پاکستان
شدت پسند تنظیموںپرپابندی سے پہلے انکو استعمال کرنیوالے سرپرستوں کا احتساب ناگزیر ہے،جاوید لطیف
اسلام آباد(صدائے سچ نیوز )مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے شدت پسند تنظیموں، ریاستی پالیسی، اور حالیہ سیاسی پیش رفت پراپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تنظیموں پر پابندی صرف آغاز ہے، اصل سوال ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور احتساب کا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی نافذ کرنا درست قدم ہے مگر اس سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا کیونکہ ماضی میں پابندی کے بعد مختلف شدت پسند گروہ نئے ناموں کے تحت سرگرمیاں جاری رکھتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی لگانے سے پہلے ان کے سہولت کاروں، سرپرستوں اور وہ افراد جانچے جائیں جنہوں نے راتوں رات انہیں سیاسی یا مقاصدی فوائد کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے فیض آباد دھرنے اور اس کے بعد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتِ عالیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔ میاں جاوید لطیف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض واقعات کا فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف مناسب تفتیش یا تعاقب نہیں کیا گیا، اور بعض عدالتی شخصیات کے خلاف ریفرنسز اور تذلیل کے مناظر سامنے آئے جن پر سوالات اٹھائے جانے چاہئیں۔
پروگرام کے دوران انہوں نے نام لے کر کئی سابق سکیورٹی عہدیداروں کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ پالیسی سازوں کو ان لوگوں کے اقدامات کا احتساب کرنا چاہیے جن کے عمل سے ریاستی مفادات کو نقصان پہنچا۔ میاں جاوید لطیف نے نشاندہی کی کہ جب بھی ملک میں خونریزی ہوئی یا کسی قیمتی جان کا نقصان ہوا تو اس کے پسِ پردہ عام طور پر طاقت ور عناصر یا سہولت کار نظر آتے ہیں۔
ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ جماعتی سرپرستی اور سیاسی مقاصد کے تحت بنائی گئی تنظیموں کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چھان بین کی جائے تو پتہ چلے گا کہ کن قوتوں نے کن حالات میں، کس مقصد کے لیے، اور کن افراد کی سرپرستی میں یہ گروہ تشکیل پائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
خیبر پختونخواہ کی صورتِ حال اور صوبائی سیاست پر بات کرتے ہوئے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ صوبے میں اکثریت کا احترام ضروری ہے اور اکثریتی نمائندوں کو تکنیکی یا غیر شفاف طریقوں سے کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار کا احترام ہر سیاسی جماعت کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی کے حوالے سے معاملات پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدوار کھڑے کرنے اور جمہوری طریقے سے انتخاب لڑنے کا حق استعمال کیا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ جس کے پاس اکثریت ہوگی وہ اپنا امیدوار لائے گا اور منتخب ہوگا اور اس اصول کو ریاستی و قانونی نقط نظر سے درست قرار دیا۔
قیدیوں، خاص طور پر سیاسی قیدیوں کے حقوق کے مسئلے پر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ قیدیوں کے بنیادی حقوق اور اہلِ خانہ سے ملاقات جیسی سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی بعض شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو حقوق سے محروم رکھا گیا تو یہ عدالتی اور انسانی نقط نظر سے قابلِ قبول نہیں۔
میاں جاوید لطیف نے آخر میں حکومت اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ شدت پسندانہ رجحانات کے خلاف جامع حکمتِ عملی اپنائیں، آئینی و عدالتی طریقہ کار کو سامنے رکھیں اور عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے شفاف تفتیشیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ پابندی لگانے سے معاملہ ختم نہیں ہوتا، اصل کام سہولت کاروں کی نشاندہی اور ان کا احتساب ہے۔
-
پاکستان2 ہفتے agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو2 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان2 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
پاکستان3 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
اوورسیز پاکستانیز2 ہفتے agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات
-
پاکستان1 مہینہ agoملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت

