساعتوں پر محیط انتظار یہ وہ عناصر ہیں جو اس سالن کو خصوصی خوراک نہیں ایک تجربہ بنا دیتے ہیں جو زبان سے زیادہ یادداشت میں محفوظ رہتا ہے۔

کچھ کھانے تہذیب کا حصہ، یادوں کا محور اور محبت کی زبان بن جاتے ہیں۔ ایسے کھانوں میں ایک نام چنیوٹی “کنہ” کا بھی ہے۔
میلبورن کی سرد شام میں یہ چنیوٹی کنہ محبتوں کی خوشبو لیے یادگار محفل کا مرکز بنا۔ بظاہر یہ “کنہ پارٹی” تھی، مگر حقیقت میں یہ دلوں کے ملاپ کی خوبصورت روایت تھی، جہاں سالن سے زیادہ تعلقات دم پر لگے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن، پاکستانی آموں کی آمد اور نقاب کشائی
اس شب کا اہتمام ڈاکٹر ماجد گوندل نے کیا تھا، جو میلبورن میں پاکستان کی شناخت ہیں کسی پروٹوکول کے بغیر آسٹریلوی معاشرے کی یہ خوبصورتی دل کو چھوتی ہے کہ کوئی بڑا نہ چھوٹا۔ سب ایک قطار میں،خصوصی کرسی، نہ کسی کے لیے الگ پلیٹ۔
کنہ تیار کیا تھا حاجی جاوید اقبال نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ ریٹائر نہیں ہوئے ان کی مصروفیات دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے وقت نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑ رکھے ہوں۔ وہ مسکراتے ہوئے بتا رہے تھے کہ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک کنہ کی تیاری میں مصروف رہے۔ اور واقعی جب دیگ کھلی تو خوشبو نے اعلان کر دیا کہ آج رات صرف کھانا نہیں، ذائقے کی تاریخ پیش ہونے والی ہے۔
پھر جو منظر بنا وہ اپنی مثال آپ تھا۔ بڑے بڑے پیالے، لمبی قطار، قہقہے، آوازیں، ہنسی مذاق اور حاجی صاحب خود اپنے ہاتھوں سے سب کو کنہ بانٹتے جا رہے تھے۔
یہ کوئی فائیو اسٹار ضیافت نہیں تھی، مگر شاید اسی لیے یادگار تھی۔ کیونکہ یہاں تکلف کم اور خلوص زیادہ تھا۔ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر، انجینیئر، کمیونٹی رہنما، ادیب، موسیقی کے شوقین سب ایک ہی دسترخوان پر۔

کسی نے ہنستے ہوئے کہا:
“آج اگر کسی کی طبیعت خراب ہوگئی تو ایمبولینس بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، دل کے ڈاکٹر بھی موجود ہیں اور جنرل پریکٹیشنر بھی!”
یہ بھی پڑھیں: سانحۂ ترلائی: سجدوں میں بجھے چراغ اور سو گھروں کا اندھیرا
پروفیسر ڈاکٹر اسرار الحق جیسے ماہرِ امراضِ قلب بھی موجود تھے خاموش مگر گہرے ہم وطنوں کے لیے دریا دل، ڈاکٹر محمد یوسف ہارون بھی، جو آسٹریلیا میں اسلامی ڈاکٹروں کی قیادت کرتے ہیں، ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر، ڈاکٹر شہزاد، ڈاکٹر بلال ،فہیم اعوان مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ وہاں کسی کے نام کے ساتھ عہدہ نہیں بیٹھا تھا۔ سب صرف دوست اور صرف انسان تھے۔
کھانے کے بعد موسیقی کی ہلکی پھلکی محفل بھی سج گئی۔ مبشر حسین، انجینیئر یامین، ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر اور دیگر احباب نے اپنے فن کا رنگ بکھیر دیا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے پردیس میں بیٹھے لوگ چند گھنٹوں کے لیے میلبورن سے نکل کر پاکستان کی کسی پرانی گلی میں جا پہنچے ہوں، جہاں دوستیاں ابھی تک زندہ ہیں۔
باہر سرد ہوا چل رہی تھی اور اندر ھال میں گرم قہقے، لوگ مل رہے تھے، پرانی باتیں دہرا رہے تھے۔
پردیس میں ایسی محفلیں صرف تفریح نہیں جذبات ہوتے ہیں۔ یہ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ ہزاروں میل دور ہو کر بھی اپنی مٹی سے کٹا نہیں۔ ویسے بھی کھانے کی اصل خوبصورتی اس کے ذائقے میں کم اور اس نیت میں زیادہ ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ پیش کیا جائے۔
سوکھی روٹی بھی محبت سے ملے تو نعمت لگتی ہے، اور تکلف سے سجی میز بھی بعض اوقات خالی محسوس ہوتی ہے۔
حضرت علیؑ کے فرمان کی طرف واپس آئیں تو شاید اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کھانا انسان کے اندر شکر پیدا کرے، غرور نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا سے سبق: قانون نہیں، رویہ بدلتا ہے معاشرہ
پیٹ بھرنے سے زیادہ ضروری دل بھرنا ہے۔
اور اُس رات میلبورن میں صرف پیالے نہیں بھرے جا رہے تھے، دل بھی بھر رہے تھے۔
اختتام پر حسبِ روایت ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر نے فیض احمد فیض کی غزل کے اشعار چھیڑ دیے:
"گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے”
اور واقعی…
اس رات کنہ کی دیگ سے اٹھنے والی خوشبو میں صرف مصالحے نہیں تھے، محبت بھی شامل تھی۔
ایسی محبت جو پردیس میں بیٹھے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہے، اور یہ احساس دلاتی ہے کہ انسان آخرکار کھانے سے نہیں، تعلق سے زندہ رہتا ہے۔
-
پاکستان2 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان3 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان5 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان8 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
پاکستان2 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
ایکسکلوسِو7 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان2 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

