تازہ ترین
واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!
ایک تحقیقی جائزہ-سلسلہ نمبر 3
تحریر: سید ارشد علی نقوی
یزید نے حکومت سنبھالتے ہی مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام، عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر سے بیعت لے، خاص طور پر امام حسین علیہ السلام سے بیعت لینے پر خصوصی زور دیا۔
امام حسین علیہ السلام نے بیعت سے اصولی طور پر انکار کر دیا اور فرمایا کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔
عبداللہ بن زبیر راتوں رات مدینہ سے نکل گئے انہوں بھی بیعت نہیں کی اور بعد ازاں یزید کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
عبداللہ بن عمر نے بیعت کر لی تھی۔ اور عبداللہ بن عباس نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی تاہم بعد میں انہوں نے یزید کے اقدامات پر تنقید کی اور کربلا کے واقعے کے بعد سخت موقف اختیار کیا۔
اس عمومی تبصرے کے بعد اب مذکورہ بالا منظر کو تحقیقی نظر سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب یزید نے عنان حکومت سنبھالی تو اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا جس نے اسلامی معاشرے میں حکومت کے انداز کی اسلامی طرز کا خاتمہ کر کے شہنشاہیت اور موروثی بادشاہت کے لئے بنائے گئے نظام کی ابتدا کی، حالانکہ اس استبدادی نظام کے لیے اہل حل و عقد کی عمومی و رسمی رضامندی بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔
تخت نشینی کے بعد یزید نے سب سے پہلے ان اہم شخصیات سے بیعت لینے کا فیصلہ کیا جنہوں نے قبل از حکومت اس کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ ان میں خاص طور پر حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام کے علاؤہ عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عمر اور مدینہ کے دیگر سرکردہ افراد بھی شامل تھے۔
واقعہ کربلا کے تاریخی اسباب اور شہدائے کربلا!سلسلہ اول
البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر اور تاریخ طبری وغیرہ کے مطابق یزید نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کے نام خط میں ایک سخت حکم دیتے ہوئے لکھا:
"جب میرا خط تمہیں ملے تو حسین بن علی اور عبداللہ بن زبیر کو طلب کرو اور اُن سے میری بیعت لو۔ اگر وہ بیعت نہ کریں تو ان کی گردنیں کاٹ دو اور ان کے سر میرے پاس بھیج دو اور عوام الناس سے بھی بیعت لو اور جو بھی منع کرے اس کے ساتھ یہی کرو۔”
یہ خط امام حسین علیہ السلام اور ابن زبیر کے لیے موت کا پروانہ تھا اور یہیں سے وہ سلسلہ شروع ہوا جو کربلا کے المیے پر منتج ہوا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام رسولِ خدا صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ، خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور امام المتقین مولا علی علیہ السلام کے فرزند اور وارث ہونے کے ناطے دین اسلام کی حقانیت کو محفوظ رکھنے کے ذمہ دار تھے لہٰذا ان کا ہر عمل اسلامی شریعت کا نمائندہ تھا اور یہ سنت الٰہی ہے کہ ہر دور میں آسمانی تعلیمات کے ایک محافظ کا وجود ضروری ہے جو اپنے کردار و عمل سے عالم بشریت پر اتمام حجت کر سکے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔ آپ علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے اس لیے انکار کیا کہ یزید کا کردار اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف تھا۔ آپ علیہ السلام نے گورنر مدینہ سے فرمایا:
"اے امیر ہم اہل بیت نبوت ، رسالت کی کان اور آسمانی فرشتوں کی آمد و رفت کا محور ہیں جب کہ یزید ایک فاسق و فاجر ، شراب کا رسیا اور ایسے نفوس کا قاتل ہے جن کا قتل کرنا حرام ہے ، مجھ جیسا اس جیسے (فاسق، شرابی اور بے گناہوں کا قاتل) کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
آپ علیہ السلام کا انکار صرف ذاتی نہیں بلکہ رسول اسلام کے آفاقی اور اصولی دین کی تعلیمات کے مطابق تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنے اس موقف سے امت کو بتایا کہ کسی شرابی، قاتل یا فاسق و فاجر کی بیعت و اطاعت کرنا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں، خواہ وہ کسی بھی مرتبے پر فائز ہو۔
دوسرا عمومی سبب یہ تھا کہ یزید نے کھلم کھلا اسلامی اصولوں کی پامالی کی، شراب نوشی کی اور حدود اللہ کو توڑا۔ ایک طرف رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے تھے اور دوسری طرف ایک شرابی، جو اپنے ہی باپ کے دور میں بدکاریوں میں مشہور ہو چکا تھا۔ ایسے شخص کی بیعت کرنا دین کی توہین کے مترادف تھا۔ اس لیے امام حسینؑ نے فوراً جواب دے دیا: "مثلی لا یبایع مثله”۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جب یزید کا خط مدینہ پہنچا تو والی ولید بن عتبہ نے اسی رات امام حسین علیہ السلام کو دارالامارہ طلب کیا تو امام علیہ السلام تنہا نہیں بلکہ اپنے وفادار عزیزوں کے ہمراہ آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی بصیرت اور رسول اسلام کے دیئے گئے علم کے سبب ان امور سے پہلے ہی آگاہ تھے کہ وہ ان سے کیا چاہتا ہے؟ اس لیے آپ نے اپنے چند معتمد افراد کو ہتھیار بند ہو کر ساتھ لیا اور حکم دیا کہ وہ دروازے پر کھڑے رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دعائے عرفہ: سید الشہداء امام حسینؑ کے عطا کردہ دعائیہ ادب کا شاہکار
جب آپ اندر تشریف لے گئے تو وہاں مروان بن حکم بھی موجود تھا جس کا شمار رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد کے بدترین دشمنوں میں ہوتا تھا
شیخ مفید کی کتاب الارشاد کے مطابق ولید نے امیر شام کی موت کی اطلاع دی، جس پر امام علیہ السلام نے "إنا للہ وإنا إلیہ راجعون” کہا۔
پھر ولید نے یزید کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اب بیعت کا وقت آگیا ہے۔
اس پر امام حسین علیہ السلام نے نہایت تحمل اور حکمت سے کام لیا اور جواب دیا:
"میں نہیں سمجھتا کہ تم خفیہ بیعت پر راضی ہوگے، اگر تم واقعی میری بیعت چاہتے ہو تو اسے صبح لوگوں کی آمد تک موخر کرو سب کے سامنے بات ہوگی ۔”
یہ ایک ایسی روش تھی جس سے ولید کو براہِ راست کوئی عتراض نہ تھا۔ پس ولید نے کہا: "ٹھیک ہے، یہ بہتر ہے”
اس پر مروان بن حکم نے سخت برتاؤ کا تحکمانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا "اے ولید اگر تو نے اس سے ابھی بیعت نہ لی اور اسے جانے دیا، تو پھر کبھی تجھے اس پر قدرت حاصل نہ ہوگی۔ اسے قید کر یا قتل کر ڈال!”
یہ سن کر امام حسین علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور غضبناک لہجے میں مروان سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"اے نیلی آنکھوں والی عورت کے بیٹے! کیا تو مجھے قتل کرے گا یا یہ ؟ اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔”
اس کے بعد آپ نے فوراً وہاں سے نکل کر اپنے گھر تشریف لے گئے
دوسری جانب عبداللہ بن عمر نے یزید کی بیعت کر لی۔ انہوں نے بعد میں کہا: "میں نے یزید کی بیعت اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔” اگرچہ وہ خود بھی یزید کے طریقوں سے مطمئن نہ ہوں۔
تیسری جانب عبداللہ بن زبیر مدینہ سے نکل گئے بعد میں انہوں نے نہ صرف بیعت سے انکار کیا بلکہ علانیہ مزاحمت کا اعلان بھی کیا اور مکہ میں پناہ لی، آخر کار یزید نے ان کے خلاف لشکر کشی کی ۔
رہے عبداللہ بن عباس تو انہوں نے پہلے تو تحفظ کا اظہار کیا لیکن واقعہ کربلا کے بعد یزید کے خلاف کھل کر موقف اختیار کیا اور لوگوں کو اس کی بیعت توڑنے کی ترغیب دی۔
اس طرح ان شخصیات کے موقف میں واضح فرق تھا: کوئی سیاسی مصلحت سے بیعت کر گیا، کوئی مزاحمت پر اڑا رہا اور کوئی خاموش رہا۔ لیکن امام حسین علیہ السلام نے ان سب سے الگ راہ اختیار کی کیوں کہ آپ علیہ السلام کی روش اسلام کی روش تھی ، آپ علیہ السلام کا موقف اسلام کا موقف تھا۔
امام حسین علیہ السلام نے ولید سے ملاقات کے بعد اپنے خاندان اور چند
قریبی ساتھیوں کو جمع کیا اور بتایا کہ گورنر مدینہ نے آپ سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا ہے اور آپ نے انکار کر دیا ہے نیز آپ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ اگلی صبح تک وہ یزید کے ایجنٹوں کے ہاتھوں شہید ہو سکتے ہیں۔
اسی رات آپ نے اپنے تمام اہل خانہ اور ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ فوری طور پر مدینہ چھوڑنے کی تیاری کریں کہ کسی وقت بھی رخت سفر باندھا جا سکتا ہے چنانچہ آپ علیہ السلام ، آپ کے تمام اہل خانہ اور ہم فکر ساتھیوں نے خاموشی سے مدینہ خالی کر دیا اور مکہ کی طرف کوچ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام: وفا، شجاعت اور قربانی کی داستان
دیکھا جائے تو یہ آپ کی ایک بہترین حکمت عملی تھی کہ آپ نے خفیہ طور پر مدینہ چھوڑ دیا تاکہ شہر میں کوئی فتنہ کھڑا نہ ہو اور آپ کے مخالفین کو براہِ راست کارروائی کا موقع نہ ملے۔
یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے مدینہ چھوڑ کر مکہ پہنچنے کے بعد یزید نے ولید بن عقبہ کو گورنری سے معزول کر دیا۔ ایسا کیوں ہوا ؟
واضح ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا مدینہ میں رہنا اور مدینہ میں قتل کیا جانا کسی طور بھی حکومت کے حق میں نہ تھا پس ولید بن عقبہ کو جو مہم جوئی کی عاری،مفاد پرست اور سست رو انسان تھا گورنری پر برقرار رکھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ ان کا قتل مدینہ میں بغاوت کا سبب بن سکتا ہے اس کے ساتھ مروان کے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے امام و قتل کرنے کے مشورے کے ذریعے مرکزی پالیسی کا اظہار بھی کر دیا گیا۔
امام علیہ السلام کے مکہ پہنچنے کے بعد حکومت کے لئے اہل مدینہ کو فرزند رسول کی مدد کرنے اور ان کے قافلے میں شامل سے روکنا ضروری تھا کہ ابتدا سے ہی قافلہ حق کو تنہا رکھا جا سکے اور اسی پالیسی کو کوفہ میں بھی دہرایا گیا
پس امام حسین علیہ السلام کے جانے کے بعد ولید کو معزول کر کے اس کی جگہ عمرو بن سعید اشدق کو مقرر کر دیا گیا جو اپنی سفاکی اور بےرحمی کے لیے مشہور تھا۔
عمرو بن سعید نے آتے ہی سخت ترین زبان استعمال کی اور لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ڈانتے ہوئے کہا:
"تم لوگوں نے عثمان کو قتل کر کے بڑی گستاخی کی ہے۔ اب تم پر ایک ایسا امیر مسلط ہے جس کی ہڈیاں مضبوط ہیں، وہ نہ کسی صحرا سے ڈرتا ہے نہ چھڑی کی جھنکار سے!”
ولید کا معاملہ عوام کے لئے اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اموی حکومت اپنے مخالفین سے کس قسم کی سختی کا مظاہرہ کرتی تھی حتیٰ کہ عوام کی نظروں میں اعتدال پسند افسروں کو بھی نہیں بخشتی تھی۔
فرزند رسول امام حسین علیہ السلام 28 رجب سن 60 ہجری (تقریباً 29 دسمبر 79 عیسوی) کو اپنے اہل خانہ اور ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور تین دن بعد 3 شعبان کو مکہ پہنچے۔
(حوالہ جات)
تاریخ طبری, ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ، شیخ مفید، الارشاد ، ذہبی، تاریخ الاسلام ، سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، البلاذری، انساب الاشراف ، الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

