پاکستان
نوٹیفکیشن کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی مؤثر ہوجائے گی، سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی : رانا ثنااللہ
اسلام اآباد(صدائے سچ نیوز)وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا تو پابندی نافذ ہوجائے گی، سپریم کورٹ سے منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے ٹی ایل پی پر پابندی کے لیے ریفرنس بھیجا گیا تھا، جس پر چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی، جس کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی کی منظوری دی گئی ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے، یہ امن و امان کے معاملات کو دیکھ کر کیا گیا ہے۔ ٹی ایل پی کے خلاف ثبوت موجود ہیں، یہ فیصلہ صرف خدشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :شدت پسند تنظیموں پرپابندی سے پہلے انکو استعمال کرنیوالے سرپرستوں کا احتساب ناگزیر ہے،جاوید لطیف
انہوں نے کہا کہ 2018 میں بھی ٹی ایل پی کا فیض آباد میں دھرنا پرتشدد تھا، جس پر پہلے ہائیکورٹ اور پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا۔ اس کے بعد 2021 میں اس وقت کی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی تھی، تاہم تحریری یقین دہانی کے بعد پابندی ہٹائی گئی کہ آئندہ پرتشدد احتجاج نہیں ہوگا، لیکن ٹی ایل پی نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی نے دوبارہ وہی پرتشدد راستہ اپنایا جو 2018 اور 2021 میں اپنایا گیا تھا۔ ٹی ایل پی کے خلاف ثبوت موجود ہیں کہ وہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو زخمی یا قتل کیا، لوٹ مار کی، اور لاہور سے مریدکے تک مختلف جرائم میں ملوث رہی۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ٹی ایل پی کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف لانچ کیا گیا تھا۔ حلقہ این اے 120، جہاں سے نواز شریف الیکشن لڑتے رہے ہیں، وہاں بریلوی ووٹ مسلم لیگ (ن) کا تھا، اسے تقسیم کرنے کے لیے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ٹی ایل پی کو کھڑا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی منظوری دے دی
انہوں نے واضح کیا کہ بریلوی مسلک، بریلوی مساجد یا مدارس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جارہی۔ تمام مذہبی مسالک بشمول بریلوی مسلک لائقِ احترام ہیں۔ کسی مسجد یا مدرسے پر قطعاً کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کا عقیدے سے متعلق معاملہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے عشق و عقیدت کا اظہار ہے، جو لائقِ احترام جذبہ ہے۔ تاہم جب کسی جماعت میں تشدد شامل ہوجائے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہوتی ہے، اور ٹی ایل پی کے خلاف کارروائی اسی حد تک محدود رہے گی۔ مذہبی معاملات پر کوئی پابندی نہیں لگائی جارہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی پولیس کی حراست میں نہیں ہیں، تاہم انہیں گرفتار کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
رانا ثنااللہ نے بتایا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا معاملہ سپریم کورٹ میں نہیں جائے گا۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے، اور اس حوالے سے وزارتِ داخلہ کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اگر ٹی ایل پی کا کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی میں موجود ہے تو اسے ڈی نوٹیفائی کیا جائے گا۔ البتہ ٹی ایل پی اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرسکتی ہے۔
-
پاکستان1 مہینہ agoاہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلاف ورزی، چیئرمین عوام دوست گروپ تنویر عباسی
-
ایکسکلوسِو4 مہینے agoانٹیلی جنس ایجنسیوں کے5 نامزدافسران پر اعتراضات، بیرون ملک پریس قونصلر، اتاشیوں کی پوسٹنگ کامعاملہ لٹک گیا
-
ایکسکلوسِو4 ہفتے agoپریس قونصلر اورپریس اتاشی کی پوسٹوں کیلئے نامزد 8 افسران کا وزیراعظم کیساتھ انٹرویو، حتمی منظوری جلد متوقع
-
پاکستان4 مہینے agoاسلام آباد پولیس کا نیشنل پریس کلب پر دھاوا، صحافیوں پر بدترین تشدد، انسانی حقوق تنظیموں کی مذمت
-
ایکسکلوسِو3 مہینے agoسیکرٹری اطلاعات کی پوسٹ کیلئے پانچ افسران کا انٹرویو، طارق خان بھی شامل
-
پاکستان3 مہینے agoمسلم لیگ (ن) کے رہنما افتخار احمد چیمہ انتقال کر گئے
-
پاکستان3 مہینے agoخدا نخواستہ 600 افراد جاں بحق ہوئے تو لاشیں کہاں ہیں؟،مریم نواز
-
اوورسیز پاکستانیز1 مہینہ agoبرطانیہ میں ازدواجی تحلیل: رجحانات، خدشات اور اصلاحی اقدامات

