Connect with us

تازہ ترین

رینگتا ہوا انصاف

Muhammad Maqsood Khan Advocate

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ

شہر کے پرانے حصّے میں ایک بوسیدہ عدالت کھڑی ہے۔
اس کی دیواریں نمی سے پھولی ہوئی ہیں، راہداریوں میں پرانی فائلوں کی باسی بو تیرتی ہے، اور زنگ آلود پنکھے ایسے آواز کرتے ہیں جیسے ہر گھومتے پر کے ساتھ کسی مظلوم کی آہ نکل رہی ہو۔

آج یہاں غیر معمولی رش ہے۔
لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں۔
وکیل اپنی سیاہ پوشاکیں سنبھالے اِدھر اُدھر چل رہے ہیں۔ پولیس والے اونگھتے ہوئے دروازے کے پاس کھڑے ہیں۔
اور ایک کونے میں…
ایک بوڑھا آدمی اپنی لاٹھی پکڑے خاموش بیٹھا ہے۔

یہ بابا کریم بخش ہیں۔
ستر برس کی عمر…
جھکی ہوئی کمر…
میلی سی پگڑی…
اور آنکھوں میں وہ انتظار جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

آج ان کے مقدمے کا فیصلہ آنا ہے۔
وہی مقدمہ…
جو پندرہ سال پہلے صرف “دو کنال زمین” سے شروع ہوتا ہے۔
مگر حقیقت میں وہ صرف زمین کا جھگڑا نہیں ہوتا…

یہ بھی پڑھیں: بے حس معاشرے کا اعلانِ وفات

وہ ایک غریب آدمی کی عزت، اُس کی زندگی اور انصاف پر یقین کا مقدمہ ہوتا ہے۔
پندرہ سال پہلے…
بابا کریم بخش کے چھوٹے بھائی اللہ دتہ کی وفات ہوتی ہے۔

مرنے سے پہلے وہ اپنی دو کنال زمین بابا کریم بخش کے نام کر جاتا ہے، کیونکہ اُس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہوتی۔
مگر مرنے کے چند دن بعد ہی گاؤں کا بااثر زمیندار چوہدری ریاض زمین پر قبضہ کر لیتا ہے۔
جب بابا کریم بخش احتجاج کرتے ہیں تو چوہدری ہنستا ہے۔

"او بابا… عدالتوں میں صرف کاغذ نہیں چلتے… پیسہ چلتا ہے!”
بابا کریم بخش سیدھے تھانے پہنچتے ہیں۔
تھانے کا ماحول عجیب ہوتا ہے۔
میلی کچیلی دیواریں ، میز پر پڑے چائے کے داغ، اور ہوا میں پسینے اور سگریٹ کی ملی جلی بدبو۔
تھانے دار رانا شوکت کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا ہے۔

وہ بابا کی درخواست سنتا ہے… پھر مونچھوں کو تاؤ دے کر دھیرے سے کہتا ہے:
"بابا… پانچ ہزار دے دو۔ ابھی قبضہ خالی کروا دیتا ہوں۔”
بابا کریم بخش کی آنکھیں پھیل جاتی ہیں۔
"میں رشوت نہیں دے سکتا!”
تھانے دار سگریٹ سلگاتا ہے اور بے اعتنائی سے کہتا ہے
” تو پھر عدالت کے دھکے کھاو اور انصاف کے لئے جوتے گھساو۔”

بابا کریم بخش غصّے سے کانپتے ہوئے تھانے سے نکل آتے ہیں۔
انہیں یقین ہوتا ہے کہ عدالت میں سچ ضرور جیتے گا۔
مگر انہیں کیا معلوم…
کہ سچ جیتتے جیتتے انسان ہار جاتا ہے۔

پھر ایک عدالتی سفر شروع ہوتا ہے۔
تاریخ پر تاریخ…
تاریخ پر تاریخ…
ہر پیشی پر ایک نیا خرچ۔
کبھی وکیل بیمار۔
کبھی جج صاحب چھٹی پر۔
کبھی مخالف پارٹی کی درخواست۔
کبھی فائل گم۔
بابا کریم بخش اپنی بھینس بیچ دیتے ہیں۔
پھر آدھا گھر۔
پھر بیوی کے زیور۔
ایک دن ان کی بیوی زینب کھانستے کھانستے کہتی ہے:
"کریم… یہ عدالت تمہیں انصاف دے گی یا قبر؟”
بابا خاموش رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت میں جڑتے دو دل

چند مہینوں بعد زینب اس دار فانی سے کوچ کر جاتی ہے۔
اور بابا کریم بخش پہلی بار عدالت کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر روتے ہیں۔
آج… پندرہ سال بعد…
فیصلے کا دن آیا ہے۔

کمرۂ عدالت بھرا ہوا ہے۔
جج سلیم اختر فائل بند کرتے ہیں۔
"بابا کریم بخش… عدالت آپ کے حق میں فیصلہ سناتی ہے۔ زمین آپ کی ملکیت قرار دی جاتی ہے۔”
کمرۂ عدالت میں شور مچ جاتا ہے۔

کوئی کہتا ہے:
"آخر انصاف مل گیا!”
کوئی تالیاں بجاتا ہے۔
مگر بابا کریم بخش خاموش رہتے ہیں۔

پھر آہستہ سے کہتے ہیں:
"اللہ آپ کو تھانے دار بنائے، پُتر!”
کمرۂ عدالت میں دبی ہنسی پھیل جاتی ہے۔

جج صاحب مسکرا کر کہتے ہیں:
"باباجی، جج تھانے دار سے بڑا ہوتا ہے۔”
بابا فوراً سر اٹھاتے ہیں۔
ان کی آواز میں اچانک درد اتر آتا ہے۔
"نہیں پُتر… تھانے دار بڑا ہوتا ہے۔”

جج حیرانی سے پوچھتے ہیں۔
"وہ کیسے بابا جی؟”
بابا کریم بخش لرزتی آواز میں بولتے ہیں:
"پندرہ سال پہلے تھانے دار نے کہا تھا … پانچ ہزار دے دو، انصاف آج ہی مل جائے گا۔”

کمرۂ عدالت خاموش ہو جاتا ہے۔

"میں نے تھانے دار سے کہا … نہیں! میں عدالت سے انصاف لوں گا۔”
بابا کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔
"پھر میں عدالت آ جاتا ہوں…”
وہ اپنی لاٹھی مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔
"اور پندرہ سال میں…
میری بیوی مر جاتی ہے…
میرا گھر بک جاتا ہے…
میری جوانی ختم ہو جاتی ہے… میری آنکھوں کی روشنی چلی جاتی ہے…”
ان کی آواز ٹوٹ جاتی ہے۔
"اور آج… جب فیصلہ آیا ہے… تو زمین پر فصلیں اگانے کی طاقت بھی نہیں بچی”
کمرۂ عدالت پر قبر جیسی خاموشی چھا جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قربانی

بابا کریم بخش جج کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں۔
"اب آپ ہی مجھے بتاؤ … بڑا کون ہے؟ جج یا تھانے دار”
جج سلیم اختر کے ہونٹ کانپنے لگتے ہیں۔ چہرہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح زرد پڑ جاتا ہے-
ان کے سامنے رکھی موٹی فائل اچانک راکھ جیسی ہلکی محسوس ہونے لگتی ہے۔

باہر آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔
بارش برسنا شروع ہو جاتی ہے۔
اور عدالت کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے بابا کریم بخش کی لاٹھی کی آواز پورے نظامِ انصاف پر ایک سوالیہ نشان بن کر گونجتی رہتی ہے "اس دیس کا تھانیدار بڑا ہے”۔

Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں

Training program for waste pickers Training program for waste pickers
پاکستان25 منٹس ago

اقوام متحدہ کا کچرا چننے والے محنت کشوں کو حقوق دلانے کا تربیتی منصوبہ

ساہیوال (صدائے سچ نیوز) پاکستان میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ٹھوس کچرے کے مسئلے اور غیر رسمی شعبے سے وابستہ...

un un
تازہ ترین2 گھنٹے ago

شمالی یمن میں غذائی قلت کی وجہ سے قحط کا خطرہ ہے،اقوام متحدہ نے خبردار کردیا

اقوام متحدہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ شمالی یمن میں غذائی قلت شدت اختیار کر رہی...

hot-weather hot-weather
پاکستان2 گھنٹے ago

کراچی: آج درجۂ حرارت 46 سے 47 ڈگری تک محسوس ہونے کا امکان

کراچی (صدائے سچ نیوز) کراچی میں آج درجۂ حرارت 46 سے 47 ڈگری تک محسوس ہونے کا امکان ہے۔ محکمۂ...

Petrol prices Petrol prices
پاکستان2 گھنٹے ago

قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرول اور ڈیزل اب بھی مہنگے

اسلام آباد (صدائے سچ نیوز) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل اب...

iranian fast attack ship iranian fast attack ship
تازہ ترین3 گھنٹے ago

ایران کی کروز میزائل داغنے کی صلاحیت سے لیس فاسٹ اٹیک کشتی متعارف

تہران (صدائے سچ نیوز) ایران نے اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ کرتے ہوئے ایک جدید فاسٹ اٹیک کشتی...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
تازہ ترین3 گھنٹے ago

رینگتا ہوا انصاف

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ شہر کے پرانے حصّے میں ایک بوسیدہ عدالت کھڑی ہے۔اس کی دیواریں نمی...

Muhammad Maqsood Khan Advocate Muhammad Maqsood Khan Advocate
تازہ ترین4 گھنٹے ago

قربانی

تحریر: محمد مقصود خان، ایڈووکیٹ، لیڈز، برطانیہ عید الاضحیٰ کی صبح اتر رہی ہے۔فضا میں تکبیر کی آوازیں گونج رہی...

ships in hormuz ships in hormuz
تازہ ترین16 گھنٹے ago

ایرانی فوج کی تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کو نئی وارننگ

تہران (صدائے سچ نیوز) ایرانی فوج نے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی اجازت...

climate change 2027 climate change 2027
تازہ ترین16 گھنٹے ago

2027 انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم سال ثابت ہوسکتا ہے،عالمی موسمیاتی ادارے نے خبردار کر دیا

عالمی موسمیاتی ادارے نےخبردارکیا ہےکہ 2026 کےاختتام پرال نینوسسٹم دوبارہ شدت اختیارکرسکتا ہے،جبکہ2027 انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم...

UN_SecurityCouncil UN_SecurityCouncil
تازہ ترین17 گھنٹے ago

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان پر پابندیاں مزید ایک سال کے لیے بڑھا دیں

نیویارک (صدائےسچ نیوز) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوبی سوڈان کے خلاف عائد اسلحہ پابندی، سفری پابندیوں اور اثاثے...

Trending