Connect with us

پاکستان

معرکہ حق، پاکستان کی اسٹریٹجک برتری

marka-e-haq-1

جنوبی ایشیا کی تاریخ میں پاک بھارت کشیدگی ہمیشہ ایک حساس موضوع رہی ہے، مگر گزشتہ برس ہونے والا فوجی و سفارتی تنازع ایک ایسے موڑ پر پہنچا جس نے نہ صرف خطے کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی پر مجبور کردیا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود اس تنازع کے اثرات آج بھی جنوبی ایشیا کی سیاست، دفاعی توازن اور سفارتی ماحول پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں اس صورتحال کو ایک بڑی اسٹریٹجک، عسکری اور سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ قومی سطح پر بھی فتح اور اتحاد کا جذبہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔

یہ بحران جس نے خطے کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا تھا، پاکستان کے لیے ایک ایسے موقع میں تبدیل ہوگیا جس نے نہ صرف اس کی دفاعی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا بلکہ قومی اتحاد، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کو بھی نئی طاقت بخشی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس پورے بحران میں جس شخصیت نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تھے، جنہیں پاکستان میں مضبوط قیادت، حکمت عملی اور قومی سلامتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی کے دوران اور اس کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی سب سے نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔ حکومتی حلقوں، دفاعی ماہرین اور عوامی سطح پر انہیں ایسی قیادت کا حامل قرار دیا گیا جس نے شدید دباؤ کے باوجود نہ صرف ملک کو متحد رکھا بلکہ دشمن کے سامنے بھرپور دفاع بھی یقینی بنایا۔ ٹی وی ٹاک شوز، اخباری اداریوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کی حکمت عملی اور قیادت کو مسلسل سراہا جاتا رہا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جدید جنگی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی جس میں فوجی تیاری، سفارتی رابطے، انٹیلی جنس تعاون اور معلوماتی جنگ کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان نہ صرف دفاعی سطح پر مستحکم رہا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا۔

پاکستان بھر میں یومِ فتح کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں پاک فوج اور عسکری قیادت کے حق میں نعرے لگائے گئے جبکہ سوشل میڈیا پر لاکھوں پیغامات اور ویڈیوز شیئر کی گئیں۔ عوامی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے نہ صرف خطرات کا بروقت مقابلہ کیا بلکہ ملک کو ایک غیر ضروری جنگ سے بھی محفوظ رکھا۔

بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کے ردعمل نے کئی عالمی مبصرین کو حیران کردیا۔ دنیا کو توقع تھی کہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف جائے گی، مگر پاکستان نے محتاط مگر مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے فضائی دفاع، نگرانی کے نظام، سائبر سیکیورٹی، انٹیلی جنس تعاون اور تیز رفتار ردعمل کے شعبوں میں اپنی جدید صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔

اسلام آباد میں موجود دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ثابت کردیا کہ پاکستان جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنی عسکری طاقت کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔ فضائی نگرانی کے جدید نظام، میزائل دفاعی حکمت عملی اور بروقت انٹیلی جنس معلومات نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی پوزیشن فراہم کی۔ اس دوران پاکستانی عوام میں حب الوطنی کے جذبات بھی عروج پر رہے اور لاکھوں افراد نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے حق میں مہمات چلائیں۔

گزشتہ برس عالمی سیاست میں ایک اہم پہلو وہ بھی رہا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف انٹرویوز اور انتخابی تقاریر میں جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک کے درمیان جارحانہ رویہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

پاکستانی سیاسی حلقوں میں ان بیانات کو بھارت کے لیے سفارتی دھچکا قرار دیا گیا جبکہ پاکستانی میڈیا نے بھی انہیں نمایاں انداز میں نشر کیا۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے نجی سفارتی رابطوں میں پاکستان کی عسکری قیادت، خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بحران کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کو سراہا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتوں نے اس دوران پاکستان کے کردار کو زیادہ سنجیدگی سے لینا شروع کیا کیونکہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر تحمل، تدبر اور سفارتی توازن کا مظاہرہ کیا۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں۔

اسی دوران مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی عالمی سیاست کو شدید متاثر کیا۔ خلیج میں فوجی تناؤ، اسرائیل ایران تنازع اور امریکی بیانات کے بعد خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔ اس حساس صورتحال میں پاکستان نے ایک بار پھر متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان نے ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھے۔ عالمی مبصرین کے مطابق پاکستان نے پسِ پردہ سفارتی سہولت کار کے طور پر اہم کردار ادا کیا تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ پاکستان نے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی کوشش کی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ سفارتی و دفاعی روابط کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے مگر اپنی قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

پاک بھارت تنازع کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے بغیر کسی واضح کامیابی کے خطے میں کشیدگی کو بڑھایا۔ متعدد بھارتی سیاسی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ آخر بھارت کو اس کشیدگی سے کیا حاصل ہوا۔

بین الاقوامی تھنک ٹینکس نے بھی اپنی رپورٹس میں لکھا کہ بھارت پاکستان کی عسکری تیاریوں اور ردعمل کی صلاحیت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ اس دوران بھارتی معیشت پر بھی دباؤ دیکھا گیا جبکہ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ عالمی میڈیا نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی عالمی معیشت اور تجارتی راستوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے چین، خلیجی ممالک، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ سی پیک، علاقائی تجارت اور دفاعی تعاون کے منصوبوں نے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔

تنازع کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔ پاکستانی حکام نے ہر عالمی فورم پر امن، مذاکرات اور خطے کے استحکام کی بات کی جبکہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح پیغام بھی دیا۔

اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سنا گیا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے فوجی طاقت اور سفارتی حکمت عملی میں توازن قائم کرکے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی۔

پاک بھارت تنازع گزشتہ سال سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے موضوعات میں شامل رہا۔ پاکستان کے حق میں چلنے والے ہیش ٹیگز کئی دنوں تک عالمی ٹرینڈز میں شامل رہے جبکہ فوجی تجزیوں، ملی نغموں اور خصوصی ڈاکیومنٹریز نے کروڑوں ویوز حاصل کیے۔ ڈیجیٹل کریئیٹرز، یوٹیوبرز اور سیاسی تبصرہ نگاروں نے اس تنازع کو پاکستان کی ’’اسٹریٹجک فتح‘‘قرار دیا۔

تنازع کی پہلی برسی پر بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز، تقاریر، دفاعی تجزیے اور فوجی کامیابیوں سے متعلق مواد بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل میں قومی شعور اور دفاعی معاملات میں دلچسپی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

ایک سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں اس کامیابی کو قومی اتحاد، عسکری طاقت، سفارتی توازن اور اسٹریٹجک صبر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی اور عسکری حلقوں کے مطابق اس بحران نے نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ قوم کو بھی متحد کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Iran Pakistan Iran Pakistan
تازہ ترین12 منٹس ago

ایران نے پاکستان کو اسلامی دنیا کا عظیم اثاثہ قرار دے دیا

تہران (صداۓ سچ نیوز) تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران  ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل...

Southern Lebanon Southern Lebanon
تازہ ترین19 منٹس ago

اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے، لبنانی فائر فائٹرز

لبنانی فائر فائٹرز نے کہا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر جنوبی لبنان کے جنگلات میں آگ لگا رہا ہے۔ ...

IG-SINDH IG-SINDH
پاکستان25 منٹس ago

میر رضا کیس میں غلطیاں ہوئیں،آئی جی سندھ کا بڑا اعتراف

آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ میررضا کیس میں غلطیاں ہوئیں اب ہم نے ازالہ کردیا ہے،نئی...

Trump Trump
تازہ ترین30 منٹس ago

ہم نے پاسداران انقلاب کو ختم کردیا ہے اور وہ فرار ہو رہے ہیں، امریکی صدر کا دعویٰ

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر...

rain-karachi rain-karachi
پاکستان36 منٹس ago

بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، بادل کہاں کہاں برسیں گے؟

پی ڈی ایم اے  نے صوبہ بھر میں مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا۔ اعلامیے کے...

Mir-Raza-New Mir-Raza-New
پاکستان47 منٹس ago

میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

کراچی (صداۓ سچ نیوز) مقتول میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے جناح اسپتال کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر...

Mohsin Naqvi and Iranian President Mohsin Naqvi and Iranian President
پاکستان9 گھنٹے ago

محسن نقوی اور ایرانی صدر کی ملاقات، بات چیت کی تفصیلات سامنے آگئیں

تہران (صداۓ سچ نیوز) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی اندرونی...

Red Sea Red Sea
پاکستان10 گھنٹے ago

بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، وزیر خارجہ کی شدید مذمت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں...

trump-iran-deal trump-iran-deal
تازہ ترین10 گھنٹے ago

آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے،ہم بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، امریکی صدر

واشنگٹن (صداۓ سچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر صورتِ حال ’اچھی سمت...

khawaja-asif khawaja-asif
پاکستان10 گھنٹے ago

امریکا اورایران امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، خواجہ آصف کا دعوی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے...

Trending