Connect with us

تازہ ترین

حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام: وفا، شجاعت اور قربانی کی داستان

Syed Arshad Ali Naqvi

تحریر: سید ارشد علی نقوی

خاندانی پس منظر

حضرت مسلم بن عقیل بن ابی طالب کا خاندانی پس منظر کچھ یوں ہے کہ آپ ہاشمی النسب تھے جن کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تھا۔ آپ کے والد جناب عقیل بن ابی طالب، مولا علی علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے،
آپ کی والدہ ماجدہ کا نام عالیہ یا حلیہ بیان کیا جاتا ہے۔

حضرت رسول اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے واقعہ کربلا کے بارے میں جو حقائق بیان فرمائے تھے ان میں ایک پیش گوئی یہ بھی تھی کہ عقیل کے بیٹے مسلم، میرے حسین علیہ السلام کی خاطر شہید ہوں گے۔ آپ کی شادی حضرت مولا علی علیہ السلام کی صاحبزادی جناب رقیہ سے ہوئی، جس کے نتیجے میں اہل بیت رسول اللہ سے آپ کی قربت مزید مستحکم ہوگئی۔
جنگ صفین میں آپ نے سرداران جنت امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے ہمراہ امیر المؤمنین کے لشکر میں بہادری کے جوہر دکھائے اور لشکر کے دستے کی قیادت کی۔

ان تمام خوبیوں کے ساتھ ساتھ آپ نہایت زاہد عابد انسان تھے اور مسجد کوفہ میں نماز کی امامت کرواتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق، ایک مرتبہ جب آپ نے نماز مغرب پڑھائی تو 30 ہزار افراد نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ عبادت کی پابندی، امانتداری اور وفاداری آپ کے کردار کی نمایاں خصوصیات تھیں۔

بہادری کے بے مثال کارناموں میں ایک ناقابلِ فراموش واقعہ یوں ہے کہ جب کوفہ کے حاکم عبیداللہ بن زیاد نے آپ کا محاصرہ کر لیا تو آپ نے تن تنہا 500 مسلح سپاہیوں کا مقابلہ کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق آپ کی شجاعت نے ان کے پاؤں اکھاڑ دیے اور شامی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ آخر کار دشمن نے فریب سے گڑھا کھود کر اسے پتوں سے ڈھانپ دیا، جس میں آپ گر پڑے اور گرفتار ہو گئے۔

امام حسین علیہ السلام نے آپ کو کوفہ میں خصوصی مشن کے لئے متعین فرمایا ۔جب امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کے بعد کوفہ کی طرف سے ملنے والے خطوط پر اتمام حجت کے لئے آپ کو بھیجا۔ آپ نے کوفہ پہنچ کر خطوط کی تصدیق کی اور 18 ہزار افراد سے بیعت لی۔

امام علیہ السلام نے آپ کو "میرے بھائی، چچا کے بیٹے اور گھرانے میں قابل اعتماد” کے القاب سے نوازا۔ آپ نے کوفہ میں انقلاب کی راہ ہموار کی اور ایسی پالیسی اختیار کی کہ تخت شام کو کوفہ اپنے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا کیوں کہ کوفہ اپنی تاریخی و جغرافیائی اہمیّت کے اعتبار سے مملکت میں بہت بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا تھا لہذٰا عبیداللہ ابن زیاد جیسے سفاک اور سخت گیر شخص کو کوفہ کا حکمران مقرر کیا گیا گورنر مقرر ہوتے ہی وہ بصرہ سے کوفہ پہنچا اور کوفہ میں داخل ہونے کے لیے اس نے اپنے منہ پر نقاب ڈالا شام کے وقت شہر پہنچا۔ دارالامارہ پہنچتے ہی اس نے آپ کی گرفتاری یا قتل کے لیے منصوبہ بندی کی۔

یہ بھی پڑھیں: سفرِ کربلا کی روداد

پہلے مرحلے پر حکومتی لشکر کو منظم کرتے ہوئے تمام شہریوں کو فوج میں شامل ہونے کا حکم دیا ، فوج کو وظائف دینے اور حکم عدولی کی صورت میں سخت ترین سزا کا اعلان کیا ۔ جناب مسلم بن عقیل کی تلاش میں فوج بھیجی اور آپ کے معاون ہانی بن عروہ کو شہید کر دیا۔

ابن زیاد کے کثیر لشکر کا مردانی وار مقابلہ کرتے اور شجاعت ہاشمی کے جوہر دکھاتے ہوئے عالم مسافرت میں تنہائی کی فوج کے تنہا سردار مسلم بن عقیل 9 ذوالحجہ 60 ہجری کو گرفتار ہوئے، ابن زیاد کے سامنے اس حالت میں پیش کیے گئے کہ تمام بدن زخمی اور زخموں سے خون جاری تھا ، آپ باوقار انداز سے تسبیح پروردگار کرتے ہوئے ابن زیاد کے سامنے کھڑے تھے کہ درباری لوگوں نے ابن زیاد کو امیر تسلیم کرتے ہوئے سلام کرنے کا کہا جا کے جواب میں آپ نے اک عظیم اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "امام حسین علیہ السلام کے علاؤہ میرا کوئی امیر نہیں”

آپ کے قتل کا حکم جاری ہوا جس کے بعد آپ کو دارالامارہ کی چھت پر لے جا کر شہید کر دیا گیا۔ آپ کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اور پاؤں میں رسی باندھ کر کوفہ کے بازاروں میں گھسیٹا گیا ، اس دن آپ کی عمر کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے
آپ کا مزار اقدس مسجد کوفہ میں واقع اور عقیدت کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہاں پر یہ جاننا بھی بہت ضروری ہے کہ حضرت مسلم بن عقیل کی آمد سے قبل اور بعد میں اہل کوفہ کا کردار کیا رہا ان میں کیا تبدیلی آئی نیز ان کی مشکلات کیا تھیں اور اس تمام صورت حال میں بنو امیہ کے گورنر کا کردار کیا تھا ؟

حضرت مسلم بن عقیل کی کوفہ میں آمد سے پہلے اور بعد کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اہل کوفہ کا کردار ایک انتہائی اہم ہے اور جس قدر اہم ہے اسی قدر تاریخ کا متنازعہ ںاب بھی ہے۔ 60 ہجری میں جب یزید بن معاویہ نے خلافت سنبھالی تو کوفہ کے باسیوں نے نہ صرف یزید کی بیعت سے انکار کیا بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی اور انہیں اپنی مدد و نصرت کی یقین دہانی کرائی۔

یہ خطوط کوفہ کے اشراف اور سرکردہ افراد نے لکھے جن میں سلیمان بن صرد خزاعی، حبیب بن مظاہر اور رفاعہ بن شداد جیسے جید افراد شامل تھے، جو اہل کوفہ کے اس عزم کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے مطلوبہ رہنما کے لیے جدوجہد کے لیے تیار تھے۔

دوسری طرف شام کی حکومت یعنی بنو امیہ کی جانب سے کوفہ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے۔ اس وقت کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر نے جناب مسلم بن عقیل کی جانب سے امام حسین علیہ السلام کی بیعت لیے جانے کے معاملے میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔

سوال یہ ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے کوفہ کا گورنر ہونے کے ناطے اس نے حضرت مسلم بن عقیل کی انقلابی تحریک کو روکنے کے لئے وہ اقدام کیوں نہ اٹھائے کو اس کے بعد مقرر کیئے جانے والے گورنر نے اٹھائے ؟

اس کا ایک جواب وہی ہے جو طاغوتی نظام نے تاریخ کی بند گلی سے نکالا یعنی نعمان بن بشیر ایک کمزور اور سست انسان تھا
اگر یہ جواب درست ہے تو یہ سوال اپنے مقام پر موجود ہے کہ اس کمزور اور سست انسان کو گورنر کیوں بنایا گیا ؟

جب کہ تجزیہ و تحلیل کرنے سے دوسرا جواب سامنے آتا ہے کہ یہ سب سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور اس کے شواہد بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کوفہ میں یزید کے ہمنواؤں اور امام حسین علیہ السلام کے شیدائیوں کی تعداد کا اندازہ ہو گیا
امام حسین علیہ السلام کے جانثاروں کے گروہ میں بھی دو قسم کے افراد شامل تھے

اول وہ افراد جو امام علیہ السلام کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے پس حکومت نے انہیں شناخت کرنے کے بعد کچھ کو قتل کر دیا اور باقی ماندہ کو قید کر دیا

دوم وہ افراد جو سماجی و معاشی اعتبار سے حکومت کے ظلم و استبداد سے تنگ تھے پس وہ امام عالی مقام کی اس تحریک کو اپنے حالات سدھارنے کا موقع سمجھتے ہوئے آپ علیہ السلام کے ہمراہ تھے پس جونہی مفادات کے حصول سے نا امید ہوئے اور حکومت نے انعام و اکرام سے نوازا یہ لوگ آپ علیہ السلام سے الگ ہو گئے۔ یہ وہ پس منظر تھا جو فیصلہ کن ثابت ہوا ۔ اگر حکومت ابتدا میں حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کے ساتھ جنگ کا راستہ اختیار کرتی تو یہ نتائج کبھی حاصل نہ ہوتے۔
اس بات پر مستزاد یہ کہ ماسوائے کوفہ یا بصرہ کے مکہ ، مدینہ و حجاز سمیت کسی علاقے سے فرزند رسول علیہ السلام کی حمایت میں کوئی فرد میسر نہ تھا۔

پس اس مطلب براری کے بعد یزید نے نہایت چالاکی اور سفاکی سے کام لیتے ہوئے اسے معزول کر کے اپنے خاص معتمد عبیداللہ بن زیاد کو بصرہ سے ہٹا کر کوفہ کا نیا گورنر مقرر کر دیا۔ بنو امیہ کی شام حکومت اپنی بقا کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی مخالفت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی تھی اور یزید نے ابن زیاد جیسے بے رحم اور سخت گیر حکمران کو کوفہ بھیج کر یہ ظاہر کر دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مخالفت کو جڑ سے کچلنے کے لیے کوئی حد عبور کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

اس پس منظر میں اہل کوفہ کی حالت انتہائی دگرگوں تھی۔ ایک طرف ان کے دلوں میں حضرت علیؑ اور ان کی اولاد کی محبت اور وفاداری تھی، جس کی جڑیں شہر کی بنیاد سے وابستہ تھیں۔ دوسری طرف شام کی مسلح اور منظم فوج کی دھمکیاں، اموی گورنروں کی جانب سے قیادت کو ختم کرنے کی حکمت عملی اور معاشی لالچ نے انہیں شدید مشکلات اور ذہنی الجھن کا شکار کر دیا۔ اس دہشت کے باوجود کوفہ کے عمومی افراد اپنے کئے پر پشیمان ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور نہ ہی اپنے دل کی بات پر مکمل طور پر عمل کر سکے۔

اب دیکھتے ہیں کہ حضرت مسلم بن عقیل کی آمد سے قبل اور بعد میں اہل کوفہ کا کردار کیا تھا ؟

حضرت مسلم بن عقیل اور اہل کوفہ کی ترغیب و تحریک کو شجاعت سے مایوسی تک کا سفر کہا جا سکتا ہے
کیوں کہ حضرت مسلم بن عقیل کی کوفہ میں آمد کے بعد اہل کوفہ کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔ جب مسلم بن عقیل نے امام حسین علیہ السلام کا خط پڑھ کر سنایا تو کوفیوں نے جوش و خروش سے بیعت کی اور ان کے گرد امید کی فضا قائم ہوگئی۔ لیکن یہ عوام الجھن کا شکار تھی کہ کس طرح عمل کیا جائے۔

اہل کوفہ نے اس وقت اپنی بیعت اور حمایت کا اظہار کیا لیکن ابن زیاد کی سختی اور دھمکیوں نے ان کی ہمت کو توڑ دیا اور بہت جلد ابن زیاد نے کوفہ کی صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس نے اپنی فوجی طاقت، جاسوسی نیٹ ورک اور ذاتی دھمکیوں کا سہارا لے کر قبائلی سرداروں اور سرکردہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ دھمکیوں اور وعدوں کے ذریعے اس نے قبیلوں کے سرداروں کو مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اہل کوفہ کے پاس کوئی منظم قیادت نہ تھی۔ جب اُن کے اشراف اور سردار ان سے جدا ہوگئے تو عام آدمی تنہا رہ گیا۔ اہل کوفہ کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ابن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل کے مددگار ہانی بن عروہ کو گرفتار کر کے شہید کر دیا جس سے باقی ماندہ حمایت کا سلسلہ بھی مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔

اس طرح ہانی کی شہادت کے بعد حضرت مسلم بن عقیل تقریباً تنہا رہ گئے اور اسی تنہائی میں انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا گیا۔ ان تمام حالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کوفہ سے عاشقان رسول کربلا پہنچ کر فرزند رسول پر قربان ہو کر ابدی نجات پا گئے۔

ان کے باقی دوست قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے زندان کی نذر ہوئے باقی بچ جانے والے جاہل اور مفاد پرست اہل کوفہ کی بدقسمتی اور بنو امیہ کے گورنر کے ظلم نے ایک ایسی تاریخ رقم کر دی جس نے اسلام کو ابد تک کا ذلت کا داغ دے دیا مگر حسین مولا نے روز عاشورا اپنے مقدس خون سے اس داغ کو ایسا مٹایا کہ اب حشر تک اسلام زندہ باد رہے گا۔

زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

1 Comment

1 Comment

  1. Dr.Gohar Alvi

    مئی 22, 2026 at 5:12 شام

    ماشاءاللہ۔ بہت ہی جماع انداز میں تحریر ملی پڑھنے کو۔ برادر بزرگوار سید ارشد علی نقوی دامت برکاتہ کی تحریر و تقریر ہمیشہ دریا کو قوزہ کے سپرد کر دیتی یے۔ جزاک اللہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

ICCI President Presenting Shield to Azerbaijan ambassador ICCI President Presenting Shield to Azerbaijan ambassador
پاکستان2 گھنٹے ago

آذربائیجان پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع کا حامل ہے: سفیر

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو ٹھوس اقتصادی فوائد میں تبدیل کرنے...

Distribution of award by FGEHA to investors Distribution of award by FGEHA to investors
پاکستان3 گھنٹے ago

ہاوسنگ اتھارٹی نے کامیاب سرمایہ کاروں میں ایکسیپٹنس لیٹرز اور ایوارڈز تقسیم کر دیے، خصوصی سہولیات اور مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیرِ اہتمام کامیاب سرمایہ کاروں کے اعزاز میں ایک...

petrol-pump petrol-pump
پاکستان3 گھنٹے ago

حکومت نے پیٹرول سستا اور ڈیزل مہنگا کر دیا

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیاہے ۔ تفصیلات کے...

Baluchistan-Terror Baluchistan-Terror
پاکستان4 گھنٹے ago

فتنہ الہندوستان کی گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام، 3 دہشتگرد ہلاک

گوادر (صداۓ سچ نیوز) فتنہ الہندوستان کی گوادر میں تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بنا...

plane plane
پاکستان4 گھنٹے ago

ایران اور عراق جانے والے زائرین کے لیے اہم ہدایت، وزارتِ مذہبی امور نے سفری ایڈوائزری جاری کردی

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز ) وفاقی وزارت مذہبی امور نے ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے...

Military Force Military Force
تازہ ترین4 گھنٹے ago

حماس دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہے، اسے فوجی طاقت کے ذریعے ہی غیر مسلح کیا جاسکتا ہے، اسرائیلی انٹیلیجنس رپورٹ

تل ابیب (صداۓ سچ نیوز) اسرائیلی اخبار ہارٹز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سینیئر اسرائیلی...

pm shehbaz sharif pm shehbaz sharif
پاکستان7 گھنٹے ago

خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں کیلئے160 ارب روپے دیئےجائیں گے، وزیراعظم کی قبائلی عمائدین کو یقین دہانی

قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور قبائلی عمائدین کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور...

Drone Drone
تازہ ترین7 گھنٹے ago

سعودی اتحادی افواج نے ریاض اور مدینہ کی فضاؤں میں مزید ڈرونز تباہ کر دیے

ریاض (صداۓ سچ نیوز) سعودی اتحادی افواج نے مزید 5ڈرونز کو تباہ کر دیاہے جس کے بعد آج کے دن...

StarCharge Pakistan and PARCO Gunvor Limited Explore New Energy Opportunities to Shape the Future Mobility Ecosystem StarCharge Pakistan and PARCO Gunvor Limited Explore New Energy Opportunities to Shape the Future Mobility Ecosystem
پاکستان7 گھنٹے ago

مستقبل کے جدید موبیلیٹی ایکو سسٹم کی تشکیل، اسٹارچارج پاکستان اور پارکو گن وور لمیٹڈ کے درمیان توانائی کے شعبے میں نئے مواقع کی تلاش

لاہور(صداۓ سچ نیوز) اسٹارچارج پاکستان اور پارکو گن وور لمیٹڈ پاکستان میں مستقبل کے جدید موبیلیٹی ایکو سسٹم کی ترقی...

StarCharge Pakistan and Flow Petroleum Explore Strategic Partnership to StarCharge Pakistan and Flow Petroleum Explore Strategic Partnership to
پاکستان7 گھنٹے ago

اسٹارچارج پاکستان اور ہاسکول کا پاکستان میں ای وی چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے تعاون پر غور

لاہور (صداۓ سچ نیوز) اسٹارچارج پاکستان اور ہاسکول پیٹرولیم نے پاکستان بھر میں الیکٹرک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر کو فروغ دینے...

Trending