تازہ ترین
حضرت امام حسین علیہ السلام انسانیت کے امام
تحریر: نثار حسین
تاریخِ انسانی میں امام حسین علیہ السلام کی شخصیت ایسی ہے جو اپنے عہد کی حدود سے نکل کر زمان و مکان کی تمام قیود سے ماورا ہے۔ ان کا پیغام کسی ایک قوم، مذہب یا خطۂ زمین تک محدود نہیں پوری انسانیت کے مشترکہ شعور کا حصہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ گرامی آفاقی اور لازوال شخصیت ہے جنہوں نے حق، صداقت، عدل، آزادی اور انسانی وقار کے لیے ایسی بے مثال قربانی پیش کی کہ صدیوں بعد بھی ان کا نام ظلم و جبر کے مقابل استقامت، حریت اور سربلندی کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔
کربلا صرف تاریخ کا ایک باب نہیں انسانی ضمیر کی بیداری، ظلم کے خلاف مزاحمت اور اصولوں پر ثابت قدمی کا ابدی استعارہ ہے۔ یہ معرکہ اقتدار کے حصول کے لیے نہیں انسانی اقدار اور دینی و اخلاقی اصولوں کے تحفظ کے لیے برپا ہوا تھا۔ اسی لیے امام حسینؑ کی عظمت صرف مسلمانوں کے دلوں تک محدود نہیں رہی دنیا کے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور فکری روایتوں سے تعلق رکھنے والے مفکرین، ادیبوں، دانش وروں اور سیاسی قائدین نے بھی انہیں احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
حضرت امام حسینؑ نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ بتولؑ اور فرزندِ علیؑ ہیں، لیکن ان کی شناخت ان نسبتوں سے کہیں وسیع تر ہے۔ انہوں نے اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی قربانی کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ حق کی سربلندی اور انسانی وقار کی حفاظت کے لیے جان کی بازی لگانا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ امام حسینؑ ایک فکر، ا نظریہ، ضابطۂ حیات اور ظلم کے مقابل ضمیر کی آزادی کا استعارہ ہیں۔
اس حقیقت کو برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق رباعی میں نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سرداد، نداد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ
یہ رباعی دراصل فلسفۂ حسینی کا نچوڑ ہے۔ امام حسینؑ ظاہری اقتدار کے نہیں روحانی، اخلاقی اور فکری بادشاہت کے وارث تھے۔ ان کا کردار ہر دور کے مظلوم کو امید، حوصلہ اور انصاف کا یقین عطا کرتا ہے۔
اردو ادب کے ممتاز افسانہ نگار منشی پریم چند نے واقعۂ کربلا کی عالمگیر معنویت کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا:
"معرکۂ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے، اور شاید آخری بھی، جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور جس کی بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے۔”
معروف ہندو شاعر رام پرکاش ساحر نے اپنے عقیدت بھرے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
ہے حق و صداقت مرا مسلک
ساحر ہندو بھی ہوں، شبیر کا شیدائی بھی
مغربی مفکر جی۔ بی۔ ایڈورڈ کے نزدیک امام حسینؑ وہ عظیم ہیرو ہیں جنہوں نے اپنے بے مثال کردار اور قربانی سے اسلام کو نئی زندگی عطا کی۔ ان کے مطابق اگر امام حسینؑ ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے تو حق، انصاف، رحم، وفا اور انسانیت کی بہت سی اقدار تاریخ کے صفحات سے مٹ جاتیں۔
مہاراج یوربند سرنٹور سنگھ نے امام حسینؑ کی قربانی کو پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ تہذیبوں کی ترقی عظیم قربانیوں کی مرہونِ منت ہوتی ہے، اور امام حسینؑ نے اپنے عمل سے انسانی اصولوں کی ایسی حفاظت کی جس کی دوسری مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امام حسینؑ، انسانیت کی ابدی روشنی
سوامی شنکر آچاریہ کے نزدیک امام حسینؑ کی شہادت خیر اور حق کی بقا کی ضمانت ہے۔ ان کے بقول اگر امام حسینؑ نہ ہوتے تو دنیا نیکی اور اخلاقی جرأت کی ایک عظیم مثال سے محروم رہ جاتی۔
مشہور انگریز ناول نگار چارلس ڈکنز نے امام حسینؑ کی جدوجہد کے خلوص اور مقصدیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"اگر امام حسینؓ کی جنگ اقتدار یا دنیاوی مفادات کے لیے ہوتی تو میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان کے ساتھ خواتین اور بچے کیوں ہوتے۔ اس سے واضح ہے کہ ان کی قربانی ایک اعلیٰ مقصد کے لیے تھی۔”
بھارت کی نامور شاعرہ اور سماجی رہنما سروجنی نائیڈو نے امام حسینؑ کو ایسا عظیم انسان قرار دیا جس کا احترام ہر مذہب اور ہر قوم کے لوگ دل سے کرتے ہیں۔
روسی ادیب اور مفکر لیو ٹالسٹائی نے امام حسینؑ کو ان انقلابی رہنماؤں میں ممتاز قرار دیا جو ظالم حکمرانوں کے سامنے حق اور عدل کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے کہا کہ امام حسینؑ کی شہادت کسی ایک ملک، قوم یا مذہب کی میراث نہیں پوری انسانیت کے لیے اخوت، ایثار اور انسانی بقا کا پیغام ہے۔
مہاتما گاندھی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ظلم اور جبر کے مقابل ڈٹے رہنے کا سبق امام حسینؑ سے سیکھا۔ ان کے مطابق اخلاقی قوت اور اصولی استقامت ہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے، اور کربلا اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔
عالمی انعام یافتہ شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے امام حسینؑ کی قربانی کو اس حقیقت کی زندہ دلیل قرار دیا کہ حق و انصاف کی فتح کے لیے ہمیشہ ہتھیار اور افواج ضروری نہیں ہوتیں، بعض اوقات قربانی خود سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کے مطابق امام حسینؑ نے چودہ سو برس قبل اپنی جان قربان کی، مگر ان کی روح آج بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو نے امام حسینؑ کی قربانی کو پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ راہِ حق پر استقامت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا نے اعتراف کیا کہ قید و بند کی سختیوں کے دوران انہیں واقعۂ کربلا اور امام حسینؑ کی استقامت سے حوصلہ اور طاقت حاصل ہوتی رہی۔
فرانسیسی مصنف کابریل انگری نے لکھا:
"عاشورا کی قربانی نے امام حسین علیہ السلام کو تاریخ میں امر کر دیا۔”
جبکہ جرمن مؤرخ کورت فریشلر کے بقول:
"امام حسینؑ کی قربانی نے اسلامی تاریخ کو ایک نئی جہت عطا کی۔”
واقعۂ کربلا کا سب سے بڑا درس ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، لیکن تاریخ کا حتمی فیصلہ ہمیشہ حق کے حق میں ہوتا ہے۔ امام حسینؑ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصول مصلحتوں سے بلند ہوتے ہیں، ضمیر کی آزادی ہر جبر سے بڑی نعمت ہے، اور حق کی خاطر دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں علم، خدمت اور قومی وقار کی روشن شام
اسی لیے آج بھی دنیا کے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے کروڑوں انسان امام حسینؑ کو حق، آزادی، عدل اور انسانی وقار کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی عظمت کا سب سے بڑا ثبوت کربلا کی سرزمین سے اٹھنے والی صدائے حق آج بھی انسانی ضمیر کو جھنجھوڑتی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔
جوش ملیح آبادی نے اسی عالمگیر حقیقت کو ان الفاظ میں سمو دیا :
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسینؑ
بلاشبہ امام حسینؑ کو صرف ایک مذہبی شخصیت کے طور پر دیکھنا ان کے آفاقی کردار کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ امام حسینؑ انسانیت کے مشترکہ ضمیر، حق کے ابدی علمبردار اور ظلم کے خلاف ہمیشہ بلند رہنے والی وہ آواز ہیں جو رہتی دنیا تک انسان کو عزت، آزادی اور سچائی کا درس دیتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ صرف مسلمانوں کے نہیں، پوری انسانیت کے امام ہیں۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

