تازہ ترین
امام حسینؑ، انسانیت کی ابدی روشنی
تحریر: نثار حسین
دے کے سر شبیرؑ نے اسلام زندہ کر دیا
کربلا کو جس کے سجدے نے معلیٰ کر دیا
تاریخِ انسانیت میں امام حسین علیہ السلام کی شخصیت زمان و مکان کی حدود سے بلند حق، عدل اور حریت کی دائمی علامت بن چکی ہے۔انہوں نے دنیا میں ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال تاریخ رقم کر دی حضرت امام حسینؑ کی حیاتِ مبارکہ اور قربانی ہر دور کے مظلوم، حق پسند اور باوقار انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ کربلا صرف تاریخی واقعہ نہیں ظلم و جبر کے مقابلے میں انسانی ضمیر کی فتح کا وہ استعارہ ہے جو قیامت تک زندہ رہے گا۔
امام حسینؑ کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضائل و مناقب سے نوازا۔ آپؑ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نواسے، حضرت علی المرتضیٰؑ اور حضرت فاطمۃ الزہراؑ کے فرزند اور اہلِ بیتِ اطہارؑ کے درخشاں ستارے ہیں۔ واقعۂ مباہلہ میں آپؑ کی شمولیت نے قرآنِ کریم کی رو سے آپؑ کو "فرزندِ رسول” کے مقام پر فائز کیا۔ آپؑ اصحابِ کسا میں شامل ہیں اور آیتِ تطہیر کی عظیم بشارت بھی اہلِ بیتؑ ہی کے لیے نازل ہوئی۔
رسولِ اکرم ﷺ نے امام حسنؑ اور امام حسینؑ سے اپنی بے مثال محبت کا اظہار کرتے ہوئے امت کو بھی ان سے محبت کی تلقین فرمائی۔ متعدد احادیثِ مبارکہ میں آپؑ کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
"حسن علیہ السلام اور حسین علیہ السلام جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
ایک اور مشہور ارشاد میں آپؐ نے فرمایا:
"حسینؑ چراغِ ہدایت اور کشتیِ نجات ہیں۔”
یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کا نام صرف مذہبی شخصیت کے طور پر نہیں حق و باطل کے درمیان ابدی معیار کے طور پر لیا جاتا ہے۔ آپؑ نے اپنے کردار، صبر، استقامت اور قربانی کے ذریعے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ کر لینا آسان ضرور ہے، مگر حق کی سربلندی کے لیے ہر قربانی دینا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں علم، خدمت اور قومی وقار کی روشن شام
اموی حکمران معاویہ نے اپنی وفات سے قبل امام حسنؑ علیہ السلام کے ساتھ ہونے والے معاہدۂ صلح کی روح کے برعکس اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کیا۔ 60 ہجری میں معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے امام حسینؑ سے بیعت کا مطالبہ کیا، مگر آپؑ نے ظلم، جبر اور نااہلی کی علامت بن جانے والی حکومت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔
مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کوفہ کی جانب سفر دراصل سیاسی یا عسکری مہم نہیں، حق و صداقت کی بقا کے لیے عظیم اخلاقی جدوجہد تھی۔ اہلِ کوفہ کی دعوت پر روانہ ہونے والے امام حسینؑ کو کربلا کے میدان میں روک لیا گیا۔ بالآخر 10 محرم الحرام 61 ہجری، مطابق 10 اکتوبر 680ء کو وہ معرکہ برپا ہوا جس نے تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیتؑ، عزیزوں اور وفادار ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کیا، مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔
شاہ است حسینؑ، بادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ، دین پناہ است حسینؑ
سر داد، نداد دست درِ دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ
کربلا کا سب سے بڑا درس یہ ہے کہ حق کی راہ میں تعداد، وسائل اور ظاہری قوت فیصلہ کن نہیں ہوتے صداقت، استقامت اور ایمان اصل قوت ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ نے ظلم و جبر کے ایوانوں کو للکار کر ثابت کر دیا کہ باطل وقتی طور پر غالب نظر آ سکتا ہے، مگر اس کا انجام شکست اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔
امام حسینؑ کی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو صبر و استقامت ہے۔ بچپن میں اپنے نانا رسولِ اکرم ﷺ اور والدہ حضرت فاطمۃ الزہراؑ کی جدائی، جوانی میں حضرت امام حسنؑ کی مظلومانہ شہادت، اور پھر کربلا کے بے مثال مصائب ہر مرحلے پر آپؑ صبر و رضا کا پیکر بنے رہے۔ آج دنیا کا ہر صاحبِ شعور انسان، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، قوم یا خطے سے ہو، امام حسینؑ کی عظمت کے سامنے سرِ عقیدت جھکاتا ہے۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ
عظیم مفکرین اور دانشوروں نے بھی امام حسینؑ کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے کربلا کو اسلام کی حیاتِ نو کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغِ حسرت میری است
یہ بھی پڑھیں: میلبورن میں محبت کا ذائقہ، چنیوٹی کنہ
علامہ اقبالؒ کے نزدیک امام حسینؑ "امامِ عشق” ہیں، کیونکہ عشق ہی وہ قوت ہے جو انسان کو حق کے لیے ہر قربانی دینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ اقبالؒ کبھی انہیں وارثِ علومِ قرآن کہتے ہیں، کبھی حق و باطل کے درمیان ابدی معیار قرار دیتے ہیں، کبھی رسمِ شبیری کو رازِ حیات بتاتے ہیں، اور کبھی فقرِ حسینی کو انسانیت کی نجات کا راستہ قرار دیتے ہیں۔
واقعۂ کربلا دراصل دائمی پیغام ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی بھی جرم ہے اور حق کی حمایت ایمان کا تقاضا۔ امام حسینؑ نے امت کو اپنے عمل سے سکھایا کہ اصولوں کی حفاظت کے لیے جان قربان کی جا سکتی ہے، مگر حق کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔
آج جب دنیا ظلم، ناانصافی، استحصال اور اخلاقی بحرانوں سے دوچار ہے، تو کربلا کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امام حسینؑ کی حیاتِ طیبہ ہمیں حوصلہ، استقامت، خودداری اور حق گوئی کا درس دیتی ہے۔ کربلا صرف واقعہ نہیں مسلسل تحریک ہے، جو ہر دور میں انسانیت کو بیدار کرتی رہے گی۔
موت امام حسینؑ کی بارگاہ میں دست بستہ کھڑی رہتی ہے، کیونکہ زندگی کا حقیقی وقار حق کے لیے جینے اور حق کے لیے قربان ہونے میں ہے۔
-
پاکستان3 مہینے agoحکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا
-
پاکستان4 مہینے agoسونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پاکستان6 مہینے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
پاکستان4 مہینے agoپیرکوعام تعطیل کا اعلان
-
پاکستان9 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو8 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
پاکستان3 مہینے agoسونے کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز کمی، پاکستان میں سونا 8700 روپے مزید سستا ہوگیا
-
پاکستان3 مہینے agoپاکستان میں سونے کی قیمت میں یکدم بڑی کمی

