Connect with us

تازہ ترین

سعودیہ کی مشرق وسطیٰ ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت معاہدے کی تجویز پر بات چیت

SAUDIA-IRAN

ریاض (صداۓ سچ نیوز) سفارتکاروں کے مطابق سعودی عرب نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے درمیان ایک ’عدم جارحیت معاہدے‘ کی تجویز پر اتحادی ممالک کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی کو کیسے سنبھالا جائے اور اس پر غور کیا جا سکے۔

دو مغربی سفارتکاروں نے بتایا کہ ریاض 1970 کی دہائی کے ’ہیلسنکی عمل‘ (Helsinki Process) کو ایک ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس نے سرد جنگ کے دوران یورپ میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ 

خطے کے ممالک ایک ایسے بعد از جنگ ایران کا تصور کر رہے ہیں جو کمزور تو ہوگا، لیکن پھر بھی اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان سفارتکاروں کے مطابق، عدم جارحیت معاہدہ زیر غور مختلف تجاویز میں سے ایک ہے۔

خلیجی ریاستیں خاص طور پر اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد انہیں ایک زخمی مگر زیادہ سخت گیر ایرانی حکومت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی بھی کم ہوسکتی ہے۔

1975 میں امریکا، یورپی ممالک، سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کے درمیان طے پانے والے ’ہیلسنکی معاہدوں‘ کا مقصد سکیورٹی مسائل کو حل کرنا اور مخالف طاقتوں کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ 

ماضی میں بھی انہیں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک ممکنہ ماڈل قرار دیا گیا، جہاں ایران کے پڑوسی 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اسے عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت اور ممکنہ خطرہ سمجھتے رہے ہیں۔

تاہم، مہینوں پر محیط جنگ نے عرب اور مسلم ممالک میں اپنے اتحادوں اور خطے کے سکیورٹی نظام پر ازسرِ نو غور کرنے کی فوری ضرورت پیدا کر دی ہے۔ 

سفارتکاروں کے مطابق کئی یورپی دارالحکومتوں اور یورپی یونین کے اداروں نے سعودی تجویز کی حمایت کی ہے اور دیگر خلیجی ممالک کو بھی اس کی پشت پناہی پر زور دیا ہے۔ 

ان کے نزدیک یہ مستقبل کے تنازعات سے بچنے اور تہران کو یہ یقین دہانی کرانے کا بہترین طریقہ ہے کہ اس پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔

امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے پسِ پردہ مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم یہ مذاکرات زیادہ تر ایران کے جوہری پروگرام تک محدود ہیں جبکہ اس کے میزائل، ڈرون پروگرام اور علاقائی اتحادی گروہوں کی حمایت عرب ممالک کے لیے بنیادی تشویش ہیں۔

ایک عرب سفارتکار نے کہا کہ ہیلسنکی طرز کے عدم جارحیت معاہدے کا زیادہ تر عرب اور مسلم ممالک اور خود ایران بھی خیرمقدم کرے گا۔ ایران طویل عرصے سے امریکا اور مغربی طاقتوں کو یہ پیغام دیتا آیا ہے کہ خطے کے معاملات خطے کے ممالک کو خود سنبھالنے دیے جائیں۔

سفارتکار کے مطابق یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ اس میں کون شامل ہوگا۔ موجودہ حالات میں ایران اور اسرائیل کو ایک ساتھ لانا ممکن نہیں لگتا۔ 

اگر اسرائیل شامل نہ ہوا تو یہ معاہدہ الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران کے بعد اسرائیل کو خطے میں سب سے بڑا تنازع پیدا کرنے والا فریق سمجھا جا رہا ہے لیکن ایران کہیں نہیں جارہا، اسی لیے سعودی عرب اس خیال کو آگے بڑھا رہا ہے۔

ایران نے امریکا-اسرائیل جنگ کے جواب میں خلیجی ممالک پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کی، توانائی تنصیبات اور شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا اور عملاً آبنائے ہرمز بند کر دی۔ اس سے اس کے چھوٹے پڑوسی ممالک کے لیے اس کے ممکنہ خطرات مزید واضح ہو گئے۔

دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کے فوجی اقدامات پر بھی عرب اور مسلم ممالک میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے کئی ممالک کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایسی جنگ میں دھکیلا جس کی انہوں نے مخالفت کی تھی۔

لبنان میں حزب اللّٰہ، غزہ میں حماس کے خلاف کارروائیوں اور جنوبی شام کے بعض حصوں پر قبضے کے باعث اسرائیل کو اب بہت سے عرب اور مسلم ممالک ایک جارح اور عدم استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

عرب اور مسلم ممالک کے درمیان بھی اختلافات موجود ہیں، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جو خلیج کی دو سب سے بااثر ریاستیں ہیں۔ دونوں کے خطے کے بارے میں مختلف تصورات اور معاشی مسابقت پائی جاتی ہے۔

متحدہ عرب امارات جنگ کے دوران ایران کے خلاف سب سے سخت مؤقف رکھنے والی خلیجی ریاست رہا ہے اور اس نے عرب اداروں پر ایرانی جارحیت کے خلاف کمزور ردعمل کا الزام لگایا ہے۔ 

امارات نے واضح کیا ہے کہ جنگ کے بعد وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرے گا، دو سفارتکاروں نے سوال اٹھایا کہ آیا امارات کسی ایسے معاہدے میں شامل ہونے پر آمادہ ہوگا یا نہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی زیادہ حمایت کی ہے۔ 

سعودی عرب پاکستان، ترکی اور مصر کے ساتھ ابھرتے ہوئے ایک نئے اشتراک کا حصہ بن رہا ہے۔ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان نے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

سفارتکاروں کے مطابق اگرچہ یہ ممالک باضابطہ اتحاد میں شامل نہیں، لیکن جنگ کے بعد دفاع، خارجہ پالیسی اور معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے کا امکان ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیر کو کہا کہ اسلام آباد نے قطر اور ترکی کو سعودی-پاکستانی دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کی تجویز تیار کی ہے تاکہ ایک معاشی اور دفاعی اتحاد قائم کیا جا سکے جو خطے کو بیرونی انحصار سے کم کرے۔

ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق دفاعی معاہدے کو وسعت دینے کا خیال جنگ سے پہلے ہی زیر غور تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

abbas-araghchi abbas-araghchi
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

انسانی حقوق کے معاملے پر ہمیں لیکچر دینے والے خود کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رکھتے، ایران کی یورپی یونین پر تنقید

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کے حوالے سے یورپی یونین کے بیانات کو مسترد...

makkah-defense-pact makkah-defense-pact
تازہ ترین1 گھنٹہ ago

مصر مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کرنے لگا

قاہرہ (صداۓ سچ نیوز) مصر نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے...

NADRA NADRA
پاکستان2 گھنٹے ago

نادرا نے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرادیا

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی...

president-zardari-meets-prime-minister- president-zardari-meets-prime-minister-
پاکستان2 گھنٹے ago

صدر زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات، مکہ دفاعی معاہدے، قومی سلامتی اوردہشتگردی کے خاتمے پراہم مشاورت

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) صدر آصف علی زرداری اور  وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس دوران اہم...

Mir-Raza-Case Mir-Raza-Case
پاکستان2 گھنٹے ago

میر رضا کیس، لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں کے اہم انکشافات

کراچی (صداۓ سچ نیوز) کراچی میں میر رضا کیس میں لاش اٹھانے والے ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ اور لاش...

petrol-and-diesel petrol-and-diesel
پاکستان2 گھنٹے ago

ای سی سی نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دیدی

اسلام آباد (صداۓ سچ نیوز) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرول اورڈیزل پر ڈیلرز مارجن 1 روپے 34...

gold-rate gold-rate
پاکستان2 گھنٹے ago

خریداروں کےلیے خوشخبری، مارکیٹ میں سونا سستا ہوگیا

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی ہوئی اور یہ ہفتہ وار خسارے کی جانب گامزن رہیں...

Flag Flag
پاکستان2 گھنٹے ago

پاکستان کا 79 واں یومِ آزادی، پاک فوج کی جانب سے ملک بھر میں پرچم کشائی کی شاندار تقریبات

پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر جنرل ہیڈکوارٹرز اور مسلح افواج کے تمام ہیڈکوارٹرز میں پرچم کشائی...

missiles missiles
تازہ ترین2 گھنٹے ago

ایران کی جوہری صلاحیت برقرار ہے، امریکا میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں ناکام رہا، احمد خاتمی

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی  مجلس خبرگان رہبری کے رکن احمد خاتمی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کی میزائل...

ibrahim razaei ibrahim razaei
تازہ ترین3 گھنٹے ago

غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کے نتیجے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کافیصلہ کن جواب دیا جائیگا، ایران کا خطے کے ممالک کو پیغام

تہران (صداۓ سچ نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے جمعے کے روز...

Trending